برطانیہ کی Bond Market میں دباؤ بدھ کو مزید بڑھ گیا، جہاں 10 سالہ UK Gilt Yield 5.268 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ جون 2008 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
"tplp stable stock in the bearish market" کے لیے 572 نتائج۔
برطانیہ کی Bond Market میں دباؤ بدھ کو مزید بڑھ گیا، جہاں 10 سالہ UK Gilt Yield 5.268 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ جون 2008 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
Gold Price میں Selling Pressure بڑھ گیا ہے اور XAU/USD $4,300 کے قریب Trade کر رہا ہے۔ مضبوط US Dollar اور بلند Treasury Yields گولڈ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ Fed Rate Hike کی بڑھتی ہوئی توقعات بھی Gold Demand کو متاثر کر رہی ہیں۔ Middle East tensions اور Oil Prices میں اضافہ Inflation Concerns کو بڑھا رہا ہے۔ $4,280 سے $4,300 اہم Support Area ہے۔ $4,276 کے نیچے Break سے $4,236 اور $4,111 اگلے Support Levels بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف $4,412 کے اوپر Recovery Gold کے Technical Outlook کو بہتر کر سکتی ہے۔ $4,520 اگلا اہم Resistance ہے۔ Traders کی نظر US Employment Data، ADP اور Nonfarm Payrolls پر رہے گی۔ Federal Reserve، US Dollar اور Treasury Yields بھی Gold کی اگلی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔
1.3500GBP/USD کے قریب دباؤ میں ہے۔ US Dollar کی مضبوطی نے Pound Sterling پر دباؤ بڑھایا ہے۔ US Treasury Yields بھی Dollar کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ مارکیٹ Fed کی آئندہ پالیسی پر نظر رکھ رہی ہے۔ UK میں Pound کو بھی مختلف اقتصادی خدشات کا سامنا ہے۔ Technical Analysis میں 1.3500 اہم Support ہے۔ 1.3450 اور 1.3400 اگلے Support Levels ہیں۔ اوپر 1.3550 اور 1.3600 اہم Resistance Levels ہیں۔ 1.3650 اور 1.3780 مزید اہم Resistance ہیں۔ 1.3500 سے نیچے جانے پر مزید کمی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ 1.3550 سے اوپر آنے پر recovery کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ کی توجہ اب US Jobs Data اور Fed کے اگلے فیصلے پر ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس ابتدائی کاروبار کے دوران تقریباً 1300 پوائنٹس تک گر گیا
آج ایشیائی سیشنز میں بھی عالمی بانڈ مارکیٹس میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری بانڈز کی Yields اور قرض لینے کے اخراجات کئی دہائیوں کی بلند سطحوں تک پہنچ گئے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کی ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.87 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
ریزرو بینک آف نیوزی لینڈ نے اپنیMonetary Policy میٹنگ کے بعد شرح سود میں 25 بنیادی پوائنتس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 2.50 فیصد سے بڑھا کر 2.75 فیصد کر دیا ہے
تبدیلی صرف چین کی مانیٹری پالیسی کا ایک اشارہ نہیں بلکہ US Dollar اور Chinese Yuan کے درمیان طاقت کے توازن، چینی برآمدات اور عالمی کرنسی مارکیٹ کے لیے بھی اہم پیغام رکھتی ہے
USD/JPY 160.00 سے 160.20 resistance کے قریب ہے۔ مضبوط US Treasury yields ڈالر کو support دے رہی ہیں۔ Fed کی پالیسی بھی اہم ہے۔ BoJ کی rate hike expectations ین کو support کر رہی ہیں۔ 160.20 کے اوپر breakout سے 162.75 اور 164.00 کا راستہ کھل سکتا ہے۔ Rejection کی صورت میں 159.00 اور 158.00 اہم support ہیں۔ مجموعی bias 159.00 کے اوپر mildly bullish ہے۔
Global Bond Yields میں مسلسل اضافہ، Inflation کے دباؤ اور مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے بندش دی، جو مارکیٹ میں محتاط رویے اور ایک واضح رجحان کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ کمزور مارکیٹ وسعت اور ٹرن اوور میں کمی نے اس منفی جھکاؤ کو مزید تقویت بخشی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں