گذشتہ دس دنوں کے دوران ملک کے اندر پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل (High speed diesel) کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے Pakistan petroleum prices کے تناظر میں معاشی حلقوں میں بے یقینی ہے۔
"suits from sec is creating problems for legal tokens according to the experts" کے لیے 1151 نتائج۔
گذشتہ دس دنوں کے دوران ملک کے اندر پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل (High speed diesel) کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے Pakistan petroleum prices کے تناظر میں معاشی حلقوں میں بے یقینی ہے۔
پاکستانی روپیہ (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں آج معمولی گراوٹ کا شکار ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں بنیادی طلب کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پچھلے دن کی معمولی بہتری کے رجحان کے برعکس ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج موجودہ مالی سال کے لیے دوسری بار منعقد ہونے جا رہا ہے، اور مارکیٹ کے بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ اسٹیٹ بینک اپنی مانیٹری پالیسی Monetary Policy یعنی شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔
توانائی کے عالمی بحران نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں افراط زر کا طوفان کھڑا کر دیا ہے، اور ستمبر کے دوران مقامی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے عام شہریوں کی کمر توڑ دی ہے۔ اس کڑے وقت میں، عوام کو اس معاشی دباؤ سے نکالنے کے لیے Pakistan Petroleum Subsidy کا اجرا کیا گیا ہے، جو حکومت کا ایک بروقت اور ناگزیر قدم ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیینسکی کو یہ سخت تنبیہ جاری کی گئی ہے کہ وہ Russian Dieselاور ریفائنریز انفراسٹرکچر پر اپنے ڈرون حملے بند کریں۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں معمولی بہتری کے ساتھ 277.59 پر بند ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی کے باوجود مقامی طلب میں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، بنیادی اقتصادی دباؤ اور عالمی عوامل PKR کے لیے چیلنجز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو اس وقت شدید دھکا لگا جب Strait of Hormuz کے معاملے پر خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان ہونیوالی میٹنگ ملتوی ہونے کی تصدیق کی گئی۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں 0.36% کی معمولی بہتری کے ساتھ 277.69 پر بند ہوا، جو عالمی ڈالر انڈیکس (DXY) میں معمولی گراوٹ اور مقامی مارکیٹ میں طلب کے دباؤ میں عارضی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، بنیادی اقتصادی چیلنجز اور بیرونی کھاتوں کا دباؤ برقرار ہے۔
مشرق وسطی کی اہم ترین ایسٹ ویسٹ Saudi Oil Pipeline کو عارضی طور پر بند کرنے اور یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں سٹریٹجک جزیرہ پیرم پر قبضے نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے دن کی نچلی سطح 166,206 سے ایک نمایاں ریکوری دکھاتے ہوئے 170,512 پر بندش دی۔ یہ مضبوط واپسی 170,000 کی نفسیاتی سپورٹ پر خریداروں کی دلچسپی اور مارکیٹ میں رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن کے رجحان کی تصدیق کرتی ہے۔
پاکستانی روپیہ (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی معمولی گراوٹ کا رجحان برقرار رکھے ہوئے ہے، جو 277.72 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ عالمی ڈالر کی مستحکم پوزیشن اور مقامی مارکیٹ میں درآمدی طلب کے مسلسل دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
افراط زر کے اعداد و شمار نے Federal Reserve کے ان پالیسی سازوں کو مایوس کیا ہے جو یہ توقع کر رہے تھے کہ قیمتوں کا دباؤ خود بخود کم ہو جائے گا۔ اس صورتحال نے آئندہ ہفتے ہونے والے پالیسی اجلاس میں شرح سود میں اضافے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں