امریکی صدر کے بیانات اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث بٹ کوئن اوراسٹاکس فیوچرز میں گراوٹ
★اہم نکات
- •بٹ کوئن میں مندی: صدر ٹرمپ کے بیانات کے بعد بٹ کوئن (Bitcoin) کی قیمت میں 1.3 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ 83324 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
- •نیسڈیک فیوچرز پر دباؤ: وال اسٹریٹ کا ٹیکنالوجی انڈیکس نیسڈیک (Nasdaq) فیوچرز بھی 0.7 فیصد نیچے آ گیا۔
- •تیل کی قیمتوں میں اضافہ: جغرافیائی کشیدگی کے باعث ڈبلیو ٹی آئی خام تیل (WTI Crude Oil) کے فیوچرز میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔
- •معاشی ڈیٹا کا انتظار: اس ہفتے امریکہ کے اہم افراط زر (PCE inflation) اور روزگار کے اعداد و شمار مارکیٹ کے اگلے رجحان کا فیصلہ کریں گے۔
عالمی مارکیٹس اور کرپٹو انڈسٹری میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ (Geopolitical Tension) کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نومبر کے وسطی مدتی انتخابات (Midterm Elections) سے قبل ایران پر مزید فوجی حملوں کے امکان کو رد نہ کرنے کے بعد، Bitcoin اور Nasdaq futures میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
اس صورتحال نے نہ صرف کرپٹو مارکیٹ بلکہ وال اسٹریٹ (Wall Street) کے ٹیکنالوجی انڈیکس اور توانائی کی منڈیوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سرمایہ کار اس وقت ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں جہاں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور امریکی معاشی اعداد و شمار مارکیٹ کی اگلی سمت کا تعین کریں گے۔
Bitcoin اور نیسڈیک فیوچرز میں مندی
بٹ کوئن اور نیسڈیک فیوچرز میں حالیہ گراوٹ کی بنیادی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے نومبر کے اوائل میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے قبل ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا۔
جب فوکس نیوز (Fox News) پر ان سے پوچھا گیا کہ کیا فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، تو انہوں نے کہا کہ وہ اس کا یقین سے نہیں کہہ سکتے لیکن یہ ممکن ہے۔ اس بیان کے بعد عالمی مارکیٹس میں یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے براہ راست اثرات رسد، افراط زر اور عالمی معیشت پر پڑیں گے۔
خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
مشرق وسطیٰ کے تنازع نے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ایران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (United Nations General Assembly) میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو سات دن کے لیے کھولنے اور عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی، جسے صدر ٹرمپ نے مسترد کر دیا۔ اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا، اور ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 93.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
جب بھی توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں، افراط زر (Inflation) کے خدشات سر اٹھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ٹریژری ییلڈ (Treasury yields) میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں 10 سالہ ییلڈ 127 بنیادی پوائنٹس بڑھ کر 5.20 فیصد کی سطح پر پہنچ چکی ہے، جو کہ 2007 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے
Bitcoin کا تکنیکی منظرنامہ
تمام جغرافیائی غیر یقینی صورتحال کے باوجود، Bitcoin نے رواں سال کی تیسری سہ ماہی (Third Quarter) میں نمایاں واپسی کی ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران اس کی قیمت میں تقریباً 42 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اس نے Gold اور Nasdaq سمیت کئی بڑے اثاثوں کی کارکردگی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
تاہم، قلیل مدت (Short Term) کے لیے مارکیٹ میں محتاط رویہ برقرار ہے اور موجودہ قیمتوں پر اتار چڑھاؤ کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔تکنیکی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سرمایہ کاروں کے لیے 83,800 سے 84,000 ڈالر کا ایریا قریب ترین اہم Support Zone سمجھا جا رہا ہے۔
سپورٹ اور مزاحمتی سطح
اگر قیمت اس زون کے اوپر برقرار رہتی ہے تو یہ سطح قلیل مدتی مارکیٹ کے لیے اہم سپورٹ کا کردار ادا کر سکتی ہے، جبکہ اس کے نیچے جانے کی صورت میں مزید کمزوری کے امکانات کا جائزہ لینا ہوگا۔
دوسری جانب 85,000 سے 85,800 ڈالر کا ایریا فوری Resistance Zone کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس حد کے قریب قیمت کا ردعمل Bitcoin کی قلیل مدتی سمت کے لیے اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سطح پر فروخت کا دباؤ بڑھنے یا قیمت کے اوپر برقرار رہنے سے مارکیٹ کے اگلے رجحان کے بارے میں مزید اشارے مل سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں تیزی کے رجحان کے باوجود Chasing the Rally یعنی قیمت میں تیزی دیکھ کر اندھا دھند خریداری سے گریز کرنا اور رسک مینجمنٹ کے لیے Leverage کو محدود رکھنا محتاط تجارتی طریقہ سمجھا جا سکتا ہے۔
خاص طور پر جغرافیائی اور میکرو اکنامک غیر یقینی صورتحال کے دوران قیمت میں اچانک اتار چڑھاؤ ممکن ہے، اس لیے سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز کے ساتھ مجموعی مارکیٹ حالات کو بھی مدنظر رکھنا اہم ہے۔
معاشی ڈیٹا کا انتظار
حالیہ سیاسی بیانات کے بعد اب تمام تر توجہ امریکہ کے آنے والے معاشی اعداد و شمار پر مرکوز ہے۔ اس ہفتے درج ذیل اہم رپورٹس جاری ہوں گی جو فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی آئندہ مانیٹری پالیسی اور شرح سود (Interest Rates) کے فیصلوں پر اثر انداز ہوں گی
یو ایس پی سی ای انفلیشن (U.S. PCE Inflation): یہ افراط زر کا وہ پیمانہ ہے جس پر فیڈ کی خصوصی نظر ہوتی ہے۔
آئی ایس ایم مینوفیکچرنگ (ISM Manufacturing): اس سے صنعتی سرگرمیوں کی رفتار کا اندازہ ہوتا ہے۔
نان فارم پے رولز (Nonfarm Payrolls): روزگار کی یہ رپورٹ امریکی لیبر مارکیٹ کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔
حاصل کلام
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ منظر نامہ سیاسی بیانات اور بنیادی معاشی اشاریوں کے درمیان ایک نازک توازن کا نام ہے۔ اگرچہ Bitcoin نے طویل مدتی فنڈز اور انسٹی ٹیوشنل انفلوز (Institutional Inflows) کی بدولت اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے، لیکن مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور بلند شرح سود کا ماحول مختصر مدت میں اتار چڑھاؤ کا سبب بنتا رہے گا۔ ایک کامیاب سرمایہ کار وہی ہے جو جذبات کی بجائے ڈیٹا اور رسک مینجمنٹ کو ترجیح دے۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا موجودہ عالمی حالات میں کرپٹو مارکیٹ نئی بلندیوں کو چھونے کے لیے تیار ہے یا محتاط رہنے کا وقت ہے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس سیکشن میں ضرور شیئر کریں!
Source: https://www.foxnews.com/live-news/iran-war-strait-of-hormuz-donald-trump-09-27-26
انتباہ
Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور Market Information صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامینتبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔