پرائیویٹائزیشن کمیشن (Privatisation Commission) بورڈ نے ایک اہم فیصلے کے تحت گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (Gujranwala Electric Power Company - GEPCO) کی نجکاری کے عمل میں 9 پارٹیوں کو پری کوالیفائی (Pre-Qualified) قرار دے دیا ہے۔
"us non farm payroll report released which caused swings in us dollar index in limited range" کے لیے 1170 نتائج۔
پرائیویٹائزیشن کمیشن (Privatisation Commission) بورڈ نے ایک اہم فیصلے کے تحت گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (Gujranwala Electric Power Company - GEPCO) کی نجکاری کے عمل میں 9 پارٹیوں کو پری کوالیفائی (Pre-Qualified) قرار دے دیا ہے۔
عالمی منڈی میں سونا $4,136.94 کی سطح پر بحال ہو گیا ہے جبکہ پاکستان میں 24 قیراط فی تولہ قیمت 438,000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ پچھلی ڈیسک اپڈیٹ کے تضاد کے برعکس دونوں منڈیوں میں ایک ساتھ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
ریاض کے ہنگامی اجلاس میں Mecca Defence Agreement کو فعال کرنے اور سعودی عرب میں عسکری تعیناتی کے اعلان نے خطے کی جیو پولیٹیکل (Geopolitical) صورت حال کو ایک بالکل نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
فاریکس مارکیٹ میں کرنسیز کو اس وقت شدید ترین دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ Euro کی کمزوری، مالیاتی اور سیاسی خدشات) نے سرمایہ کاروں کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ آج ایشیائی سیشن کے دوران یورو گر کر 1.1220 ڈالر کے قریب آ گیا،
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج کے پورے سیشن کے دوران شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجوہات بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور ملک کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی شورش تھیں ۔ اس دباؤ کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس تقریباً 2,300 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
کوہ نور پاور کمپنی لمیٹڈ (Kohinoor Power Company Limited) نے مالی سال 2026 کے مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا ہے، جن کے مطابق کمپنی طویل عرصے بعد منافع کے زون سے نکل کر خالص نقصان کا شکار ہو گئی۔
امریکی افراطِ زر 3.35 فیصد پر جمود کا شکار رہنے کے بعد ڈالر انڈیکس (DXY) 102.21 کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں خطرہ ٹالنے کے رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں ہفتے کے آغاز پر ہی غیر معمولی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے، جہاں دنیا کی سب سے بڑی کرنسیز کا ٹریڈنگ پیئر EURUSD کے تحت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ یورو کی قدر میں اس زبردست کمی نے اسے مئی 2025 کی کم ترین سطح پر لا کھڑا کیا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 پر گراوٹ کے ساتھ بند ہوا، جبکہ کارپوریٹ نتائج کے سیزن سے قبل انسٹی ٹیوشنل فنڈز کا توجہ بینکنگ، ای اینڈ پی اور فرٹیلائزر سیکٹرز پر مرکوز ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
ڈالر انڈیکس کی 101.94 کی سطح پر مضبوطی نے عالمی رسک‑آن لہر کو کمزور کر کے مارکیٹ کو خطرہ‑آف رجیم کی طرف موڑ دیا، حالانکہ امریکی CPI 3.35% پر مستحکم رہنے سے ڈس انفلیشن کی امید برقرار ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں زبردست فروخت کے دباؤ کی زد میں آ گئی ہیں جہاں برینٹ خام تیل 3.11 فیصد کمی کے ساتھ 99.13 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 4.02 فیصد گر کر 89.14 ڈالر پر آ گیا ہے۔ سپریڈ پھیلاؤ اور پرافٹ ٹیکنگ نے مارکیٹ کے سابقہ استحکام کو ختم کر دیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں