امریکی ڈالر انڈیکس ، جو کہ دنیا کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر (USD) کی قدر کو ناپتا ہے، ایشیائی سیشن کے دوران اپنی شاندار تیزی کو برقرار رکھے ہوئے ہے
"decline continues in pakistani rupees where as gold prices also reached on ever high level" کے لیے 1149 نتائج۔
امریکی ڈالر انڈیکس ، جو کہ دنیا کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر (USD) کی قدر کو ناپتا ہے، ایشیائی سیشن کے دوران اپنی شاندار تیزی کو برقرار رکھے ہوئے ہے
قطری وزارتِ خارجہ کے عہدیدار ابراہیم ہاشمی کا یہ دوٹوک مؤقف کہ باب المندب Bab el Mandeb کی بندش دنیا بھر کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی، بین الاقوامی سفارت کاری اور انرجی مارکیٹس میں بے یقینی پیدا کر رہا ہے
یمن کی حوثی فورسز کی طرف سے Houthis attack on Saudi Arabia اور باب المندب کے قریب بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
پاکستانی روپیہ (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں آج معمولی گراوٹ کا شکار ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں بنیادی طلب کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پچھلے دن کی معمولی بہتری کے رجحان کے برعکس ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج موجودہ مالی سال کے لیے دوسری بار منعقد ہونے جا رہا ہے، اور مارکیٹ کے بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ اسٹیٹ بینک اپنی مانیٹری پالیسی Monetary Policy یعنی شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) کے حوالے سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سام آلٹمن نے تصدیق کی ہے کہ OpenAI کے IPO میں تاخیر آئندہ سال یعنی 2027 تک متوقع ہے
توانائی کے عالمی بحران نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں افراط زر کا طوفان کھڑا کر دیا ہے، اور ستمبر کے دوران مقامی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے عام شہریوں کی کمر توڑ دی ہے۔ اس کڑے وقت میں، عوام کو اس معاشی دباؤ سے نکالنے کے لیے Pakistan Petroleum Subsidy کا اجرا کیا گیا ہے، جو حکومت کا ایک بروقت اور ناگزیر قدم ہے۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں معمولی بہتری کے ساتھ 277.59 پر بند ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی کے باوجود مقامی طلب میں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، بنیادی اقتصادی دباؤ اور عالمی عوامل PKR کے لیے چیلنجز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو اس وقت شدید دھکا لگا جب Strait of Hormuz کے معاملے پر خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان ہونیوالی میٹنگ ملتوی ہونے کی تصدیق کی گئی۔
KSE-100 انڈیکس نے آج 170,512 پوائنٹس پر بندش دی، جو کہ دن کے نچلے ترین سطح 166,206 سے ایک مضبوط ریکوری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ 170,000 کی نفسیاتی سپورٹ سطح پر استحکام اور وسیع البنیاد فروخت کے بجائے رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن کے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاکستانی روپیہ (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی معمولی گراوٹ کا رجحان برقرار رکھے ہوئے ہے، جو 277.72 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ عالمی ڈالر کی مستحکم پوزیشن اور مقامی مارکیٹ میں درآمدی طلب کے مسلسل دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستانی شیئر بازار نے ابتدائی گھنٹوں میں شدید دباؤ اور فروخت کے رجحان کا سامنا کیا، لیکن دن کے دوسرے حصے میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی کی امیدوں نے ایسا پلٹا کھایا کہ انڈیکس تمام نقصانات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دن کی بلند ترین سطح کے قریب بند ہوا۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں