پاکستان کی توانائی کی ضروریات ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ریاستی ادارے Pakistan LNG Ltd نے مہنگی بولی مسترد ہونے کے بعد اپنا ایل این جی ٹینڈر دوبارہ جاری کر دیا ہے
"business day ended in toronto stocks exchange on mixed trend" کے لیے 1141 نتائج۔
پاکستان کی توانائی کی ضروریات ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ریاستی ادارے Pakistan LNG Ltd نے مہنگی بولی مسترد ہونے کے بعد اپنا ایل این جی ٹینڈر دوبارہ جاری کر دیا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سطح سے نیچے ایک فیصلہ کن بریک ڈاؤن دکھایا۔ مارکیٹ کی وسعت میں کمی اور بڑھتے ہوئے ٹرن اوور نے اس گراوٹ کی تصدیق کی، جو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور ایک نئے منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
عالمی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران کے ردعمل کے خدشات نے عالمی فنانشل مارکیٹس میں ایک بڑا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ اس ناگہانی صورتحال نے نہ صرف روایتی اسٹاک مارکیٹس اور بانڈز کو ہلایا ہے بلکہ ڈیجیٹل اثاثوں، بالخصوص Crypto Market کو بھی شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس ابتدائی کاروبار کے دوران تقریباً 1300 پوائنٹس تک گر گیا
آج ایشیائی سیشنز میں بھی عالمی بانڈ مارکیٹس میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری بانڈز کی Yields اور قرض لینے کے اخراجات کئی دہائیوں کی بلند سطحوں تک پہنچ گئے ہیں۔
EUR/USD پر اس وقت دباؤ ہے اور Pair 1.1600 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ مضبوط US Dollar، بلند Treasury Yields، Geopolitical Risks اور کمزور German Retail Sales یورو کو متاثر کر رہے ہیں۔ دوسری جانب Eurozone Inflation میں اضافہ اور ECB کی ممکنہ Rate Hike یورو کو سپورٹ دے سکتی ہے۔ ٹیکنیکل طور پر 1.1580، 1.1550 اور 1.1500 اہم Support Levels ہیں، جبکہ 1.1620، 1.1650 اور 1.1710 اہم Resistance Levels ہیں۔ 1.1580 سے نیچے Break ہونے پر مزید کمی جبکہ 1.1650 سے اوپر واپسی پر Recovery کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کی ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.87 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) ستمبر کے آغاز میں مضبوط دکھائی دے رہا ہے، جسے فیڈ کی ہاکش توقعات، بلند US Treasury Yields اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے سپورٹ مل رہی ہے۔ 10 سالہ Treasury Yield تقریباً 4.78% تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بلند تیل کی قیمتیں مہنگائی کے خدشات بڑھا رہی ہیں۔ تکنیکی طور پر 99.75 سے 100.00 اہم Resistance Zone ہے، جبکہ 99.00 اور 98.70 سے 98.75 اہم Support Levels ہیں۔ اب ISM Manufacturing PMI، JOLTS اور Nonfarm Payrolls جیسے امریکی اعداد و شمار DXY کی اگلی سمت کے لیے اہم ہوں گے۔ مضبوط ڈیٹا ڈالر کو مزید سپورٹ دے سکتا ہے، جبکہ کمزور ڈیٹا DXY پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
Global Bond Yields میں مسلسل اضافہ، Inflation کے دباؤ اور مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
اینگرو کارپوریشن (Engro Corporation) نے اپنی ذیلی کمپنی کے ذریعے لوٹے کیمیکل پاکستان لمیٹڈ کے ساتھ ایک Share Purchase Agreement سائن کیا ہے، جس کے تحت اینگرو نے انگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ میں اپنا تمام حصہ فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں کمی جاری رکھے ہوئے ہے، جو 277.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی روپے کی کمزوری کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں