کیا ریزرو بینک آف آسٹریلیا کی سخت پالیسی AUDUSD کو سہارا دے سکے گی؟

Hawkish RBA vs Soft USD Keeps the Pair in a Tight Financial Battle

آسٹریلوی ڈالر (AUD) اس وقت ایک مشکل دوراہے پر کھڑا ہے۔ امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں یہ مسلسل پانچویں دن دباؤ کا شکار ہے اور ایک ہفتے کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ ہو رہا ہے۔ مارکیٹ میں اس وقت دو بڑی طاقتیں آپس میں ٹکرا رہی ہیں.

ایک طرف چین کی گرتی ہوئی معیشت اور کمزور عالمی خطرے کی بھوک (Risk Appetite) ہے. تو دوسری طرف ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کا سخت گیر موقف (Hawkish Stance)۔ ایک تجربہ کار ٹریڈر کے لیے یہ صورتحال "صبر اور مشاہدے” کی بہترین مثال ہے۔

اہم نکات (Key Points)

  • منفی رجحان: چین کے مایوس کن معاشی ڈیٹا اور عالمی مارکیٹ میں بے یقینی کی وجہ سے AUDUSD پر دباؤ برقرار ہے۔

  • مرکزی بینکوں کا فرق: RBA ابھی بھی شرح سود برقرار رکھنے یا بڑھانے کے حق میں ہے. جبکہ فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے کٹوتی کی توقعات ڈالر کی بحالی کو روک رہی ہیں۔

  • اہم سپورٹ لیول: ٹریڈرز کے لیے 0.6620 اور 0.6600 کے لیولز انتہائی اہم ہیں. ان سے نیچے بریک آؤٹ بڑی مندی کا سبب بن سکتا ہے۔

  • آئندہ اہم ایونٹ: جمعرات کو آنے والے امریکی CPI اعداد و شمار مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔

AUDUSD کی قیمت میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟

آسٹریلوی ڈالر کو اکثر "پروکسی کرنسی” (Proxy Currency) کہا جاتا ہے. کیونکہ اس کا گہرا تعلق چین کی معیشت سے ہے۔ پیر کے روز چین سے آنے والے کمزور معاشی ڈیٹا نے عالمی سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے. جس کا براہ راست اثر آسٹریلوی ڈالر پر پڑا۔ اس کے ساتھ ساتھ، عالمی مارکیٹ میں ‘رسک آف’ (Risk-off) کی کیفیت ہے. جہاں سرمایہ کار پرخطر اثاثوں سے پیسہ نکال کر محفوظ پناہ گاہوں کی طرف جا رہے ہیں۔

یہاں مجھے 2015 کی یاد آتی ہے. جب چین کی مارکیٹ میں کریش آیا تھا۔ اس وقت بھی آسٹریلوی ڈالر اسی طرح دباؤ کا شکار ہوا تھا۔ میں نے سیکھا کہ جب چین کی معیشت چھینکتی ہے. تو آسٹریلوی ڈالر کو زکام ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں صرف چارٹس نہیں. بلکہ بیجنگ سے آنے والی خبروں پر نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔)

کیا RBA کا ہاکش (Hawkish) موقف آسٹریلوی ڈالر کو بچا پائے گا؟

جہاں دنیا کے بڑے مرکزی بینک جیسے فیڈرل ریزرو (Fed) شرح سود میں کمی (Rate Cuts) کی باتیں کر رہے ہیں. وہیں ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) اب بھی افراط زر کو قابو کرنے کے لیے سخت پالیسی پر کاربند ہے۔ یہ "پالیسی ڈائیورجنس” (Policy Divergence) یعنی دو مرکزی بینکوں کے درمیان پالیسی کا فرق، AUDUSD کو بہت زیادہ گرنے سے روک رہا ہے۔ اگر امریکی ڈالر کمزور ہوتا ہے، تو آسٹریلوی ڈالر کی یہ مضبوطی اسے تیزی سے اوپر لے جا سکتی ہے۔

تکنیکی تجزیہ: اہم سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز

مندی کا رجحان (Bearish Outlook)

اگر ہم گھنٹہ وار چارٹ (Hourly Chart) کو دیکھیں، تو قیمت 100-SMA سے نیچے ٹریڈ ہو رہی ہے. جو کہ مندی کی علامت ہے۔

  • پہلی سپورٹ: 0.6620 – 0.6615

  • نفسیاتی لیول: 0.6600 اگر قیمت 0.6600 سے نیچے بند ہوتی ہے. تو اگلا ہدف 0.6540 اور پھر 0.6500 ہو سکتا ہے۔

AUDUSD as on 17th December 2025
AUDUSD as on 17th December 2025

تیزی کا رجحان (Bullish Outlook)

خریداروں کے لیے پہلا بڑا امتحان 0.6645 – 0.6650 کا زون ہے۔

  • پہلی رکاوٹ: 0.6685

  • سالانہ ہدف: 0.6700 سے اوپر کی کلوزنگ مارکیٹ کو 0.6800 تک لے جا سکتی ہے۔

AUDUSD کے کلیدی لیولز 

لیول کی قسم قیمت (Price Level) اہمیت
میجر ریزسٹنس 0.6700 سالانہ بلند ترین سطح (YTD High)
فوری رکاوٹ 0.6650 حالیہ سوئنگ ہائی
فوری سپورٹ 0.6615 اہم ہوریزنٹل لیول
میجر سپورٹ 0.6500 نفسیاتی سپورٹ (Psychological Support)

آگے کیا ہونے والا ہے؟

مارکیٹ اس وقت جمعرات کو جاری ہونے والے امریکی سی پی آئی (US CPI) ڈیٹا کا انتظار کر رہی ہے۔ اگر افراط زر کے اعداد و شمار توقع سے کم آتے ہیں، تو امریکی ڈالر کمزور ہوگا. اور AUDUSD میں ایک زبردست ریبالی (Rally) دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ لیکن اگر ڈیٹا مضبوط آیا. تو 0.6600 کا لیول ٹوٹنا یقینی نظر آتا ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آسٹریلوی ڈالر 0.6600 کی سطح کو برقرار رکھ پائے گا. یا چین کے معاشی حالات اسے مزید نیچے لے جائیں گے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button