پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں معمولی گراوٹ کا شکار ہوا، جو 277.64 پر بند ہوا۔ یہ گراوٹ عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں درآمدی دباؤ کے درمیان جاری بیرونی کھاتے کے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔
"eurusd extends bullish rally to the multi months high" کے لیے 1045 نتائج۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں معمولی گراوٹ کا شکار ہوا، جو 277.64 پر بند ہوا۔ یہ گراوٹ عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں درآمدی دباؤ کے درمیان جاری بیرونی کھاتے کے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔
گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں یمنی ساحل پر ہونے والی فوجی پیش رفت اور بحیرہ احمر (Red Sea) میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی فنانشل مارکیٹس اور کماڈٹی ٹریڈرز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ Red Sea oil supply disruption کا خطرہ اب محض ایک نظریاتی بحث نہیں رہا بل
مشرق وسطیٰ کا خطہ ایک بار پھر عالمی معیشت کے لیے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن کے ساحلی شہر Mocha Port پر ایران کے حمائت یافتہ حوثی باغیوں کے قبضے نے توانائی کی سپلائی چین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
154.60USD/JPY کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ زیادہ US Treasury yields اور بڑھتی ہوئی oil prices ڈالر کو support دے رہی ہیں، جبکہ BOJ کی مزید rate hike کی توقعات ین کو support فراہم کر رہی ہیں۔ Technical analysis میں 154.55 اور 154.66 اہم resistance levels ہیں، جبکہ 154.25 اور 153.97 اہم support levels ہیں۔ US CPI data اور BOJ کے آئندہ فیصلے pair کی اگلی direction کے لیے اہم رہیں گے۔
سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار گزشتہ 36 سالوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ خطے میں جاری تنازعات، اہم سمندری گزرگاہوں کی بندش اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے سعودی عرب کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی سپلائی میں نمایاں کمی کرے۔
لیبر بیورو آف اسٹیٹسٹکس (BLS) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ امریکہ میں پروڈیوسر پرائس انڈیکس US PPI Inflation میں اگست کے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر 5.4 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ایک شدید زلزلہ خیز صورتحال دیکھنے میں آئی جب مشرق وسطی کی انتہائی کشیدہ صورتحال کی زیر سایہ PSX کا بینچ مارک انڈیکس 3,000 پوائنٹس سے زائد کی بڑی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس 170,000 کی اہم نفسیاتی سپورٹ سطح کو توڑتے ہوئے 168,865 پوائنٹس پر بند ہوا، جو کہ وسیع البنیاد فروخت اور کمزور مارکیٹ breadth کے ساتھ بیئرش رجحان کے تسلسل کی تصدیق کرتا ہے۔
پاکستانی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین بجٹ وضاحتی سرکلر میں سروسز اور مخصوص ڈیٹ سیکیورٹیز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں میں اہم ترامیم کا اعلان کیا گیا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک بار پھر شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں کاروباری ہفتے کے دوران Middle East conflict کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے گئے۔
امریکی ڈالر انڈیکس جو کہ دنیا کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر (USD) کی قدر کا پیمانہ ہے، ایشیائی سیشن کے دوران مسلسل چوتھے روز بھی دباؤ کا شکار ہے اور یہ تقریباً 98.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,411 کی سطح پر مستحکم ہے، جہاں $4,370 کی اہم تکنیکی سپورٹ برقرار ہے۔ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے، تاہم امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے $4,455 کی مزاحمتی سطح کو عبور کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں