Trump Tariffs: امریکی Trade Policy کا نیا جھٹکا، Pakistan پر 29% ٹیرف!

A Boon for U.S. Industry or a Global Economic Setback?

امریکی صدر Donald Trump نے ایک اور جارحانہ اقتصادی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے دنیا کے 100 سے زائد ممالک پر نئے Trump Tariffs عائد کر دیے ہیں، جسے عالمی تجارتی ماہرین نے "تجارتی نظام پر ایٹم بم” قرار دیا ہے۔ اس فیصلے سے Pakistan سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہوگا، جب کہ بڑی معیشتیں بھی اس کے اثرات محسوس کریں گی۔

امریکی Trade Policy: ایک نیا اقتصادی دھچکا

White House کے مطابق 5 اپریل سے امریکہ تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد Trump Tariff نافذ کرے گا، جبکہ کچھ ممالک پر یہ شرح 50 فیصد تک جا سکتی ہے۔ Pakistan پر 29 فیصد، China پر 34 فیصد، اور India پر 26 فیصد Trump Tariff عائد کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ Canada اور Mexico کو اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے. جو کہ ٹرمپ انتظامیہ کی اقتصادی حکمت عملی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

کیا یہ Trade Policy امریکی معیشت کو فائدہ دے گی؟

یہ Trade Policy امریکی معیشت کو کیسے متاثر کرے گی؟ ماہرین کے مطابق اس سے امریکی صارفین کو زیادہ قیمتیں ادا کرنی پڑیں گی. کیونکہ زیادہ تر درآمدی کمپنیاں اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات صارفین تک منتقل کر دیں گی۔ IMF کے سینئر ماہر اقتصادیات Ken Rogoff کے مطابق، "یہ فیصلہ ممکنہ طور پر عالمی تجارتی نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے. کیونکہ اس سے کئی ممالک Recession کا شکار ہو سکتے ہیں۔”

ٹرمپ کا مؤقف: امریکی صنعت کے لیے سنہری موقع؟

دوسری جانب، ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ Trump Tariffs امریکی معیشت کو تقویت دیں گے. اور مقامی Manufacturing کو فروغ دیں گے۔ انھوں نے کہا، "اگر کمپنیاں امریکہ میں اپنی مصنوعات تیار کریں گی، تو ان پر کوئی Trade Tariff عائد نہیں ہوگا۔” تاہم، ماہرین اس نقطہ نظر سے متفق نہیں. کیونکہ ماضی میں ایسے فیصلوں نے امریکی صنعت کے بجائے درآمدی لاگت میں اضافہ کیا. اور تجارتی خسارے میں مزید اضافہ ہوا۔

ماضی کی مثال: China پر محصولات کا ناکام تجربہ

سنہ 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے China سے درآمد ہونے والے Solar Panels پر 30 فیصد Trump Tariff عائد کیا تھا. لیکن چینی کمپنیوں نے اپنے پیداواری یونٹس Malaysia، Thailand، Cambodia اور Vietnam منتقل کر دیے. جس سے امریکی پالیسی کا اثر زائل ہوگیا۔ یہی حکمت عملی دیگر ممالک بھی اپنا سکتے ہیں. جس سے امریکہ کے مقاصد پورے ہونے کے بجائے مزید تجارتی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

Financial Markets پر اثرات اور مستقبل کی پیش گوئیاں

تجارت کے اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں Stock Markets بھی غیر یقینی کا شکار نظر آئیں۔ Asian Markets میں Bearish Trend دیکھا گیا. جبکہ امریکی Stock Market صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد کچھ وقت کے لیے بند کر دی گئی۔ اقتصادی ماہرین خبردار کر رہے ہیں. کہ یہ Trade War مزید شدت اختیار کر سکتی ہے. اور عالمی معیشت میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، European Markets میں بھی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی. خاص طور پر Germany اور France کی Stock Exchanges میں اس اعلان سے پہلے گزشتہ روز شدید مندی دیکھنے کو ملی۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو Global Investment میں کمی آئے گی. جس سے نئی Business Ventures کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے بعد کئی ممالک اپنی کرنسیوں کی قدر میں ردوبدل کر سکتے ہیں. تاکہ درآمدی ٹیکس کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ Japan اور South Korea کی حکومتوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنی Trade Strategies پر نظرثانی کریں گے۔ اگر یہ اقدامات کیے جاتے ہیں تو آنے والے مہینوں میں عالمی Forex Market میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

کیا امریکہ عالمی تجارتی تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے؟

ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ حکمت عملی واقعی امریکی معیشت کے لیے سود مند ہوگی، یا پھر اس کے نتائج الٹ نکلیں گے؟ ماہرین کا خیال ہے کہ طویل المدتی اثرات امریکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں. کیونکہ عالمی تجارتی شراکت دار Alternative Markets کی تلاش میں لگ جائیں گے. جس سے امریکہ عالمی Trade Chain میں مزید تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔

کئی ممالک پہلے ہی Regional Trade Agreements کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں. تاکہ امریکی پابندیوں سے بچا جا سکے۔ China، Russia اور India جیسے بڑے اقتصادی کھلاڑیوں کے درمیان نئے Bilateral Trade Deals متوقع ہیں. جو امریکی معیشت کے لیے مزید مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر European Union بھی اسی سمت میں قدم اٹھاتا ہے، تو امریکہ کے لیے Export Market مزید محدود ہو سکتی ہے، جو کہ امریکی GDP Growth کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button