پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای 100 انڈیکس 0.72 فیصد کمی کے ساتھ 168,695 پوائنٹس پر بند ہو گیا۔ ٹریڈنگ کے دوران 170,000 کی اہم حمایتی سطح ٹوٹنے کے بعد فروخت کے دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا۔
"us dollar index uprise near 105 level" کے لیے 989 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای 100 انڈیکس 0.72 فیصد کمی کے ساتھ 168,695 پوائنٹس پر بند ہو گیا۔ ٹریڈنگ کے دوران 170,000 کی اہم حمایتی سطح ٹوٹنے کے بعد فروخت کے دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا۔
KSE100 انڈیکس میں ٹریڈنگ کے آغاز کے ساتھ ہی 700 سے زائد پوائنٹس کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے اسٹاکس کی خریداری میں تیزی نے مارکیٹ کے روایتی رجحان کو سہارا دیا ہے۔
یورو بمقابلہ امریکی ڈالر 1.1350 کی اہم حمایتی سطح نیچے توڑنے کے بعد 1.13403 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور معاشی تفاوت کے باعث کرنسی جوڑے پر مندی کا غلبہ ہے۔
پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے مسلسل استحکام کی دلالت کر رہے ہیں۔ 11.50 فیصد کے پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد کے افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے فریم ورک نے KSE-100 انڈیکس کو 169,969 کے سنگ میل پر پہنچا دیا ہے جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 276.98 کی سطح پر مستحکم ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کے سیشن کا اختتام 169,969 پوائنٹس پر ہوا جہاں KSE-100 انڈیکس نے 0.63 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔ دن کے دوران انڈیکس نے 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھوا مگر اوپری سطحوں پر پرافٹ ٹیکنگ کے باعث 170,000 سے ذرا نیچے بند ہوا۔
ایتھریم کی قیمت میں 1.44 فیصد کمی کے بعد $2,663 کے قریب ٹریڈنگ جاری ہے۔ $2,650 کی اہم سپورٹ کا دفاع تکنیکی ساخت کے لیے انتہائی حساس بن چکا ہے۔
بٹ کوئن کی قیمت 83,000 ڈالر کے نفسیاتی زون کے نیچے پھسل کر 82,989 ڈالر پر آ گئی ہے۔ ایتھیریم اور مقامی P2P مارکیٹ کے اعداد و شمار ایک طویل اصلاحی فیز کا اشارہ دے رہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تعطل اور استحکام کا رجحان جاری ہے۔ اوپیک پلس کی جانب سے سپلائی پر سخت کنٹرول اور پالیسی اقدامات کی بدولت برینٹ 96.42 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت $4,193.10 فی اونس اور پاکستان میں 24 قیراط سونا 439,500 روپے فی تولہ تک پہنچ گیا ہے۔ ڈالر انڈیکس 101.28 پر قائم رہنے سے مارکیٹ میں رینج باؤنڈ ٹریڈنگ دیکھی جا رہی ہے۔
بٹ کوائن (Bitcoin) اپنی اہم سپورٹ پر ڈٹا ہوا ہے، وہیں دوسری طرف بانڈ ییلڈز (Bond yields) اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سرمایہ کاروں کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں۔
ریزرو بینک آف آسٹریلیا نے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے اسے 15 سال کی بلند ترین سطح یعنی 4.6 فیصد پر پہنچا دیا۔ اس سے قبل شرح سود 4.35 فیصد پر تھی
یورپی سینٹرل بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ نے حال ہی میں ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ زون کی معیشت کا پھیلاؤ مختلف شعبوں اور ملکوں میں جاری ہے، تاہم ECB کیلئے افراط زر میں عالمی حالات کی وجہ سے اضافے کے تحت حالات اب زیادہ چیلنجنگ ہوتے جا رہے ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں