Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)

جاپانی ین میں سست روی: کمزور ڈالر اور بینک آف جاپان کے اقدامات

★اہم نکات

  • •USDJPY کمزور امریکی ڈالر اور بینک آف جاپان (BoJ) کی سخت مانیٹری پالیسی کی توقعات کی وجہ سے 158.00 سے نیچے محدود رینج میں پھنسا ہوا ہے۔
  • •جاپان میں شہریوں کے گھریلو اخراجات (Household Spending) میں مسلسل نویں ماہ کمی دیکھی گئی ہے، تاہم حقیقی اجرتوں میں اضافے نے پالیسی سخت کرنے کی امیدوں کو زندہ رکھا ہے۔
  • •امریکی ٹریژری ییلڈز میں کمی اور افراط زر کے دباؤ میں کمی نے امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) کو 18 ماہ کی بلندی سے نیچے دھکیل دیا ہے۔
  • •تکنیکی طور پر، 4 گھنٹے کے چارٹ پر 100 روزہ سمپل موونگ ایوریج (SMA) کے اوپر ٹریڈ کی وجہ سے قریبی مدت کا رجحان اب بھی مثبت (Bullish) ہے۔
Robina Adeel
Robina Adeel ←

84 مشاہدات

جاپانی ین اور امریکی ڈالر کی نمائندگی کرنے والی مالیاتی تصویر، جس میں کرنسی کی علامتیں، جاپان اور امریکہ کے پرچم اور فاریکس مارکیٹ کے کینڈل اسٹک چارٹس دکھائے گئے ہیں۔
امریکی ڈالر میں نرمی کے باعث جاپانی ین کی قدر میں مزید کمی محدود، جبکہ USDJPY مارکیٹ میں سرمایہ کار واضح سمت کے منتظر ہیں۔

کرنسی مارکیٹ میں USDJPY ان دنوں ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایشیائی سیشن کے دوران معمولی اضافے کے باوجود، یہ جوڑا 158.00 کی حد سے نیچے اپنے روزانہ کے نچلے رینج کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔

ایک طرف جہاں جاپان کے کمزور معاشی اعداد و شمار اورشہریوں کے گھریلو اخراجات میں کمی نے ین کو دباؤ میں رکھا ہے، وہیں دوسری طرف امریکی ڈالر (USD) کی مجموعی کمزوری اور جاپان کے مرکزی بینک (BoJ) کی طرف سے شرح سود میں اضافے کی توقعات اس جوڑے کی مزید اوپر جانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ اس مضمون میں ہم اس مارکیٹ رجحان کے تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کریں گے۔

USDJPY پر اثرانداز ہونیوالے عوامل

حالیہ دنوں میں USDJPY میں کوئی بڑی یا فیصلہ کن سمت دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ اس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور جاپانی معیشت سے آنے والے ملے جلے اشارے ہیں۔ آج ایشیائی سیشن میں ابتدائی تیزی کے بعد اس جوڑے میں دوبارہ فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ جاپان کے کمزور معاشی اعداد و شمار اور مارکیٹ میں مداخلت (Currency Intervention) کا مسلسل خوف ہے۔

جاپان میں جاری معاشی بحران کے باوجود، ماہرین کا ماننا ہے کہ بینک آف جاپان آہستہ آہستہ شرح سود میں اضافہ جاری رکھے گا، جس سے کیری ٹریڈ (Carry Trade) کی روایت کمزور ہو رہی ہے۔

جاپانی معاشی اعداد و شمار اور بینک آف جاپان کی پالیسی کے اثرات

جاپان میں جاری معاشی دباؤ کے بعد آج جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، جاپان میں شہریوں کے گھریلو اخراجات (Household Spending) میں مسلسل نویں ماہ کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم، گراوٹ توقع سے کم رہی اور ساتھ ہی حقیقی اجرتوں میں لگاتار آٹھویں ماہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس صورتحال نے بینک آف جاپان (Bank of Japan) کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کو تقویت دی ہے۔

رابوبینک (Rabobank) کے ایف ایکس سٹریٹجسٹس (FX Strategists) کے مطابق، اگرچہ ستمبر کی پالیسی میٹنگ میں شرح سود میں توقع کے مطابق اضافہ کیا گیا تھا، لیکن بینک آف جاپان کا لہجہ اتنا جارحانہ نہیں تھا جتنا کہ مارکیٹ کو توقع تھی۔ اس کے باوجود، بتدریج شرح سود بڑھانے کی پالیسی روایتی طور پر سستے قرضوں کی کرنسی کے طور پر ین کی کشش کو کم کر رہی ہے۔

جاپانی معیشت میں افراط زر اور اجرتوں کا باہمی تعلق اب مرکزی بینک کے فیصلوں کا سب سے بڑا محرک بن چکا ہے۔

امریکی ڈالر (USD) پر دباؤ کی وجوہات

جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ امریکہ نومبر کے وسط مدتی کانگریس کے انتخابات سے پہلے ایران پر کوئی فوجی حملے دوبارہ شروع نہیں کرے گا، خام تیل کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا اور افراط زر سے جڑے خدشات کم ہوئے۔ اس کے علاوہ، 30 سالہ بانڈ کی نیلامی کو زبردست پذیرائی ملی جس سے امریکی ٹریژری ییلڈز (US Treasury Yields) میں اصلاحی کمی واقع ہوئی۔

نتیجے کے طور پر، ڈالر انڈیکس (DXY)، جو کہ اہم کرنسیوں کے مقابلے میں گرین بیک کی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے، اپنی 18 ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آ گیا۔ یہ عنصر USDJPY کی کسی بھی بڑی اوپر کی حرکت کو محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

جغرافیائی سیاسی تناؤ (Geopolitical Tensions) کا کردار

اگرچہ امریکی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے دسمبر میں شرح سود بڑھانے کے امکانات تاحال 80 فیصد سے زیادہ ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر جاری تعطل جیسے جغرافیائی سیاسی خطرات محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) کے طور پر ڈالر کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی کے اس بیان کے بعد کہ ملک یورینیم افزودگی یا اپنا ذخیرہ نہیں چھوڑے گا، مارکیٹ میں رسک پریمیم برقرار ہے۔ یہ صورتحال طویل المدتی طور پر ڈالر کے خریداروں کے لیے ایک اہم سہارا ہے۔

تجربہ کار ٹریڈرز جانتے ہیں کہ جب بھی جغرافیائی کشیدگی اور مرکزی بینکوں کی سخت پالیسیاں ایک ساتھ سر اٹھاتی ہیں، تو کرنسی جوڑے اپنی عام تکنیکی حدود کو توڑ کر غیر متوقع اتار چڑھاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

USDJPY کا تکنیکی جائزہ

چار گھنٹے کے چارٹ پر USDJPY کا قریبی مدت کا رجحان (Near-Term Bias) اب بھی مثبت دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ یہ جوڑا 100 پیریڈ سمپل موونگ ایوریج سے اوپر برقرار ہے۔ موجودہ سست روی کو تیزی کے استحکام (Bullish Consolidation Phase) کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خریداری کا دباؤ محدود ہونے کے باوجود وسیع تر اوپر کا رجحان (Uptrend) برقرار ہے۔

سپورٹ اور مزاحمت کی سطحیں

ابتدائی سپورٹ (Initial Support) 157.59 کے قریب موجود ہے، جہاں 100 پیریڈ سمپل موونگ ایوریج جوڑے کو اہم سہارا فراہم کر رہی ہے۔ اگر قیمت اس سطح سے اوپر برقرار رہتی ہے تو قریبی مدت میں مثبت رجحان کو تقویت مل سکتی ہے، جبکہ اس سطح سے نیچے آنے کی صورت میں فروخت کا دباؤ بڑھنے کا امکان ہوگا۔

فوری مزاحمت (Immediate Resistance) 158.50 کی سطح پر موجود ہے، جو موجودہ تجارتی رینج کی بالائی حد اور ایک اہم رکاوٹ ہے۔ اگر جوڑا اس سطح سے اوپر مسلسل مضبوطی دکھاتا ہے تو تیزی کے رجحان کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

دوسری جانب، اس مزاحمتی سطح کو عبور کرنے میں ناکامی قیمت کو موجودہ رینج میں محدود رکھ سکتی ہے۔ اس ہفتے کے اختتام پر یونیورسٹی آف مشی گن کے صارفین کے اعتماد سے متعلق اعداد و شمار اور فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کے اراکین کی تقاریر بھی مارکیٹ کی اگلی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

حاصل کلام

مجموعی طور پر، USDJPY اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر ہے جہاں معاشی اعداد و شمار، مرکزی بینکوں کی پالیسیاں اور جغرافیائی سیاسی صورتحال سب مل کر قیمتوں کے دائرہ کار کو محدود کر رہے ہیں۔

اگرچہ بینک آف جاپان کی بتدریج سختی اور کمزور امریکی ڈالر اس جوڑے کی تیزی کو دبا رہے ہیں، لیکن تکنیکی بنیادیں اب بھی مضبوطی کا اشارہ دیتی ہیں۔ ایک کامیاب سرمایہ کار کے طور پر، آپ کو آنے والے دنوں میں آنے والے اقتصادی اعداد اور بیانات پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔

آپ کا اس مارکیٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ اس وقت خرید کا ارادہ رکھتے ہیں یا فروخت کا؟ اپنے خیالات نیچے کمنٹس باکس میں ضرور شیئر کریں۔

انتباہ

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

سورس (Source)

Reuters News Agency: https://www.reuters.com/markets/

⚠ ڈسکلیمر

یہ مضمون صرف تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔ یہ کوئی سرمایہ کاری، مالیاتی، یا تجارتی مشورہ نہیں ہے۔ فاریکس (Forex)، اسٹاک، کموڈٹیز اور کرپٹو کرنسی کی تجارت میں نمایاں مالی خطرہ موجود ہے اور یہ ہر سرمایہ کار کے لیے موزوں نہیں۔ ماضی کی کارکردگی مستقبل کے نتائج کی ضمانت نہیں ہے۔ کوئی بھی سرمایہ کاری یا ٹریڈنگ فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی مالی حیثیت کا جائزہ لیں اور کسی مستند مالیاتی مشیر سے رجوع کریں۔ اردو مارکیٹس اس مضمون میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر ہونے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏

متعلقہ موضوعات

”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

0 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں