آج 17 اگست 2026 کو سونے کی قیمتیں مقامی اور عالمی منڈیوں میں مستحکم رہیں، پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونا 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ عالمی سطح پر XAU/USD $4,392.20 پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
"what is the us pce report and how iit effects the financial markets" کے لیے 543 نتائج۔
آج 17 اگست 2026 کو سونے کی قیمتیں مقامی اور عالمی منڈیوں میں مستحکم رہیں، پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونا 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ عالمی سطح پر XAU/USD $4,392.20 پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ عالمی سطح پر DXY انڈیکس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.78 روپے پر بند ہوا، جس میں 0.31% کا اضافہ دیکھا گیا۔ مہنگائی اور عالمی DXY انڈیکس روپے پر اثرانداز۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس 1.16% کی کمی کے ساتھ 170,885 پوائنٹس پر بند ہوا، جس نے پچھلے دن کی تیزی کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ مارکیٹ اب 166,200 کی اہم سپورٹ سطح کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے، جو آئندہ رجحان کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
Silicon Valley کے سب سے بڑے شہر، سان ہوزے (San Jose) میں، رہائشیوں اور ماحولیاتی تنظیموں نے ان ڈیٹا سینٹر پروجیکٹس کے خلاف منظم تحریک شروع کر دی ہے جنہیں سرکاری حکام نےAI Data Centers انفراسٹرکچر کا مرکز بنانے کے لیے خوش آمدید کہا تھا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج KSE-100 انڈیکس نے 2.23% کی مزید گراوٹ کے ساتھ 169,043 پوائنٹس پر بندش دی، جو 166,200 کی اہم سپورٹ سطح کے انتہائی قریب پہنچ گیا ہے۔ مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر فروخت کا دباؤ اور ڈیلیوریجنگ کا رجحان غالب رہا، جس نے پچھلے دن کے بیئرش بریک ڈاؤن کو جاری رکھا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج KSE-100 انڈیکس نے 3.80% کی نمایاں کمی کے ساتھ 168,022 پوائنٹس پر بندش دی، جو پچھلے دن کی ریکوری کو مکمل طور پر ختم کر گیا۔ یہ گراوٹ 166,200 کی اہم سپورٹ سطح کے قریب ایک بیئرش بریک ڈاؤن اور وسیع پیمانے پر فروخت کے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔
فنانشل مارکیٹس اور کرپٹو انڈسٹری کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو طویل مدتی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ Clarity Act کی امریکی سینیٹ میں ناکامی ایسا ہی ایک اہم موڑ ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 166,206 کی انٹرا ڈے کم ترین سطح سے نمایاں ریکوری کرتے ہوئے 0.85% کے اضافے کے ساتھ 169,392 پر بندش دی ہے۔ یہ حرکت پچھلے دن کے بیئرش بریک ڈاؤن کے بعد ایک ممکنہ ریورسل اٹیمپٹ کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم 170,000 کی نفسیاتی مزاحمتی سطح سے نیچے کی بندش اب بھی محتاط رویے کا تقاضا کرتی ہے۔
آج KSE-100 انڈیکس میں 3.82% کی نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں انڈیکس 167,971 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یہ گراوٹ 170,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سپورٹ سطح سے نیچے کی بندش کو ظاہر کرتی ہے، جو مارکیٹ میں ایک واضح بیئرش بریک ڈاؤن اور ڈیلیوریجنگ کے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔
کریپٹو کرنسی کی دنیا میں اس وقت غیر یقینی کی ایک عجیب کیفیت طاری ہے۔ کیا Clarity Act قانون بن جائے گا یا یہ قانون سازی کی بھول بھری راہوں میں کہیں کھو جائے گا؟ یہ سوال اس وقت ہر سرمایہ کار اور ٹریڈر کی زبان پر ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو اس وقت شدید دھکا لگا جب Strait of Hormuz کے معاملے پر خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان ہونیوالی میٹنگ ملتوی ہونے کی تصدیق کی گئی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں