آج جاپانی ین نے اپنی تمام بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ جبکہ اس کے خلاف امریکی ڈالر یعنی USDJPY رواں سال کے کم ترین حصوں تک آ چکا ہے۔
"decline continues in pakistani rupees where as gold prices also reached on ever high level" کے لیے 542 نتائج۔
آج جاپانی ین نے اپنی تمام بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ جبکہ اس کے خلاف امریکی ڈالر یعنی USDJPY رواں سال کے کم ترین حصوں تک آ چکا ہے۔
Huawei نے سوموار کو اپنے نئے فلیگ شپ فولڈ ایبل اسمارٹ فون سیریز کو باضابطہ طور پر لانچ کر دیا ہے، جو کہ چینی مارکیٹ میں اپنی برتری کو برقرار رکھنے کی ایک زبردست کوشش ہے۔
ایک زمانے میں ایتھریم (Ethereum) کا طاقتور حریف سمجھا جانے والا نیٹ ورک، ہارمونی (Harmony Blockchain)، اپنے نیٹ ورک کو بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
آج جرمنی کے وفاقی ادارہ شماریات (Federal Statistics office) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار نے مارکیٹ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی ( تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور کموڈیٹیز کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں، US Iran conflict نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں سکیورٹی کے مسائل ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہے ہیں۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران Liquid Network exploit نے پوری مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیاہے
چین کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے تقریباً 54 ارب ڈالر، یعنی لگ بھگ 360 ارب یوآن، کے بڑے Capital Injection نے اسی لیے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے اوپر برقرار رہنے میں کامیاب رہا، جس نے پچھلی بیئرش تھیسس کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ یہ مارکیٹ میں استحکام کی کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم، پائیدار رجحان کے لیے وسیع تر شرکت کی ضرورت ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
بیرونی تجارت کا توازن ہمیشہ سے ہی ملکی معیشت کی صحت کا سب سے بڑا عکاس رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا Trade Deficit مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں 18.1 فیصد اضافے کے ساتھ 7.12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے آج وسطی اور اختتامی سیشن کے دوران ایک بار پھر شدید اتار چڑھاؤ (Volatility) کا مظاہرہ کیا
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں