پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ سیشن کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس 800 پوائنٹس سے زائد گر گیا۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی فنانشل مارکیٹس کے دباؤ نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے
"value of audusd restored after positive australian emoloyment report" کے لیے 1111 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ سیشن کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس 800 پوائنٹس سے زائد گر گیا۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی فنانشل مارکیٹس کے دباؤ نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے
مصنوعی ذہانت اب انسانی مدد کے بغیر خود اپنے کوڈ کو بہتر بنانے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے، جو کہ ایک خطرناک اور تیز رفتار لامتناہی سلسلہ بن سکتا ہے۔
GBP/USD اس وقت 1.3477 کے قریب Trade کر رہا ہے۔ US Dollar کی مضبوطی نے Pound پر دباؤ بڑھایا ہے۔ زیادہ Treasury Yields بھی Dollar کو Support دے رہی ہیں۔ UK Inflation اور Bank of England کی Policy Expectations اہم رہیں گی۔ Technical Side پر 1.3465 اہم Support ہے۔ 1.3520 اور 1.3550 اہم Resistance Levels ہیں۔ اگر 1.3465 کے نیچے Break ہوتا ہے تو 1.3420 اگلا Support بن سکتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مارچ سے اگست 2026 کے جائزہ دورانیے کی بنیاد پر KSE100 انڈیکس کی تشکیل نو کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ جس کے تحت چار نئی کمپنیوں کو بینچ مارک انڈیکس میں شامل کیا گیا ہے جبکہ اتنے ہی یعنی چار اسٹاکس کو انڈیکس سے خارج کر دیا گیا ہے
EUR/USD اس وقت 1.1540 کے قریب دباؤ میں ہے۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور US Yields میں اضافہ یورو پر اثر ڈال رہا ہے۔ ECB کی پالیسی یورو کو کچھ Support فراہم کر رہی ہے۔ 1.1530 اہم Support Level ہے۔ اس کے نیچے Break کی صورت میں 1.1500 اور 1.1450 اگلے Support Levels ہو سکتے ہیں۔ اوپر کی جانب 1.1600، 1.1650 اور 1.1700 اہم Resistance Levels ہیں۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر 277.72 روپے پر بند ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں طلب کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ پچھلے دن کی معمولی بہتری کا رجحان برقرار نہ رہ سکا، جس سے روپے پر قلیل مدتی دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
امریکی ڈالر انڈیکس ، جو کہ دنیا کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر (USD) کی قدر کو ناپتا ہے، ایشیائی سیشن کے دوران اپنی شاندار تیزی کو برقرار رکھے ہوئے ہے
عالمی بانڈ ییلڈز میں تاریخی اضافہ دنیا بھر کی حکومتوں، کارپوریٹ اداروں اور عالمی مارکیٹس کے لیے ایک بہت بڑا امتحان بن چکا ہے۔ 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد پہلی بار حکومتوں کے قرض لینے کے اخراجات اس سطح پر پہنچ گئے ہیں جہاں معاشی ترقی اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ کے درمیان توازن برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔
USD/JPY دوبارہ 155 کے قریب Trade کر رہا ہے۔ US Dollar کو Higher US Yields اور Fed کی متوقع پالیسی سے Support مل رہی ہے۔ دوسری طرف BOJ کی ممکنہ Rate Hike کی توقعات Japanese Yen کو مضبوط کر رہی ہیں۔ Japan کے Trade Data اور Oil Prices بھی Yen کی سمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ Technical طور پر 155.50 اہم Resistance ہے، جبکہ 154.70 اہم Support ہے۔ 155.50 کے اوپر Break کی صورت میں 156.00 اور 157.00 کی Levels اہم ہو سکتی ہیں۔ 154.70 کے نیچے آنے کی صورت میں 154.00 اور 152.90 کے Levels دوبارہ Focus میں آ سکتے ہیں۔
کرپٹو انڈسٹری میں اتار چڑھاؤ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب Clarity Act پر امریکی سینیٹ میں ووٹنگ کے تناظر میں Bitcoin کی قیمت لڑھک کر 77,000 ڈالر تک آ گئی۔ کرپٹو کرنسی (cryptocurrency) مارکیٹ کے لیے یہ دن انتہائی اہم نوعیت کا حامل ہے کیونکہ امریکی سینیٹ (US Senate) میں کلیدی ضابطہ جاتی بل پر کارروائی جاری ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے عہدیدار ابراہیم ہاشمی کا یہ دوٹوک مؤقف کہ باب المندب Bab el Mandeb کی بندش دنیا بھر کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی، بین الاقوامی سفارت کاری اور انرجی مارکیٹس میں بے یقینی پیدا کر رہا ہے
Global Markets اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ سرمایہ کاروں کو ایک نئے انرجی شاک اور ریکارڈ سطح پر پہنچنے والے سرکاری بانڈز کے منافع کا سامنا ہے۔ منگل کے روز عالمی اسٹاک مارکیٹس میں پچھلے سیشن کی مندی کا تسلسل جاری رہا، جبکہ امریکی ٹریژری ییلڈز نے 2007 کے بعد کی اپنی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں