Gold Price دباؤ میں، USD کی واپسی اور آبنائے ہرمز کشیدگی نے مارکیٹ کو ہلا دیا
Weak Inflation Data and Diplomatic Hopes Keep Gold Market in Balance
عالمی مارکیٹس میں اس وقت سونے کی قیمت (Gold Price) ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ حالیہ دنوں میں سونا اپنی چار ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچنے کے بعد معمولی گراوٹ کا شکار ہوا ہے. جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر (US Dollar) میں آنے والی جزوی ریکوری ہے۔
تاہم، مشرق وسطیٰ بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں عدم استحکام نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ اس بلاگ میں ہم Gold Price Forecast and US-Iran Geopolitics کے تناظر میں Gold Price کے مستقبل، تکنیکی اشاریوں اور بنیادی عوامل کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
جیو پولیٹیکل اثرات: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال Gold Price کو سپورٹ فراہم کر رہی ہے۔
-
امریکی ڈالر کی پوزیشن: ڈالر کی معمولی ریکوری نے سونے پر دباؤ ڈالا ہے. لیکن Federal Reserve کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے کم ہوتے امکانات سونے کے لیے مثبت ہیں۔
-
افراط زر کے اعداد و شمار: امریکہ میں پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) کے توقع سے کم اعداد و شمار نے ڈالر کی برتری کو محدود کر دیا ہے۔
-
تکنیکی صورتحال: Gold Price اسوقت $4,800 سے اوپر مستحکم ہے. اور $4,912 کی سطح عبور کرنے کی صورت میں $5,400 تک جا سکتی ہے۔
کیا امریکہ اور ایران کے تعلقات Gold Price پر اثر انداز ہو رہے ہیں؟
امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی اور فوجی تناؤ Gold Price میں اتار چڑھاؤ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جب بھی عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے. سرمایہ کار "محفوظ پناہ گاہ” (Safe Haven Asset) کے طور پر سونے کا رخ کرتے ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) کی جانب سے جوابی کارروائی کے خدشات نے مارکیٹ میں خوف پیدا کیا ہے۔ اگرچہ امریکی نائب صدر جے ڈی ونس (JD Vance) نے ایران کی عالمی معیشت میں شمولیت کے حوالے سے پرامید بیان دیا ہے. لیکن زمینی حقائق تاحال پیچیدہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کی امید نے ڈالر پر دباؤ ڈالا ہے. جو کہ بالواسطہ طور پر Gold Price کے لیے ایک اچھا شگون ہے۔
امریکہ کے معاشی اعداد و شمار اور Gold Price کا مستقبل
Gold Price کا براہ راست تعلق امریکی معیشت کی صحت سے ہوتا ہے۔ منگل کو جاری ہونے والے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) کے اعداد و شمار نے مارکیٹ کے شرکاء کو حیران کر دیا۔
پی پی آئی (PPI) رپورٹ کے اہم پہلو.
-
سالانہ اضافہ: مارچ میں پی پی آئی 4% رہا، جو فروری میں 3.4% تھا۔
-
توقعات سے کم: اگرچہ مہنگائی بڑھی ہے، لیکن یہ ماہرین کے اندازوں سے کم رہی۔
-
اثر: ان اعداد و شمار کے بعد امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار (Bond Yields) میں کمی آئی. جس سے ڈالر کی طاقت کم ہوئی اور سونے کے خریداروں (Dip-buyers) کو موقع ملا۔
اپنے 10 سالہ تجربے میں میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی افراط زر (Inflation) کے اعداد و شمار توقعات سے کم آتے ہیں. تو مارکیٹ فوری طور پر فیڈرل ریزرو کے ‘ڈووش’ (Dovish) ہونے کی توقع کرنے لگتی ہے. جس سے Gold Price میں اچانک تیزی آتی ہے
Gold Price کا تکنیکی تجزیہ (Gold Technical Overview)
اگر ہم 4 گھنٹے کے چارٹ (4-hour chart) پر نظر ڈالیں، تو سونا اس وقت ایک تعمیری تیزی (Constructive Bullish Bias) کی حالت میں ہے۔
اہم سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز:
| لیول کی قسم | قیمت (USD) | اہمیت |
| فوری ریزسٹنس | $4,912.54 | 61.8% فبونیکی ریٹریسمنٹ لیول |
| اگلا بڑا ہدف | $5,134.37 | 78.6% ریٹریسمنٹ لیول |
| تاریخی بلندی | $5,416.94 | سائیکل ہائی |
| مضبوط سپورٹ | $4,756.73 | 50% ریٹریسمنٹ لیول |
Gold Price فی الوقت 200 پیریڈ موونگ ایوریج (200-period SMA) سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے. جو کہ ایک مثبت علامت ہے۔ ریلیٹو اسٹرینتھ انڈیکس (RSI) 65.5 پر ہے، جو ظاہر کرتا ہے. کہ مارکیٹ میں ابھی مزید اوپر جانے کی گنجائش موجود ہے. حالانکہ ہم "اوور بوٹ” (Overbought) زون کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
کیا ابھی سونا خریدنے کا صحیح وقت ہے؟
موجودہ مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق، سونا $4,750 اور $4,800 کے درمیان ایک مضبوط بنیاد (Base) بنا رہا ہے۔ جب تک عالمی سیاسی منظر نامے میں Gold Price Forecast and US-Iran Geopolitics ایک اہم عنصر رہے گا. Gold Price میں بڑی گراوٹ کے امکانات کم ہیں۔
تاہم، جارحانہ فروخت کنندگان (Bearish Traders) کو محتاط رہنا چاہیے. کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہو رہے ہیں۔ سونا ایک ایسی دھات ہے جس پر سود نہیں ملتا (Non-yielding asset) ، اس لیے جب شرح سود مستحکم رہتی ہے یا گرتی ہے. تو سونے کی کشش بڑھ جاتی ہے۔
مارکیٹ کی نفسیات اور سرمایہ کاروں کا ردعمل
فنانشل مارکیٹس میں صرف اعداد و شمار ہی نہیں بلکہ انسانی جذبات (Sentiments) بھی اہم ہوتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری "سرد جنگ” نے سرمایہ کاروں کو اس کشمکش میں مبتلا کر رکھا ہے. کہ آیا وہ ڈالر پر بھروسہ کریں یا سونے پر۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جیو پولیٹیکل تناؤ کے آغاز میں ڈالر کو تقویت ملتی ہے. (بوجہ ریزرو کرنسی اسٹیٹس)، لیکن جیسے ہی تناؤ طوالت اختیار کرتا ہے. سونا ڈالر کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکیوں نے سپلائی چین کے مسائل پیدا کیے ہیں، جس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ افراط زر Gold Price کو مزید اوپر دھکیل سکتی ہے۔
اختتامیہ.
مجموعی طور پر، سونا اس وقت ایک مستحکم پوزیشن میں ہے جہاں جیو پولیٹیکل خطرات اسے نیچے گرنے سے روک رہے ہیں۔ Gold Price Forecast and US-Iran Geopolitics کی پیچیدگیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں. کہ ٹریڈرز اپنی پوزیشنز کو اسٹاپ لاس (Stop Loss) کے ساتھ محفوظ رکھیں۔ اگرچہ ڈالر کی معمولی ریکوری نے سونے کی رفتار کو کچھ سست کیا ہے، لیکن طویل مدتی رجحان ابھی بھی بلندی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ سونا جلد ہی $5,000 کی نفسیاتی سطح کو عبور کر لے گا یا ڈالر کی واپسی سونے کے لیے خطرہ بنے گی؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں ضرور کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



