EUR/USD میں حالیہ شدید کمی کے بعد 1.1160 کے قریب سے محدود بحالی دیکھی گئی ہے، تاہم مجموعی Price Structure اب بھی کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ موجودہ قیمت تقریباً 1.1240 کے قریب ہے اور مارکیٹ کی توجہ اب 1.1250 کی اہم ریزسٹنس پر مرکوز ہے۔
"gold value decreased due to federal reserve gdp data and stocks earnings" کے لیے 1065 نتائج۔
EUR/USD میں حالیہ شدید کمی کے بعد 1.1160 کے قریب سے محدود بحالی دیکھی گئی ہے، تاہم مجموعی Price Structure اب بھی کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ موجودہ قیمت تقریباً 1.1240 کے قریب ہے اور مارکیٹ کی توجہ اب 1.1250 کی اہم ریزسٹنس پر مرکوز ہے۔
Bitcoin کو 87,000 ڈالر کی سطح پر مضبوط مزاحمت کا سامنا ہے کیونکہ اس سطح پر پرافٹ بکنگ اور بڑے سیلرز فعال ہیں۔ جب بھی قیمت اس حد کو چھوتی ہے، فروخت کا دباؤ خریداروں کی قوت پر حاوی ہو جاتا ہے۔
عالمی منڈی میں سونا $4,136.94 کی سطح پر بحال ہو گیا ہے جبکہ پاکستان میں 24 قیراط فی تولہ قیمت 438,000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ پچھلی ڈیسک اپڈیٹ کے تضاد کے برعکس دونوں منڈیوں میں ایک ساتھ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ سونا $4,130.54 پر ٹریڈ ہو رہا ہے جہاں امریکی 10 سالہ حقیقی ییلڈ 5.311% تک پہنچنے سے قیمتوں کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔
امریکی 10 سالہ ییلڈ کے 5.311% تک پہنچنے اور بینک آف جاپان کے نرم موقف کے باعث USD/JPY کی قیمت 157.982 کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ جانیں کیری ٹریڈ اور بنیادی عوامل کا مکمل تجزیہ۔
EUR/USD نے 1.12500 کی اہم سپورٹ کھو دی ہے اور 0.34 فیصد تنزلی کے ساتھ 1.12094 پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ پچھلی رینج باؤنڈ تھیسس باطل ہو چکی ہے اور مارکیٹ پر اب تکنیکی مندی غالب ہے۔
برطانوی پاؤنڈ (British Pound) ان دنوں فاریکس مارکیٹ (Forex Market) میں ایک محدود دائرے (Range Play) میں ٹریڈ کر رہا ہے۔ GBPUSD Range Play کا یہ موجودہ دور ٹریڈرز کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے ڈیزل کی مختلف اقسام پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پالیسی تبدیلی کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانا اور صارفین کے لیے ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنا ہے
عالمی مارکیٹ میں سونا (XAU/USD) $4,160.88 پر بحالی کی کوشش کر رہا ہے، تاہم پاکستان میں 24 قیراط سونا 0.92 فیصد کمی کے ساتھ 432,979 روپے فی تولہ پر آ گیا ہے۔ پڑھیں اس ڈائیورجنس کی مکمل وجوہات اور تکنیکی جائزہ۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 5 اکتوبر 2026 کے سیشن کے اختتام پر KSE-100 انڈیکس 1.36 فیصد گر کر 165,867 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سیشن کے دوران انڈیکس 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد شدید سیلنگ پریشر کا شکار ہوا۔
والی اسٹریٹ نے آخرکار فنانشل مارکیٹس کو ہفتے کے ساتوں دن اور چوبیس گھنٹے (24/7) چلانے کی طرف ایک تاریخی قدم اٹھا لیا ہے۔ ٹیکنالوجی اور روایتی فنانس کے امتزاج سے بننے والا یہ نیا قدم دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول رہا ہے
عالمی انرجی مارکیٹس میں آج اس وقت ایک اہم موڑ دیکھا گیا جب Crude Oil Prices میں Middle East Crisis کے تناظر میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں