پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای 100 انڈیکس 0.72 فیصد کمی کے ساتھ 168,695 پوائنٹس پر بند ہو گیا۔ ٹریڈنگ کے دوران 170,000 کی اہم حمایتی سطح ٹوٹنے کے بعد فروخت کے دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا۔
"australian dollar git bullish momentum as us dollar came on backfoot" کے لیے 1172 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای 100 انڈیکس 0.72 فیصد کمی کے ساتھ 168,695 پوائنٹس پر بند ہو گیا۔ ٹریڈنگ کے دوران 170,000 کی اہم حمایتی سطح ٹوٹنے کے بعد فروخت کے دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا۔
کرپٹو انڈسٹری نے امریکی قانون سازوں کے سامنے اپنی بات منوانے اور ڈیجیٹل ایسٹس کے لیے ایک واضح فریم ورک تیار کرنے کی خاطر پانی کی طرح پیسہ بہایا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، کرپٹو انڈسٹری نے آٹھ ملین ڈالر سے زائد رقم Crypto Lobbying For Clarity Act 2026 کے تحت لابی پر خرچ کرنے کے باوجود اپنے مطلوبہ ہدف کو حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت $4,189.76 فی اونس پر مستحکم ہے جبکہ امریکی 10 سالہ ییلڈز 5.293 فیصد تک بڑھنے سے قیمتوں پر شدید دباؤ ہے۔ مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط سونا 441,000 روپے فی تولہ پر برقرار ہے۔
فاریکس مارکیٹ میں سپورٹ اور ریزسٹنس کی شناخت اور ٹریڈنگ کا مکمل طریقہ سیکھیں۔ یہ عملی گائیڈ ابتدائی اور درمیانی سطح کے ٹریڈرز کے لیے چارٹ پیٹرنز اور لیولز کے استعمال کو آسان بناتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کے سیشن کا اختتام 169,969 پوائنٹس پر ہوا جہاں KSE-100 انڈیکس نے 0.63 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔ دن کے دوران انڈیکس نے 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھوا مگر اوپری سطحوں پر پرافٹ ٹیکنگ کے باعث 170,000 سے ذرا نیچے بند ہوا۔
بٹ کوئن کی قیمت 83,000 ڈالر کے نفسیاتی زون کے نیچے پھسل کر 82,989 ڈالر پر آ گئی ہے۔ ایتھیریم اور مقامی P2P مارکیٹ کے اعداد و شمار ایک طویل اصلاحی فیز کا اشارہ دے رہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تعطل اور استحکام کا رجحان جاری ہے۔ اوپیک پلس کی جانب سے سپلائی پر سخت کنٹرول اور پالیسی اقدامات کی بدولت برینٹ 96.42 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت $4,193.10 فی اونس اور پاکستان میں 24 قیراط سونا 439,500 روپے فی تولہ تک پہنچ گیا ہے۔ ڈالر انڈیکس 101.28 پر قائم رہنے سے مارکیٹ میں رینج باؤنڈ ٹریڈنگ دیکھی جا رہی ہے۔
پاکستان میں سی پی آئی افراط زر کی شرح 11.10% تک محدود رہنے اور حقیقی شرح سود مثبت زون میں داخل ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کے امکانات کا تفصیلی جائزہ۔
پاکستان کی معاشی صورتحال میں افراط زر 11.10 فیصد اور اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11.50 فیصد رہنے سے مثبت حقیقی شرح سود کا فریم ورک برقرار ہے۔ ڈالر 276.88 روپے کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 169,600 پوائنٹس کی سطح پر مضبوط تجارتی سگنل فراہم کر رہا ہے۔
Ethereum کی قیمت $2,695 پر بند ہوئی، 1.72% کی روزانہ اضافہ کے ساتھ۔ سپورٹ کا دفاع مضبوط ہوا اور اسٹیکنگ ییلڈ مستحکم رہنے سے بُلش کنسولیڈیشن کا امکان بڑھا۔
پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں