امریکی ڈالر انڈیکس جو کہ دنیا کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر (USD) کی قدر کا پیمانہ ہے، ایشیائی سیشن کے دوران مسلسل چوتھے روز بھی دباؤ کا شکار ہے اور یہ تقریباً 98.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
Tag
ماہرین کے تجزیے، رائے، اور گہری ریسرچ — مالیاتی منڈی کے ہر زاویے پر۔
547 مضامین
امریکی ڈالر انڈیکس جو کہ دنیا کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر (USD) کی قدر کا پیمانہ ہے، ایشیائی سیشن کے دوران مسلسل چوتھے روز بھی دباؤ کا شکار ہے اور یہ تقریباً 98.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
1.1640EUR/USD کے قریب مستحکم ہے، جبکہ مارکیٹ کی توجہ ECB کے interest rate decision، Christine Lagarde کے comments اور Eurozone کی 3.3% inflation پر ہے۔ ECB سے interest rate کو 2.50% تک بڑھانے کی توقع ہے۔ دوسری جانب US PPI اور CPI inflation data Federal Reserve کی rate expectations اور US dollar کی direction کو متاثر کر سکتے ہیں۔ Oil prices کا 100 per barrel dollar سے اوپر رہنا بھی inflation concerns میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ US Treasury yields میں اضافے سے dollar کو support مل سکتا ہے۔ Technical analysis میں 1.1600 اہم support جبکہ 1.1700 اہم resistance ہے۔ 1.1700 کے اوپر breakout ہونے پر 1.1750 کی طرف مزید upside ممکن ہے، جبکہ 1.1600 سے نیچے break ہونے پر 1.1550 کی طرف selling pressure بڑھ سکتا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,411 کی سطح پر مستحکم ہے، جہاں $4,370 کی اہم تکنیکی سپورٹ برقرار ہے۔ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے، تاہم امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے $4,455 کی مزاحمتی سطح کو عبور کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی استحکام دکھا رہا ہے، جو 277.28 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ صورتحال عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ US Iran war امریکی مڈٹرم انتخابات کے فوراً بعد "فوری طور پر" ختم ہو جائے گی
153.00USD/JPY کے قریب trade کر رہا ہے اور Japanese Yen کی مضبوطی کے باعث Dollar پر bearish pressure برقرار ہے۔ BoJ کی ممکنہ rate hike اور مزید monetary tightening کی توقعات Yen کو support دے رہی ہیں، جبکہ Dollar US inflation data کی اگلی direction کے لیے اہم ہوگا۔ Technical Analysis میں 152.12 اہم support ہے، جس کے break ہونے پر 149.30 تک decline کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اوپر کی جانب 154.39 پہلی resistance اور 154.88 اہم resistance ہے۔ 154.88 کے اوپر USD/JPY sustained move میں recovery کا امکان بڑھا سکتا ہے، جبکہ اس level کے نیچے رہنے سے bearish outlook برقرار رہ سکتا ہے۔
AUD/USD میں تیزی کا رجحان مضبوط ہو رہا ہے اور آسٹریلوی ڈالر کئی ماہ کی بلند سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔ RBA کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کی توقعات AUD کو سپورٹ دے رہی ہیں، جبکہ آسٹریلیا میں مہنگائی ہدف سے اوپر اور روزگار کی صورتحال نسبتاً مضبوط ہے۔ دوسری جانب کمزور Consumer Sentiment اور بلند شرح سود صارفین پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ US Dollar کے لیے آنے والا PPI اور CPI data اہم ہے۔ مضبوط امریکی Inflation سے US Dollar کو سپورٹ مل سکتی ہے اور AUD/USD پر دباؤ آ سکتا ہے، جبکہ کمزور Inflation پیئر کو مزید اوپر لے جا سکتی ہے۔ Technical Analysis میں 0.7278، 0.7300 اور 0.7350 اہم Resistance levels ہیں، جبکہ 0.7200، 0.7150 اور 0.7100 اہم Support levels ہیں۔ 0.7278 کے اوپر Breakout مزید تیزی کا راستہ کھول سکتا ہے، جبکہ 0.7200 سے نیچے جانے سے Correction کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر 0.7200 کے اوپر AUD/USD کا Bias Bullish ہے۔
Ethereum کی قیمت $2,450 کی سطح کے قریب مستحکم ہو رہی ہے، جہاں L2 ایکو سسٹم کی مضبوط ترقی اور نیٹ ورک کی بنیادی باتوں میں بہتری فروخت کے دباؤ کو متوازن کر رہی ہے۔ ETH/BTC کا رشتہ ایک اہم کرپٹو بیٹا اشارے کے طور پر کام کر رہا ہے، جبکہ عالمی میکرو غیر یقینی صورتحال مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
Bitcoin $78,000 کی اہم سطح پر استحکام دکھا رہا ہے، جس میں ETF flows اور on-chain metrics سے مضبوط حمایت حاصل ہے۔ مارکیٹ halving cycle کے بعد کی ریلی کے لیے بنیاد بنا رہی ہے، لیکن $79,000 پر فوری مزاحمت برقرار ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اگست 2026 میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کا حجم 3.656 ارب ڈالر رہا۔ یہ کارکردگی ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج دن بھر فروخت کا دباؤ دیکھا گیا ، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی مارکیٹس میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے
Brent Crude Oil آج یورپی سیشنز کے دوران 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو عبور کرتے ہوئے چھ ہفتے کی نئی بلندی پر پہنچ گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں شدت اختیار کرتی ہوئی کشیدگی اور اہم بحری گزرگاہوں پر ہونے والے حملے ہیں۔
✓ شکریہ! آپ کی سبسکرپشن کامیابی سے درج ہو گئی۔
پہلا ڈائجسٹ آپ کے انباکس میں جلد پہنچے گا۔
آپ کے پسندیدہ معاشی شعبے، سونا صرافہ، فاریکس اور پی ایس ایکس ایکسچینج کی روزانہ یا ہفتہ وار آپ ڈیٹس براہِ راست اِن باکس میں وصول کریں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں