گزشتہ روز کے سیشن میں تقریباً ایک فیصد کی گراوٹ کے بعد KSE100 انڈیکس نے جمعرات کی صبح زبردست واپسی کی۔ کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں انڈیکس 950 سے زائد پوائنٹس اوپر چلا گیا اور 175734.10 کی سطح تک پہنچ گیا۔
"uprise in dow jones nasdaq declined mixed closing observed in us stocks" کے لیے 558 نتائج۔
گزشتہ روز کے سیشن میں تقریباً ایک فیصد کی گراوٹ کے بعد KSE100 انڈیکس نے جمعرات کی صبح زبردست واپسی کی۔ کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں انڈیکس 950 سے زائد پوائنٹس اوپر چلا گیا اور 175734.10 کی سطح تک پہنچ گیا۔
نیو جرسی کی طرف سے امریکی سپریم کورٹ (U.S. Supreme Court) سے رجوع کرنے کا فیصلہ پریڈکشن مارکیٹس (Prediction Markets) کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے
عالمی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران کے ردعمل کے خدشات نے عالمی فنانشل مارکیٹس میں ایک بڑا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ اس ناگہانی صورتحال نے نہ صرف روایتی اسٹاک مارکیٹس اور بانڈز کو ہلایا ہے بلکہ ڈیجیٹل اثاثوں، بالخصوص Crypto Market کو بھی شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس ابتدائی کاروبار کے دوران تقریباً 1300 پوائنٹس تک گر گیا
آج ایشیائی سیشنز میں بھی عالمی بانڈ مارکیٹس میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری بانڈز کی Yields اور قرض لینے کے اخراجات کئی دہائیوں کی بلند سطحوں تک پہنچ گئے ہیں۔
Global Bond Yields میں مسلسل اضافہ، Inflation کے دباؤ اور مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے بندش دی، جو مارکیٹ میں محتاط رویے اور ایک واضح رجحان کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ کمزور مارکیٹ وسعت اور ٹرن اوور میں کمی نے اس منفی جھکاؤ کو مزید تقویت بخشی۔
سنٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز (CDNS) نے مالی سال 2026-27 کے آغاز میں 313 ارب روپے کی بچتیں جمع کرکے National Savings Mobilization Target کے تحت مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج KSE-100 انڈیکس نے 1.05 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 176,976 پوائنٹس پر بندش دی، جو 177,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے ہے۔ مارکیٹ کی وسعت اور ٹرن اوور میں کمی نے سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے محتاط رویے اور ایک واضح رجحان کی عدم موجودگی کو نمایاں کیا ہے۔
صرافہ بازار میں Per Tola Gold Price In Pakistan میں آج ہونیوالی 1800 روپے فی تولہ کی نمایاں کمی نے سرمایہ کاروں، خریداروں اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
پاکستانی معیشت اور آٹو موبائل انڈسٹری کے لیے ایک نئے اور سنہرے باب کا آغاز ہو چکا ہے۔ پاک سوزوکی (Pak Suzuki) نے اپنی تاریخ میں پہلی بار جاپانی معیار کی منی گاڑیاں برونائی کو برآمد کرنا شروع کر دی ہیں۔
ڈیجیٹل اثاثوں اور روایتی مالیاتی نظام کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ کرپٹو کرنسی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایسی سہولیات بھی سامنے آ رہی ہیں جو ڈیجیٹل اثاثوں کو روزمرہ کی مالی ضروریات سے جوڑنے میں مدد دے رہی ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں