Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)

EUR/USD میں تیزی، ڈالر کمزور

اہم نکات

  • امریکی ڈالر کی کمزوری اور ECB کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات سے EUR/USD کو سپورٹ مل رہی ہے۔
  • 1.1600 اہم مزاحمتی سطح ہے۔
Noor

EUR/USD میں تیزی، ڈالر کمزور

جوڑی نے نئے ہفتے کا آغاز مضبوطی کے ساتھ کیا ہے کیونکہ امریکی ڈالر کی حالیہ کمزوری جاری ہے۔ امریکی معاشی اعداد و شمار میں نرمی، امریکی ٹریژری ییلڈز میں کمی اور فیڈرل ریزرو کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات میں کمی نے ڈالر کی طلب کو کم کیا ہے۔

دوسری جانب، یورپی مرکزی بینک (ECB) کی جانب سے ستمبر میں مزید شرحِ سود بڑھانے کی توقعات یورو کو سپورٹ فراہم کر رہی ہیں۔

اب ٹریڈرز کی توجہ اس بات پر ہے کہ آیا EUR/USD کی موجودہ بحالی ایک مضبوط تیزی کے رجحان میں تبدیل ہوتی ہے یا اہم مزاحمتی سطحوں کے قریب جوڑی کو دوبارہ فروخت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

EUR/USD امریکی ڈالر کی کمزوری سے فائدہ اٹھا رہا ہے

EUR/USD کی حالیہ حرکت کا سب سے بڑا سبب امریکی ڈالر کی وسیع پیمانے پر کمزوری ہے۔

حالیہ امریکی معاشی اعداد و شمار نے امریکی صارفین کی طلب اور مجموعی معیشت کی مضبوطی کے حوالے سے کچھ خدشات پیدا کیے ہیں۔ امریکی ریٹیل سیلز میں توقعات کے برخلاف کمی ہوئی، جبکہ صارفین کا اعتماد بھی کمزور رہا۔

اس صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں نے ستمبر میں فیڈرل ریزرو کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کو کم کر دیا ہے۔

امریکی ٹریژری ییلڈز میں بھی کمی ہوئی ہے، جس سے ڈالر پر مبنی اثاثوں کی کشش نسبتاً کم ہوئی ہے۔

ڈالر کی کمزوری کا فائدہ بڑی کرنسیوں کو ہوا ہے، جن میں یورو اور برطانوی پاؤنڈ بھی شامل ہیں۔

EUR/USD کے لیے یہ صورتحال قلیل مدت میں مثبت ہے کیونکہ کم امریکی ییلڈز عام طور پر ڈالر کے مقابلے میں یورو کو نسبتاً زیادہ پرکشش بناتی ہیں۔

فیڈ کی پالیسی EUR/USD کے لیے اہم ہے

آنے والے ہفتوں میں فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی EUR/USD کے لیے اہم ترین عوامل میں سے ایک رہے گی۔

فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود کو 3.5% سے 3.75% کی حد میں برقرار رکھا ہوا ہے، تاہم پالیسی سازوں کے درمیان اگلے فیصلے کے حوالے سے اختلاف موجود ہے۔

کچھ حکام اب بھی مہنگائی کے دباؤ کے بارے میں فکرمند ہیں، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے۔

تاہم کمزور روزگار اور ریٹیل سیلز کے اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کو فیڈ کی جارحانہ سخت پالیسی کے حوالے سے محتاط کر دیا ہے۔

اس ہفتے فیڈرل ریزرو کے اجلاس کی منٹس جاری ہوں گی، جو مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔

ٹریڈرز یہ دیکھیں گے کہ کتنے فیڈ حکام مزید شرحِ سود میں اضافے کی حمایت کرتے ہیں اور کیا مرکزی بینک معاشی ترقی میں سست روی کے حوالے سے زیادہ فکر مند ہے۔

اگر منٹس سے نرم پالیسی کا اشارہ ملتا ہے تو امریکی ڈالر پر مزید دباؤ آ سکتا ہے اور EUR/USD کو اضافی سپورٹ مل سکتی ہے۔

دوسری جانب، اگر منٹس میں مہنگائی کے حوالے سے مضبوط خدشات سامنے آتے ہیں تو ڈالر دوبارہ مضبوط ہو سکتا ہے۔

ECB کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات یورو کو سپورٹ کر رہی ہیں

جب فیڈ کی پالیسی نسبتاً کم سخت دکھائی دے رہی ہے، تو یورپی مرکزی بینک کا مؤقف نسبتاً زیادہ سخت نظر آ رہا ہے۔

حالیہ مارکیٹ توقعات کے مطابق ECB ستمبر میں ایک اور شرحِ سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث یورو زون کی مہنگائی ECB کے 2 فیصد ہدف سے مزید دور ہو سکتی ہے۔

اگر ECB مزید شرحِ سود بڑھاتا ہے اور اس کے بعد کچھ عرصے کے لیے شرحیں بلند سطح پر برقرار رکھتا ہے تو یہ یورو کے لیے مثبت ہو سکتا ہے۔

یہاں مانیٹری پالیسی میں فرق اہم ہو جاتا ہے۔

اگر فیڈ شرحِ سود میں اضافے سے پیچھے ہٹتا ہے جبکہ ECB سخت پالیسی جاری رکھتا ہے، تو امریکہ اور یورو زون کے درمیان شرحِ سود کا فرق کم ہو سکتا ہے۔

یہ صورتحال سرمایہ کاروں کو یورو میں زیادہ سرمایہ کاری کی طرف راغب کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر یورپی معاشی اعداد و شمار بھی مضبوط رہتے ہیں۔

توانائی کی قیمتیں EUR/USD کے لیے اہم عنصر

یورو زون کی مہنگائی کا منظرنامہ توانائی کی قیمتوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بلند سطح پر ہیں۔

EUR/USD کے لیے بلند توانائی کی قیمتوں کے دو مختلف اثرات ہو سکتے ہیں۔

ایک طرف، توانائی کی بلند قیمتیں مہنگائی میں اضافہ کر سکتی ہیں، جس سے ECB کو شرحِ سود بلند رکھنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ یہ یورو کے لیے مثبت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، مہنگی توانائی یورپی صارفین اور کاروباروں پر دباؤ ڈال سکتی ہے، جس سے معاشی ترقی سست ہو سکتی ہے۔

اسی لیے ٹریڈرز کو صرف مہنگائی پر توجہ نہیں دینی چاہیے بلکہ یورپی معاشی ترقی کو بھی قریب سے مانیٹر کرنا چاہیے۔

EUR/USD کا تکنیکی جائزہ

تکنیکی اعتبار سے EUR/USD کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ جوڑی نے نچلی سطحوں پر سپورٹ حاصل کرنے کے بعد بحالی کا آغاز کیا ہے۔

EUR/USD کا حالیہ دو ماہ کی بلند ترین سطح کی طرف بڑھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خریداروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔

اہم مزاحمتی سطحیں

1.1600 EUR/USD کے لیے ایک اہم نفسیاتی اور تکنیکی مزاحمتی سطح ہے۔

اگر جوڑی روزانہ بنیاد پر 1.1600 کے اوپر مضبوط کلوز دیتی ہے تو تیزی کا مومینٹم مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد ٹریڈرز کی توجہ:

1.1650 — اگلی مزاحمت

1.1700 — اہم نفسیاتی مزاحمت

پر ہو سکتی ہے۔

اہم سپورٹ لیولز

نچلی جانب 1.1500 ایک اہم نفسیاتی سپورٹ ہے۔

اگر EUR/USD مسلسل 1.1500 سے نیچے چلا جاتا ہے تو موجودہ تیزی کا رجحان کمزور ہو سکتا ہے اور جوڑی مزید نیچے اصلاحی حرکت کر سکتی ہے۔

اہم سطحیں:

مزاحمت: 1.1600

زیادہ مزاحمت: 1.1650

اہم مزاحمت: 1.1700

سپورٹ: 1.1500

نچلی سپورٹ: 1.1450

اگر جوڑی 1.1600 کے اوپر بریک آؤٹ کرتی ہے تو خریدار مضبوط ہو سکتے ہیں، جبکہ 1.1500 سے نیچے بریک آؤٹ فروخت کنندگان کی واپسی کا اشارہ دے سکتا ہے۔

ٹریڈرز کو کن چیزوں پر نظر رکھنی چاہیے؟

EUR/USD ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں سرمایہ کار مانیٹری پالیسی کی توقعات کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی ڈالر کی حالیہ کمزوری نے یورو کو بحالی کا موقع فراہم کیا ہے، جبکہ ECB کی سخت پالیسی کی توقعات یورو کو اضافی سپورٹ دے رہی ہیں۔

آنے والی فیڈرل ریزرو اجلاس کی منٹس اور معاشی اعداد و شمار جوڑی کی اگلی بڑی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

فی الحال 1.1600 EUR/USD کے خریداروں کے لیے اہم سطح ہے۔

اگر جوڑی اس سطح کے اوپر مضبوط بریک آؤٹ دیتی ہے تو تیزی کا رجحان جاری رہنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اگر مزاحمت سے ریجیکشن ملتا ہے تو قلیل مدتی اصلاح دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

ٹریڈرز کو امریکی ٹریژری ییلڈز، تیل کی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کو بھی مانیٹر کرنا چاہیے کیونکہ یہ عوامل EUR/USD پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔

نتیجہ

EUR/USD نے نئے ہفتے کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ کیا ہے کیونکہ امریکی ڈالر کی کمزوری جاری ہے۔ کمزور امریکی ریٹیل سیلز، فیڈ کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات میں کمی اور ٹریژری ییلڈز میں کمی ڈالر پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

دوسری جانب، ECB کی مزید شرحِ سود میں اضافے کی توقعات یورو کو سپورٹ فراہم کر رہی ہیں۔

تکنیکی اعتبار سے بھی آؤٹ لک تیزی کا ہے، جب تک EUR/USD 1.1500 کے سپورٹ زون کے اوپر برقرار رہتا ہے۔

1.1600 کے اوپر بریک آؤٹ تیزی کے رجحان کو مزید مضبوط کر سکتا ہے اور جوڑی کو 1.1650 اور 1.1700 کی جانب لے جا سکتا ہے۔

تاہم مہنگائی، مرکزی بینکوں کے بیانات اور جغرافیائی سیاسی خطرات کی وجہ سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ اس لیے ٹریڈرز کو اہم تکنیکی سطحوں پر تصدیق کا انتظار کرنا چاہیے اور صرف موجودہ مومینٹم کی بنیاد پر ٹریڈنگ کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

📰 مزید پڑھیں: کمزور امریکی ڈیٹا سے ڈالر پر دباؤ

⚠ ڈسکلیمر

یہ مضمون صرف تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔ یہ کوئی سرمایہ کاری، مالیاتی، یا تجارتی مشورہ نہیں ہے۔ فاریکس (Forex)، اسٹاک، کموڈٹیز اور کرپٹو کرنسی کی تجارت میں نمایاں مالی خطرہ موجود ہے اور یہ ہر سرمایہ کار کے لیے موزوں نہیں۔ ماضی کی کارکردگی مستقبل کے نتائج کی ضمانت نہیں ہے۔ کوئی بھی سرمایہ کاری یا ٹریڈنگ فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی مالی حیثیت کا جائزہ لیں اور کسی مستند مالیاتی مشیر سے رجوع کریں۔ اردو مارکیٹس اس مضمون میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر ہونے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
N

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

0 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں