مشرق وسطیٰ کے تنازع اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث PSX میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس سے KSE100 انڈیکس سینکڑوں پوائنٹس نیچے آ گیا۔
"impacts of legal actions by us sec against binance on crypto currencies" کے لیے 1171 نتائج۔
مشرق وسطیٰ کے تنازع اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث PSX میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس سے KSE100 انڈیکس سینکڑوں پوائنٹس نیچے آ گیا۔
خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، Brent $99 اور WTI $93 کی سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر OPEC+ کی جانب سے سپلائی میں ممکنہ کمی اور عالمی طلب میں بہتری کی توقعات سے منسلک ہے، جس سے مارکیٹ میں تنگی کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,370 کی اہم تکنیکی سپورٹ پر استحکام دکھا رہی ہے، جہاں DXY میں معمولی کمی نے 'technical rebound' کی کوشش کو جنم دیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو کسی بھی تیزی کی حرکت کو محدود کر سکتے ہیں۔
ایشیائی سیشن کے دوران مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ یعنی WTI Crude Oil کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بڑھتے ہوئے تقریباً 92.30 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہی ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج شدید فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا جب دنیا بھر میں بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے
یورپی بینکنگ کے شعبے میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آج اٹلی کے معروف مالیاتی ادارے UniCredit کو یورپی مرکزی بینک کی جانب سے ایک بہت بڑا ریگولیٹری ریلیف مل گیا ہے۔
یمنی حوثی فورسز کی طرف سے سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات (Energy Facilities) اور شہروں پر کیے جانے والے حملوں نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
عالمی مارکیٹس میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، جو کہ امریکی خام تیل کی قیمتوں کا بنیادی معیار ہے، میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,400 کی نفسیاتی سپورٹ سطح کے قریب اپنی 'range-bound consolidation' کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ DXY میں معمولی کمی نے سونے کو کچھ ریلیف فراہم کی ہے، جبکہ پاکستان میں 24 قیراط سونے کی قیمت میں 1.55% کا نمایاں اضافہ مقامی ڈیمانڈ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.66 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی دباؤ اور مقامی طلب اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں، جبکہ عالمی ڈالر کی کمزوری بھی PKR کو سہارا دینے میں ناکام رہی ہے۔
نامور عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز ریٹنگز (Moody’s Ratings) کے ایک تجزیے کے مطابق، پاکستان نے اس Hormuz Shock کو 2022 کے ہولناک تیل بحران کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر طریقے سے برداشت کیا ہے۔
جاپانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جولائی کے دوران ملک میں Japan real wages میں سالانہ بنیادوں پر 2.4 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں