پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ سیشن کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس 800 پوائنٹس سے زائد گر گیا۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی فنانشل مارکیٹس کے دباؤ نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے
"کرپٹو اپڈیٹس بٹ کوائن سے ایولانچے تک ک 2" کے لیے 1161 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ سیشن کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس 800 پوائنٹس سے زائد گر گیا۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی فنانشل مارکیٹس کے دباؤ نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مارچ سے اگست 2026 کے جائزہ دورانیے کی بنیاد پر KSE100 انڈیکس کی تشکیل نو کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ جس کے تحت چار نئی کمپنیوں کو بینچ مارک انڈیکس میں شامل کیا گیا ہے جبکہ اتنے ہی یعنی چار اسٹاکس کو انڈیکس سے خارج کر دیا گیا ہے
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,303.59 پر ایک نئی نچلی سطح پر آ گئی ہے، جو $4,331.56 کی پچھلی سپورٹ کو توڑ کر 'bearish momentum' کے تسلسل کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکی ڈالر اور ٹریژری ییلڈز میں استحکام کے باوجود سونے کی قیمت میں کمی جاری ہے، اور $4,315 کی فوری مزاحمت سے نیچے کا 'daily close' مزید کمزوری کا اشارہ دے رہا ہے۔
اختتام ہفتہ پر تقریباً 4 فیصد کی گراوٹ کے بعد، مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( WTI Crude Oil) کی قیمتیں ایشیائی تجارتی اوقات میں بحالی کے بعد تقریباً 99.40 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی ہیں۔
پاکستانی ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، کیڑے مار ادویات، زرعی مشینری، کیمیکلز اور کھادوں کی درآمدات میں اہم تبدیلیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں معمولی گراوٹ کا شکار ہوا، جو 277.64 پر بند ہوا۔ یہ گراوٹ عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں درآمدی دباؤ کے درمیان جاری بیرونی کھاتے کے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔
سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار گزشتہ 36 سالوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ خطے میں جاری تنازعات، اہم سمندری گزرگاہوں کی بندش اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے سعودی عرب کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی سپلائی میں نمایاں کمی کرے۔
آج قطر سے آنے والا مائع قدرتی گیس (LNG Liquefied Natural Gas) کا ایک بحری جہاز پورٹ قاسم پہنچ گیا ہے، جس نے ملک کی توانائی کی مارکیٹ کو ریلیف دینے کے ساتھ ایک بڑی بحث کو جنم دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک بار پھر شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں کاروباری ہفتے کے دوران Middle East conflict کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے گئے۔
بینک آف انگلینڈ ) کے گورنر اینڈریو بیلی (Andrew Bailey) کی جانب سے برطانوی پارلیمنٹ کی ٹریژری کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر افراط زر اور مانیٹری پالیسی پر گواہی دینا معاشی حلقوں میں ایک انتہائی اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
آج جرمنی کے وفاقی ادارہ شماریات (Federal Statistics office) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار نے مارکیٹ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی ( تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور کموڈیٹیز کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں، US Iran conflict نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں