ہارمونک پیٹرنز تکنیکی تجزیہ کا ایک طاقتور ٹول ہیں جو فبونچی ریشوز کی بنیاد پر قیمتوں کے مخصوص ڈھانچے کو پہچانتے ہیں۔ یہ گائیڈ Gartley، Bat، Butterfly، Crab اور Shark پیٹرنز کی تفصیل، ان کے فبونچی ریشوز، پوٹینشل ریورسل زون (PRZ) کی شناخت، تصدیق، اور رسک/ریوارڈ کے ساتھ ٹریڈ سیٹ اپ کو واضح کرتی ہے۔
تلاش
"positve trend in european stocks after reduction in inflation fears" کے لیے 1122 نتائج۔
ایلیٹ ویو تھیوری ایک طاقتور تکنیکی تجزیہ کا آلہ ہے جو رالف نیلسن ایلیٹ نے 1930 کی دہائی میں متعارف کروایا تھا۔ یہ تھیوری اس بنیادی اصول پر مبنی ہے کہ مالیاتی منڈیاں بے ترتیب حرکت نہیں کرتیں بلکہ انسانی نفسیات کے اجتماعی رجحانات کی عکاسی کرتی ہوئی قابلِ شناخت، بار بار دہرائی جانے والی لہروں (waves) میں آگے بڑھتی ہیں۔ یہ گائیڈ ایلیٹ ویو تھیوری کے بنیادی تصورات، اس کے اطلاق اور عام غلطیوں پر تفصیلی روشنی ڈالے گا۔
فبونیچی ریٹریسمنٹ اور ایکسٹینشن ٹریڈرز کو مارکیٹ میں ممکنہ پل بیک (pullback) اور قیمت کے اہداف کی شناخت میں مدد دیتے ہیں۔ یہ ٹول فبونیچی ترتیب (sequence) پر مبنی ہے اور مختلف مالیاتی آلات جیسے فاریکس، اسٹاکس اور کموڈٹیز میں استعمال ہوتا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی کریٹو کرنسی یعنی Bitcoin ایک محدود دائرے میں ٹریڈ کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف عالمی مارکیٹس میں بانڈز کی فروخت میں کمی اور خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں میں نرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سرمایہ کاروں کی توجہ اب روایتی سرمائے سے ہٹ کر متبادل کرپٹوز (Altcoins) کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
عالمی سرمایہ کاروں کی نظریں اس وقت Japanese JGB Bond Yields پر مرکوز ہیں، کیونکہ موجودہ صورتحال ایک بڑی حکومتی مداخلت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی وال اسٹریٹ پر میگا کیپ اسٹاکس اور مالیاتی سیکٹر کی ملا جلی کارکردگی نے انڈیکس کو رینج باؤنڈ رکھا ہوا ہے۔ اینویڈیا کی قیادت میں مصنوعی ذہانت کا شعبہ مستحکم ہے جبکہ بینکنگ اور کچھ ٹیک جائنٹس پر مسلسل دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
فیڈرل ریزرو کے حالیہ FOMC اجلاس کے بعد 'ڈاٹ پلاٹ' میں شرح سود کی پیش گوئی میں نمایاں اضافے نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں 'گروتھ اسکیئر' کو گہرا کر دیا ہے۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.162% کی 2007 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈالر مستحکم ہے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں پر سرمائے کے اخراج کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ چیئرمین پاول کے بیانات نے 'بلند شرح سود طویل عرصے تک' کے بیانیے کو مزید تقویت دی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیاں ایک 'رسک-آن' ماحول میں مزید مستحکم ہو رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ امریکی افراط زر (US CPI) میں مسلسل کمی اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں کمی کے بڑھتے ہوئے امکانات ہیں۔ ڈالر (DXY) پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ کیری ٹریڈز (carry trades) میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی ایکویٹی مارکیٹوں کو تقویت مل رہی ہے۔
GBP/USD اس وقت 1.3225 کے قریب trade کر رہا ہے۔ مضبوط US Dollar کے باعث پاؤنڈ پر دباؤ برقرار ہے۔ 1.3200 موجودہ اہم support level ہے۔ اس کے نیچے break ہونے سے 1.3150 اور 1.3100 اہم ہو سکتے ہیں۔ اوپر کی طرف 1.3265 پہلا resistance ہے۔ 1.3300 کے اوپر مضبوطی آنے سے 1.3350 اگلا resistance بن سکتا ہے۔ US yields، Federal Reserve expectations اور UK economic data آئندہ movement کے لیے اہم رہیں گے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( PSX) میں جمعہ کے روز کاروبار کے آغاز پر زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور مصالحت کی خبریں تھیں۔ بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں چار سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا
توانائی کی مارکیٹس میں اس وقت غیر یقینی صورتحال جاری ہے کیونکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل (WTI Crude Oil) کی قیمتیں 92 ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے آ گئی ہیں۔ ایشیائی سیشن کے دوران اس کمی نے تیل کی دو روزہ مسلسل تیزی کے تسلسل کو توڑ دیا ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی آئندہ میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کر سکتی ہے۔ اگست میں افراط زر 11.10% پر آ گیا ہے، جو موجودہ پالیسی ریٹ 11.50% سے کم ہے، جس سے حقیقی شرح سود مثبت ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کی راہ ہموار کرتی ہے۔