گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں یمنی ساحل پر ہونے والی فوجی پیش رفت اور بحیرہ احمر (Red Sea) میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی فنانشل مارکیٹس اور کماڈٹی ٹریڈرز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ Red Sea oil supply disruption کا خطرہ اب محض ایک نظریاتی بحث نہیں رہا بل
"positive end of the day in psx as saudi arabia assured imf about pakistans financial assistance" کے لیے 1171 نتائج۔
گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں یمنی ساحل پر ہونے والی فوجی پیش رفت اور بحیرہ احمر (Red Sea) میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی فنانشل مارکیٹس اور کماڈٹی ٹریڈرز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ Red Sea oil supply disruption کا خطرہ اب محض ایک نظریاتی بحث نہیں رہا بل
لیبر بیورو آف اسٹیٹسٹکس (BLS) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ امریکہ میں پروڈیوسر پرائس انڈیکس US PPI Inflation میں اگست کے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر 5.4 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی استحکام دکھا رہا ہے، جو 277.28 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ صورتحال عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، Brent $99 اور WTI $93 کی سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر OPEC+ کی جانب سے سپلائی میں ممکنہ کمی اور عالمی طلب میں بہتری کی توقعات سے منسلک ہے، جس سے مارکیٹ میں تنگی کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,370 کی اہم تکنیکی سپورٹ پر استحکام دکھا رہی ہے، جہاں DXY میں معمولی کمی نے 'technical rebound' کی کوشش کو جنم دیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو کسی بھی تیزی کی حرکت کو محدود کر سکتے ہیں۔
پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی گراوٹ کو روکا ہے اور 277.53 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو پچھلے سیشن کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔ تاہم، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے پیش نظر یہ استحکام نازک ہے۔
نیشنل بیورو آف سٹیٹسٹکس آف چائنا کی جانب سے Chinese CPI کے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، وہ نہ صرف معاشی ماہرین کی توقعات کے عین مطابق ہیں بلکہ ان کے اندر مستقبل کے کئی اہم تجارتی اشارے بھی چھپے ہیں
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے بندش دی ہے، جو پچھلی کمزور استحکام کی تھیسس کو غلط ثابت کرتا ہے۔ مارکیٹ میں وسیع البنیاد فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس سے مزید نیچے کی جانب رجحان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,400 کی نفسیاتی سپورٹ سطح کے قریب اپنی 'range-bound consolidation' کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ DXY میں معمولی کمی نے سونے کو کچھ ریلیف فراہم کی ہے، جبکہ پاکستان میں 24 قیراط سونے کی قیمت میں 1.55% کا نمایاں اضافہ مقامی ڈیمانڈ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.66 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی دباؤ اور مقامی طلب اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں، جبکہ عالمی ڈالر کی کمزوری بھی PKR کو سہارا دینے میں ناکام رہی ہے۔
اگست کی تجارتی رپورٹ Chinese Trade Balance نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ چینی معیشت عالمی سپلائی چین (Supply Chain) میں کتنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
نامور عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز ریٹنگز (Moody’s Ratings) کے ایک تجزیے کے مطابق، پاکستان نے اس Hormuz Shock کو 2022 کے ہولناک تیل بحران کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر طریقے سے برداشت کیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں