عالمی سرمایہ کاروں کی نظریں اس وقت Japanese JGB Bond Yields پر مرکوز ہیں، کیونکہ موجودہ صورتحال ایک بڑی حکومتی مداخلت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
"how will todays economic day impact your trade" کے لیے 732 نتائج۔
عالمی سرمایہ کاروں کی نظریں اس وقت Japanese JGB Bond Yields پر مرکوز ہیں، کیونکہ موجودہ صورتحال ایک بڑی حکومتی مداخلت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی وال اسٹریٹ پر میگا کیپ اسٹاکس اور مالیاتی سیکٹر کی ملا جلی کارکردگی نے انڈیکس کو رینج باؤنڈ رکھا ہوا ہے۔ اینویڈیا کی قیادت میں مصنوعی ذہانت کا شعبہ مستحکم ہے جبکہ بینکنگ اور کچھ ٹیک جائنٹس پر مسلسل دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں امریکی ٹریژری کی قیادت میں 'اسٹیپننگ' کا رجحان مزید گہرا ہو گیا ہے۔ US 10Y ییلڈ 5.162% تک بڑھ گئی ہے جبکہ US 2Y ییلڈ میں کمی آئی ہے، جو مستقبل میں مضبوط معاشی نمو اور افراط زر کی توقعات میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پیش رفت فیڈرل ریزرو کی مستقبل کی پالیسی کے بارے میں مارکیٹ کی توقعات کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
فیڈرل ریزرو کے حالیہ FOMC اجلاس کے بعد 'ڈاٹ پلاٹ' میں شرح سود کی پیش گوئی میں نمایاں اضافے نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں 'گروتھ اسکیئر' کو گہرا کر دیا ہے۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.162% کی 2007 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈالر مستحکم ہے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں پر سرمائے کے اخراج کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ چیئرمین پاول کے بیانات نے 'بلند شرح سود طویل عرصے تک' کے بیانیے کو مزید تقویت دی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( PSX) میں جمعہ کے روز کاروبار کے آغاز پر زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور مصالحت کی خبریں تھیں۔ بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں چار سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ان کارپوریٹ اور نان کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جنہوں نے بورڈ کے الیکٹرانک انوائسنگ سسٹم کے ساتھ اپنے کاروبار کو منسلک نہیں کیا
پاکستان کی معیشت میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات اور متوازن بیرونی کھاتوں کے باعث استحکام آ رہا ہے۔ افراطِ زر میں کمی کے بعد مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں مزید نرمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
عالمی مارکیٹس میں ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کیونکہ Global Bond Rout (عالمی بانڈ مارکیٹ میں فروخت کا تسلسل) شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس ملکی اور بین الاقوامی عوامل کے زیر اثر ایک فیصد سے زائد کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
لائٹ کوائن کو طویل عرصے سے بٹ کوائن کا ڈیجیٹل سلور کہا جاتا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں اس ڈیجیٹل اثاثے نے مارکیٹ کی عمومی سستی کے برعکس ایک شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس آج 0.62% کی گراوٹ کے ساتھ 170,499 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 170,000 کی نفسیاتی اور تکنیکی حمایت کے بہت قریب ہے۔ یہ پیش رفت مارکیٹ کے 'حد میں رہنے' (range-bound) کے رجحان میں نچلی جانب جھکاؤ کو ظاہر کرتی ہے، اور اگلے سیشن میں اس اہم سطح کے دفاع یا ٹوٹنے پر نظریں مرکوز ہوں گی۔
عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں امریکی ٹریژری کی قیادت میں ایک واضح 'اسٹیپننگ' کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جہاں طویل مدتی ییلڈز میں اضافہ جبکہ قلیل مدتی ییلڈز میں نسبتاً استحکام یا کمی آ رہی ہے۔ یہ صورتحال مستقبل میں معاشی نمو اور افراط زر کی توقعات میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ DXY میں کمی عالمی رسک سینٹیمنٹ میں بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں