آج امریکہ سے آنے والے US core PCE Inflationکے اعداد و شمار نے مارکیٹ کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لیے نئی حکمت عملیین بنانا لازمی ہو گیا ہے۔
Category
136 مضامین
آج امریکہ سے آنے والے US core PCE Inflationکے اعداد و شمار نے مارکیٹ کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لیے نئی حکمت عملیین بنانا لازمی ہو گیا ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں لیبر ڈیٹا کی ہمیشہ سے ایک فیصلہ کن حیثیت رہی ہے۔ آج Automatic Data Processing (ADP) نے ستمبر کے مہینے کے لیے امریکہ کی نجی معیشت (private sector) سے متعلق روزگار کی رپورٹ ADP Employment Report جاری کر دی ہے۔
ستمبر کے مہینے میں چین کا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (Chinese Manufacturing PMI) بڑھ کر 50.1 پر پہنچ گیا ہے، جو کہ اگست میں 49.8 تھا۔
آسٹریلوی بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹس کے مطابق، اگست کے مہینے میں Australian CPI inflation سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 4.0 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
معاشی دنیا میں آج کل ایک ایسا طوفان برپا ہے جس نے سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ ڑھتی ہوئی Bond Yields اور Global Stocks پر اثرات کا یہ مرحلہ نہ صرف روایتی سرمایہ کاری کے اصولوں کو بدل رہا ہے بلکہ عالمی مارکیٹس میں ایک نئی بے یقینی کو بھی جنم دے رہا ہے۔
US CPI 3.35% پر مستحکم، 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.240% تک بڑھا اور ڈالر انڈیکس 101.27 پر مستحکم۔ فیڈ کی طویل عرصے تک بلند شرح سود کی پالیسی عالمی رسک‑آف کو مزید سخت کر رہی ہے۔
ریزرو بینک آف آسٹریلیا نے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے اسے 15 سال کی بلند ترین سطح یعنی 4.6 فیصد پر پہنچا دیا۔ اس سے قبل شرح سود 4.35 فیصد پر تھی
عالمی فنانشل مارکیٹس (Global Financial Markets) میں حالیہ دنوں کے دوران ایک بار پھر شدیداتار چڑ ھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ایک طرف فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود (Interest Rates) میں متوقع اضافے ہیں، تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہے۔
یورپی سینٹرل بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ نے حال ہی میں ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ زون کی معیشت کا پھیلاؤ مختلف شعبوں اور ملکوں میں جاری ہے، تاہم ECB کیلئے افراط زر میں عالمی حالات کی وجہ سے اضافے کے تحت حالات اب زیادہ چیلنجنگ ہوتے جا رہے ہیں۔
US 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.184% پر بڑھتے ہوئے اور 2 سالہ ییلڈ کی کمی نے عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کے رجحان کو مزید مستحکم کیا۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی اور 10 سالہ ییلڈ کی 5.184 فیصد کی بلند سطح نے عالمی منڈیوں میں ری پرائسنگ کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ افراط زر کے 3.35 فیصد پر قائم رہنے سے ابھرتی ہوئی معیشتوں پر شدید دباؤ ہے۔
عالمی معاشی تناظر میں افراط زر کے اعداد و شمار میں نرمی اور مرکزی بینکوں کے نرم موقف کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ امریکی CPI 3.35% اور DXY 101.16 پر موجود ہیں جس سے کراس ایٹ منڈیوں میں نئی حرکیات جنم لے رہی ہیں۔
امریکہ اور چین نے اپنے تجارتی معاہدے میں دو ماہ کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ واشنگٹن میں صدر شی جن پنگ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی دوسری سربراہی ملاقات کے اہم ترین نتائج میں سے ایک ہے
ایک طرف جہاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت شرائط برقرار ہیں، وہیں دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات کی توقعات نے تجارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے
US 10Y ییلڈ 5.184% پر مستحکم رہتے ہوئے 2 سالہ ییلڈ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کا رجحان واضح ہو رہا ہے۔
امریکی افراط زر کے 3.35 فیصد پر جمود اور 10 سالہ ییلڈ کے 5.184 فیصد پر پہنچنے سے فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی طویل تر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس پالیسی تسلسل نے عالمی اثاثوں اور بالخصوص ابھرتی ہوئی منڈیوں پر سرمائے کے اخراج کا دباؤ بڑھا دیا ہے۔
مائیکروسافٹ کا تاریخی مظاہرہ: MSFT نے 3.66 فیصد کے اضافے کے ساتھ $516.17 کی سطح پر بند ہو کر سافٹ ویئر سیکٹر میں زبردست پیش رفت کی قیادت کی۔ اینویڈیا کا استحکام: NVDA نے AI ہارڈویئر کی مسلسل مانگ کے باعث 0.22 فیصد اضافے کے ساتھ $225.07 کی مضبوط سطح پر اختتام کیا۔ مارکیٹ کا ساختی ارتکاز اور تفریق: وال اسٹریٹ کی تیزی منتخب میگا کیپ کمپنیوں تک محدود رہی؛ جہاں مائیکروسافٹ، ایپل (+1.53%) اور جے پی مارگن (+1.33%) نے مارکیٹ کو سنبھالا، وہیں میٹا (-3.33%) اور ٹیسلا (-1.54%) میں شدید منافع خوری دیکھی گئی۔ اس میگا کیپ ریلی کا تھیسس اس وقت باطل ہو جائے گا اگر MSFT $500.00 اور NVDA $215.00 کی کلیدی سپورٹ سے نیچے بند ہوتے ہیں۔
عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کا رجحان برقرار ہے، جہاں US 10Y ییلڈ 5.184% تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی مالیاتی خسارے اور ٹریژری کی جانب سے بھاری سپلائی نے طویل المدتی شرح سود پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
چین کے مینوفیکچرنگ اور سروس PMI کی تازہ ترین اعداد و شمار نے ایشیائی مارکیٹوں، یوان کی قدر اور پاکستان کی برآمدات پر واضح اثر ڈالا۔ اس مضمون میں اس کے میکینزم اور عملی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔
یہ مضمون US ٹریژری ییلڈز، فیڈ کی شرح سود کی مارکیٹ توقعات اور کریڈٹ سپریڈز کے بنیادی اصولوں کو واضح کرتا ہے اور بانڈ سرمایہ کاروں کے لیے عملی مثالیں پیش کرتا ہے۔
✓ شکریہ! آپ کی سبسکرپشن کامیابی سے درج ہو گئی۔
پہلا ڈائجسٹ آپ کے انباکس میں جلد پہنچے گا۔
آپ کے پسندیدہ معاشی شعبے، سونا صرافہ، فاریکس اور پی ایس ایکس ایکسچینج کی روزانہ یا ہفتہ وار آپ ڈیٹس براہِ راست اِن باکس میں وصول کریں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں