بٹ کوائن کی ریلی کی رفتار میں کمی: بل سکور بلند ترین سطح کے قریب
★اہم نکات
- •بل سکور کی صورتحال: کرپٹو کوائنٹ کا بل سکور 100 میں سے 90 پر پہنچ چکا ہے، جو کہ تیزی کے رجحان کے عروج اور اب اس میں متوقع سست روی کو ظاہر کرتا ہے۔
- •ڈیمانڈ میں کمی: حالیہ 30 دنوں کے دوران اسپاٹ ڈیمانڈ (Spot Demand) میں تقریباً 170,000 بی ٹی سی کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ فیوچرز مارکیٹ (Futures Market) کی قیاس آرائیوں میں بھی شدید گراوٹ آئی ہے۔
- •منافع کا حصول (Profit Taking): حالیہ خریدار اوسطاً 33 فیصد کے غیر حقیقت پسندانہ منافع پر بیٹھے ہیں، جس کی وجہ سے منافع سمیٹنے کا عمل بھی تیز ہو گیا ہے۔
- •عالمی منڈیوں کا اثر: ایشیائی مارکیٹوں میں بہتری اور امریکی افراط زر (Inflation) کے متوقع اعداد و شمار اس وقت کرپٹو اور رسک اثاثوں کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
کرپٹو کرنسی (cryptocurrency) کی دنیا میں جب بھی مارکیٹ کوئی بڑی چھلانگ لگاتی ہے، تو سرمایہ کاروں کا جوش و خروش عروج پر ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بٹ کوائن (Bitcoin) نے ایک بار پھر زبردست کارکردگی دکھائی اور آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔
تاہم، آن چین انالیسس (Onchain Analysis) کے معروف ادارے کرپٹو کوائنٹ (CryptoQuant) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ Bitcoin Bull Score اب اپنے مکمل ہندسے کے بالکل قریب پہنچنے کے باوجود سست روی کا شکار ہو رہا ہے۔
اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ وہ خریدار جنہوں نے بی ٹی سی (BTC) کو پچھلی بلندی تک پہنچایا تھا، اب وہ پیچھے ہٹ رہے ہیں اور مارکیٹ میں ایک نیا توازن قائم ہو رہا ہے۔ اس تفصیلی تحریر میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ موجودہ مارکیٹ کا رجحان کیا ہے، اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں، اور ایک کامیاب ٹریڈر کو اس صورتحال میں کیا حکمت عملی اپنانی چاہیے۔
Bitcoin Bull Score کیا ہے اور یہ موجودہ مارکیٹ کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
بٹ کوائن بل سکور ایک ایسا جامع پیمانہ ہے جو بلاک چین کے آن چین ڈیٹا اور مارکیٹ کے مختلف اشاریوں (Market Indicators) کو ملا کر ایک واحد ریڈنگ فراہم کرتا ہے۔ جب بٹ کوائن اپنی سالانہ مووننگ ایوریج سے اوپر نکلا تو اس سکور میں زبردست تیزی آئی، جسے ماہرین نے بل مارکیٹ (Bull Market) کی تصدیق کے طور پر دیکھا۔ موجودہ وقت میں یہ سکور 90 پر کھڑا ہے، جو کہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ کا پچھلا مرحلہ انتہائی مضبوط تھا، لیکن اب اس میں تھکن کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔
اس سطح پر پہنچنے کے بعد مارکیٹ عام طور پر ایک وقفہ لیتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے جب بھی کوئی اثاثہ اتنی تیزی سے اوپر جاتا ہے، تو خریداروں کی قوت خرید میں عارضی کمی آ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ Bitcoin Bull Score کے اس بلند مقام پر پہنچنے کے بعد ماہرین محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
اسپاٹ اور فیوچرز ڈیمانڈ میں کمی
مارکیٹ کی موجودہ سست روی کی سب سے بڑی وجہ طلب یا ڈیمانڈ میں آنے والی کمی ہے۔ کرپٹو کوائنٹ کے اندازوں کے مطابق، پچھلے 30 دنوں میں اسپاٹ ڈیمانڈ میں تقریباً 170,000 بی ٹی سی کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اسپاٹ ڈیمانڈ کا تخمینہ اس طرح لگایا جاتا ہے کہ مارکیٹ میں آنے والے نئے کوئنز اور ان کوئنز کا موازنہ کیا جائے جو ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے سے اپنی جگہ سے نہیں ہلائے گئے۔ نتیجتاً، مارکیٹ اب اتنے کوئن جذب نہیں کر پا رہی جتنے مارکیٹ میں دستیاب ہو رہے ہیں۔

اس کے علاوہ، فیوچرز مارکیٹ میں تیزی کا رجحان اس سے بھی زیادہ تیزی سے ٹھنڈا پڑا ہے۔ سپیکولیٹو فیوچرز ڈیمانڈ (speculative futures demand) میں صرف پندره دنوں کے اندر تقریباً نوے فیصد تک کی کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ٹریڈرز جو ادھار یا لیوریج (leverage) پر ٹریڈنگ کر رہے تھے، اب رسک لینے سے گریزاں ہیں۔
مارکیٹ میں نئی طلب کے بغیر کوئی بھی بڑی تیزی طویل عرصے تک جاری نہیں رہ سکتی۔ جب اسپاٹ اور فیوچرز دونوں طرف سے خریداری میں کمی آ جائے، تو قلیل مدت میں قیمتوں کو اوپر رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
سرمایہ کاروں کا رویہ اور پرافٹ ٹیکنگ
حالیہ چند مہینوں میں مارکیٹ میں داخل ہونے والے خریدار اس وقت اوسطاً 33 فیصد کے غیر حقیقت پسندانہ منافع پر بیٹھے ہیں، جو کہ دسمبر کے بعد سے سب سے بڑی سطح ہے۔ جب سرمایہ کاروں کو اتنا اچھا منافع ملتا ہے، تو وہ اپنے اثاثے فروخت کر کے نقد رقم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ستمبر کے اواخر میں ایک ہی دن میں ہزاروں بی ٹی سی پر منافع لاک کرنے کا ریکارڈ دیکھا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑے اور چھوٹے دونوں طرح کے سرمایہ کار اب اپنے سرمائے کو محفوظ بنانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
دوسری طرف، آلٹ کوائنز کے سرمایہ کار بھی اپنے کوئنز کو تبادلے کے پلیٹ فارمز (Exchanges) پر منتقل کر رہے ہیں۔ پچھلے چند دنوں میں تبادلوں پر الٹ کوائنز کی بڑی تعداد موصول ہوئی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ کوئنز اب فروخت کے لیے بالکل تیار ہیں۔ جب بھی تبادلوں پر اثاثوں کی تعداد بڑھتی ہے، تو کسی بھی معمولی جھٹکے یا باؤنس پر قیمتوں پر فروخت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
عالمی معیشت اور امریکی افراط زر کے کرپٹو مارکیٹ پر اثرات
کرپٹو کرنسی یا Bitcoin اب کسی جزیرے کی طرح الگ تھلگ نہیں رہے، بلکہ اس کا براہ راست تعلق عالمی مارکیٹس اور معاشی اشاریوں سے جڑ چکا ہے۔ حال ہی میں ایشیائی مارکیٹوں میں ایک مثبت واپسی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں بانڈز مستحکم ہوئے اور بڑے ٹیکنالوجی و سرمایہ کاری کے ادارے جیسے کہ سافٹ بینک (SoftBank) کے حصص میں نمایاں اضافہ ہوا۔
تاہم، موجودہ وقت میں تمام سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی افراط زر (Inflation) کے آنے والے اعداد و شمار پر ٹکی ہوئی ہیں۔ مارکیٹ کا روایتی رویہ یہ ہے کہ:
اگر افراط زر کے اعداد و شمار زیادہ آتے ہیں، تو شرح سود (Interest Rates) میں اضافے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جس سے ڈالر مضبوط ہوتا ہے اور بٹ کوائن جیسے رسک اثاثوں پر دباؤ پڑتا ہے۔
اگر افراط زر کم آتا ہے، تو شرح سود میں کٹوتیاں متوقع ہوتی ہیں، جو عام طور پر کرپٹو مارکیٹ کے لیے انتہائی سازگار ثابت ہوتی ہیں اور قیمتوں کو اوپر لے جانے میں مدد دیتی ہیں۔
مستقبل کی حکمت عملی
موجودہ مارکیٹ کی صورتحال ایک کلاسک موڑ کی نشاندہی کرتی ہے جہاں تیزی کا پہلا زور ختم ہو چکا ہے اور مارکیٹ اگلی سمت کا تعین کرنے کے لیے نئے محرکات (Catalysts) کی تلاش میں ہے۔ جب Bitcoin Bull Score بلند ترین سطح کے قریب ہو اور طلب میں کمی آ رہی ہو، تو اندھا دھند خریدنے کے بجائے صبر سے کام لینا اور سپورٹ لیول کا انتظار کرنا دانشمندی ہے۔
ایک طویل المدتی سرمایہ کار کے طور پر، مارکیٹ کے ایسے چکر (Market Cycles) روزمرہ کا معمول ہیں۔ عارضی سست روی کا مطلب مارکیٹ کا خاتمہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک صحت مند عمل ہے جو مارکیٹ سے زیادہ لیوریج کو صاف کرتا ہے اور اگلی مضبوط چھلانگ کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
حاصل کلام
Bitcoin کی موجودہ پوزیشن اور بل سکور کا یہ مرحلہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ فنانشل مارکیٹس کبھی بھی ایک سیدھی لکیر میں حرکت نہیں کرتی ہیں۔ اگرچہ حالیہ ڈیمانڈ میں کمی اور منافع سمیٹنے کا عمل قلیل مدت میں کچھ بے یقینی پیدا کر سکتا ہے، لیکن یہ طویل المدتی رجحان کے تسلسل کے لیے ایک لازمی وقفہ بھی ہے۔
آپ کا اس مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ اس موقع پر مزید خریداری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا اپنے منافع کو محفوظ بنانے کو ترجیح دیں گے؟ نیچے کمنٹس سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔
انتباہ
Urdu Markets کی جانب سے فراہم کردہ تمام معلومات، تجزیے، اعداد و شمار، خبریں، Market Data اور دیگر مواد صرف معلوماتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ مواد کسی بھی صورت میں مالیاتی، سرمایہ کاری یا Trading مشورہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامین
زاکورا نوڈز کی طرف منتقلی: Gemini کا زی کیش سافٹ ویئر اپ گریڈ
پاکستان میں USDT P2P اور انٹربینک USD PKR ریٹ میں ہم آہنگی قائم: ڈجیٹل اور روایتی فاریکس مارکیٹ کا نیا توازن
ایتھریم کی قیمت میں $2,663 پر اصلاحی دباؤ، $2,650 کا اہم حمایتی لیول زیرِ بحث
تبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔