بٹ کوئن کی قیمت 84 ہزار ڈالر سے نیچے، ٹریژری ییلڈز میں 2007 کے بعد کا ریکارڈ اضافہ
★اہم نکات
- •بٹ کوئن کی گراوٹ: بٹ کوئن (Bitcoin) کی قیمت گر کر 83,900 ڈالر کے قریب آ گئی، جبکہ اس سے قبل یہ 87,300 ڈالر کے آس پاس ٹریڈ ہو رہی تھی۔
- •ٹریژری ییلڈز میں اضافہ: 10 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈز بڑھ کر 5.11 فیصد تک پہنچ گئیں، جو کہ 2007 کے بعد سب سے اونچی سطح ہے۔
- •آلٹ کوئنز میں شدید مندی : ڈوج کوئن (DOGE) کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور اس کی قیمت میں 7 سے 8 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔
- •معاشی اشاریے: امریکہ میں کاروبار کی شرحِ نمو گزشتہ پانچ سالوں کی بہترین سطح پر ریکارڈ کی گئی، جس سے شرح سود میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے۔
آج Treasury yields میں اضافے کی وجہ سے پوری کرپٹو انڈسٹری دباؤ کا شکار ہے۔ ایشیائی سیشن کے دوران بٹ کوئن (Bitcoin) کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور یہ 84,000 ڈالر کی سطح سے نیچے ٹریڈ کرتا نظر آیا۔
اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات میں امریکی ٹریژری بانڈز (Treasury yields) کا 2007 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنا، مضبوط امریکی کاروباری سروے اور تیل کی قیمتوں میں اچانک تیزی شامل ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف کرپٹو ٹریڈرز کو چونکا دیا ہے بلکہ روایتی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے درمیان گہرے تعلق کو بھی واضح کر دیا ہے۔
Bitcoin کی قیمت میں کمی اور ٹریژری ییلڈز کا تعلق
Bitcoin اور دیگر رسکی اثاثوں میں ہونے والی حالیہ گراوٹ کا براہ راست تعلق عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ادھار کی لاگت سے ہے۔ جب حکومتیں زیادہ منافع دینے والے بانڈز جاری کرتی ہیں، تو سرمایہ کار غیر منافع بخش اثاثوں جیسے کہ کرپٹو کرنسی سے سرمایہ نکال کر محفوظ بانڈز کی طرف منتقل ہونے لگتے ہیں۔
بٹ کوائن کی قدر میں مندی کی وجوہات
بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں کمی کے پیچھے کئی بنیادی اور تکنیکی عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں امریکہ کی مضبوط معاشی رپورٹ، امریکی ٹریژری نوٹس کی کمزور طلب، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور آپشنز امریکہ کی مضبوط معاشی رپورٹ نے بھی Bitcoin پر دباؤ بڑھایا۔ ایس اینڈ پی گلوبل (S&P Global) کے فلیش سروے کے مطابق، امریکی کاروباری سرگرمیاں پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں اور کمپوزٹ انڈیکس 58.4 ریکارڈ کیا گیا۔
مضبوط معاشی سرگرمی نے مارکیٹ میں افراط زر کے دباؤ کے برقرار رہنے کے خدشات بڑھائے، جس سے مالیاتی پالیسی میں نرمی کی توقعات متاثر ہو سکتی ہیں اور خطرے والے اثاثوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
امریکی ٹریژری کی جانب سے 70 ارب ڈالر کے پانچ سالہ نوٹ (Five-Year Notes) کی فروخت میں بھی سرمایہ کاروں کی نسبتاً کم دلچسپی دیکھی گئی۔ اس نیلامی کا کلیئرنگ ریٹ 5.033 فیصد رہا، جبکہ کمزور طلب نے امریکی بانڈ مارکیٹ میں پیدا ہونے والے دباؤ کو نمایاں کیا۔ بلند بانڈ ییلڈز عموماً ایسے اثاثوں کے لیے چیلنج بن سکتی ہیں جن سے باقاعدہ آمدنی حاصل نہیں ہوتی، جن میں Bitcoin بھی شامل ہے۔
تیل کی قیمتوں میں تیزی نے بھی مارکیٹ کے خدشات میں اضافہ کیا۔ برینٹ کروڈ آئل (Brent Crude Oil) کی قیمت میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 104 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ توانائی کی قیمتوں میں اس اضافے سے عالمی سطح پر افراط زر کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کی جانب سے خطرے والے اثاثوں میں محتاط رویہ اختیار کیا گیا۔
اس کے علاوہ، آپشنز کی ایکسپائری نے بھی Bitcoin مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھایا۔ جمعہ کو Deribit پر تقریباً 14 ارب ڈالر کے کال آپشنز کی ایکسپائری متوقع تھی، جبکہ 85,000 ڈالر کی اسٹرائیک پر بڑی تعداد میں پوزیشنز موجود تھیں۔ اتنی بڑی آپشنز ایکسپائری کے باعث مارکیٹ میں پوزیشن ایڈجسٹمنٹ اور اضافی قیمت اتار چڑھاؤ کے خدشات بڑھ گئے۔
ڈوج کوئن (DOGE) اور دیگر آلٹ کوئنز کی صورتحال
اس مارکیٹ کریش میں میم کوئنز اور دیگر متبادل ڈیجیٹل اثاثوں کو نسبتاً زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ مارکیٹ کا یہ عمومی رجحان ظاہر کرتا ہے کہ جب Macroeconomic Pressure بڑھتا ہے تو چھوٹے اور زیادہ خطرناک کوئنز میں فروخت کا دباؤ نسبتاً تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ Dogecoin (DOGE) کی قیمت میں تقریباً 7 سے 8 فیصد کمی دیکھی گئی، جس کے باعث یہ مارکیٹ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ٹوکنز میں شامل رہا۔ اس دوران Dogecoin کی قیمت تقریباً 9 سینٹ کے قریب آ گئی، جو میم کوئنز میں موجود فروخت کے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی طرح ZEC، XRP اور HYPE کی قیمتوں میں تقریباً 5 سے 6 فیصد کمی ہوئی۔ ان کوئنز میں گراوٹ کے پیچھے سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی کٹائی اور مجموعی مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ اہم عوامل رہے۔ دوسری جانب Ether، SOL اور BNB میں تقریباً 2 سے 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ان بڑے آلٹ کوئنز نے نسبتاً بہتر مزاحمت کا مظاہرہ کیا، تاہم مجموعی مارکیٹ دباؤ کے باعث یہ بھی منفی زون میں رہے۔
TRX نے دیگر نمایاں الٹ کوئنز کے مقابلے میں نسبتاً مختلف کارکردگی دکھائی اور اس کی قیمت تقریباً فلیٹ رہی۔ اس طرح TRX نے مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر جاری گراوٹ کے باوجود اپنی قدر میں نمایاں تبدیلی سے گریز کیا اور نسبتاً استحکام برقرار رکھا۔
حاصل کلام
موجودہ منظرنامہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کرپٹو مارکیٹ اب الگ تھلگ جزیرہ نہیں رہی، بلکہ یہ عالمی معیشت، بانڈز ییلڈز اور افراط زر ، فیڈرل ریزرو کی پالیسی کے رجحانات سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہے۔ جب تک امریکی ٹریژری ییلڈز اونچی سطح پر برقرار رہیں گی، رسکی اثاثوں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے یہ اتار چڑھاؤ ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
آپ کا اس صورتحال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ اس مارکیٹ ڈپ میں خریداری کا ارادہ رکھتے ہیں یا مزید گراوٹ کا انتظار کریں گے؟ اپنے خیالات نیچے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔
انتباہ
Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور Market Information صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر ماہر مالیاتی مشیر سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامینتبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔