بٹ کوائن اور آبنائے ہرمز کی کشیدگی، انسٹی ٹیوشنل آؤٹ فلو نے BTC آؤٹ لک کو دھندلا دیا
★اہم نکات
- •اس ہفتے شدید دباؤ کا شکار رہا اور جمعہ کے روز تقریباً 62,900 ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔
- •حالیہ دنوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو قیمت میں 3 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی
Bitcoin اس ہفتے شدید دباؤ کا شکار رہا اور جمعہ کے روز تقریباً 62,900 ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ حالیہ دنوں میں کے تناظر میں دیکھا جائے تو قیمت میں 3 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اگرچہ مارکیٹ میں استحکام کے کچھ ابتدائی آثار ضرور دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن مشرق وسطیٰ، بالخصوص آبنائے ہرمز (Strait Of Hormuz) میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی بلند قیمتوں نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ انسٹی ٹیوشنل ڈیمانڈ (Institutional Demand) میں کمی اور امریکی ڈالر (US Dollar) کی مضبوطی نے بھی کرپٹو مارکیٹ کے قریبی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مختصر جائزہ ۔
Bitcoin آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور تیل کی بلند قیمتوں کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔
امریکی اسپاٹ ETFs (Spot ETFs) سے کروڑوں ڈالر کا اخراج انسٹی ٹیوشنل سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی افراط زر کے اعداد و شمار میں کمی آئی ہے، لیکن فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی پالیسی اور شرح سود کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis) کے مطابق، بٹ کوائن اس وقت اہم سپورٹ زون میں کنسولیڈیشن (Consolidation) کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور Bitcoin Price پر اس کے اثرات۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے خطرات نے عالمی مالیاتی مارکیٹس میں جنگی خطرے کے پریمیم (War-Risk Premium) کو بلند کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ (Scott Bessent) کے مطابق، امریکہ ایران پر تاریخی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے خطے میں مزید محاذ آرائی کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔
دوسری جانب، ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے مشیر محمد رضا نقدی نے واضح کیا ہے کہ تہران کا مقصد تنازعے کو اتنا مہنگا بنانا ہے کہ آئندہ امریکی انتظامیہ کسی بھی فوجی کارروائی سے گریز کرے۔
انسٹی ٹیوشنل ڈیمانڈ کا محتاط رویہ اور ETF سے سرمائے کا انخلا۔
اس ہفتے انسٹی ٹیوشنل سرمایہ کاروں کی طرف سے بٹ کوائن کو کوئی بڑا سپورٹ نہیں ملا۔ SoSoValue کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکی لسٹڈ بٹ کوائن اسپاٹ ETFs (Spot ETFs) سے جمعرات تک 332.08 ملین ڈالر کا مجموعی آؤٹ فلو (Outflows) ریکارڈ کیا گیا۔
یہ رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بڑے ادارے فی الحال زیادہ رسک لینے سے گریز کر رہے ہیں اور مارکیٹ کے اگلے واضح سگنل کے منتظر ہیں۔
انسٹی ٹیوشنل سرمایہ کاری بٹ کوائن کی قیمت کے لیے اہم محرک بن چکی ہے، اس لیے ETF Outflows میں اضافہ مارکیٹ کے قریبی رجحان کے لیے ایک محتاط سگنل تصور کیا جا سکتا ہے۔
امریکی افراط زر میں کمی اور Federal Reserve کا لائحہ عمل
رواں ہفتے جاری ہونے والے امریکی اقتصادی اعداد و شمار نے افراط زر میں کمی کی تصدیق کی ہے۔ بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق، جولائی میں سالانہ ہیڈ لائن سی پی آئی (Consumer Price Index) کم ہو کر 3.4 فیصد پر آ گئی، جبکہ پروڈیوسر پرائس انڈیکس (Producer Price Index - PPI) کے اعداد و شمار بھی توقعات سے کم رہے۔
ان کمزور معاشی اشاریوں نے فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کو ستمبر میں شرح سود کو مستحکم رکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
تاہم، جہاں کچھ پالیسی ساز، جیسے شکاگو فیڈ کے صدر آسٹن گولزبی، معاشی نرمی کے حامی ہیں، وہیں کلیولینڈ فیڈ کی صدر بیت ہیمیک کا اصرار ہے کہ افراط زر کے خلاف جنگ میں مزید سخت اقدامات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فیڈ فنڈز کے مستقبل کے تخمینے اب بھی سال کے آخر تک شرح سود میں اضافے کے امکانات ظاہر کر رہے ہیں، جس سے بٹ کوائن کی اوپر کی طرف دوڑ محدود ہو رہی ہے۔
اگرچہ کمزور مہنگائی مستقبل میں نرم Monetary Policy کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔ لیکن بٹ کوائن کے لیے فوری طور پر صرف افراط زر میں کمی کافی نہیں۔ شرح سود، امریکی ڈالر اور عالمی رسک سینٹیمنٹ بھی قیمت کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اگست کے دوسرے نصف حصے میں بٹ کوائن کا ممکنہ رخ
حال ہی میں BTC نے 63,000 سے 65,000 ڈالر کی رینج میں اتار چڑھاؤ کا مظاہرہ کیا ہے۔ مسابنی کے مطابق، کمزور مہنگائی کے اعداد و شمار پر مارکیٹ کا ردعمل سست اس لیے رہا کیونکہ سرمایہ کار پہلے ہی اس بہتری کو قیمتوں میں شامل (Priced In) کر چکے تھے۔
وہ اگست کے اختتام کے لیے محتاط طور پر پرامید ہیں اور ان کا اندازہ ہے کہ بٹ کوائن 68,000 سے 72,000 ڈالر کی رینج تک جا سکتا ہے، بشرطیکہ یہ 67,000 ڈالر کی سطح کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔
البتہ، 61,000 سے 62,000 ڈالر کی سپورٹ ٹوٹنے کی صورت میں اس ریکوری میں تاخیر ہو سکتی ہے اور مارکیٹ مزید دباؤ کا سامنا کر سکتی ہے۔
ہفتہ وار اور یومیہ چارٹس پر مارکیٹ کی تکنیکی صورتحال کیا کہتی ہے؟
تکنیکی نقطہ نظر سے بٹ کوائن اس وقت 78.6 فیصد فیبوناچی ریٹریسمنٹ لیول (Fibonacci Retracement Level) جو 65,520 ڈالر پر ہے، اور 200 ہفتہ وار سادہ موونگ ایوریج (Simple Moving Average) کے درمیان کنسولیڈیٹ کر رہا ہے۔
ہفتہ وار چارٹ نسبتاً بہتری کے آثار دکھا رہا ہے۔ ریلیٹو اسٹرینتھ انڈیکس (Relative Strength Index - RSI) نیوٹرل 50 کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ جولائی کے وسط میں بننے والا MACD بولش کراس اوور (Bullish Crossover) ابھی تک برقرار ہے۔
یہ اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ اگر مارکیٹ کو مناسب بنیادی محرک ملتا ہے تو بٹ کوائن میں دوبارہ اوپر کی طرف مومنٹم پیدا ہو سکتا ہے۔

یومیہ چارٹ — Daily Chart
یومیہ چارٹ پر محتاط انداز غالب ہے کیونکہ BTC اہم ایکسپونینشل موونگ ایوریجز (Exponential Moving Averages - EMAs) سے نیچے ٹریڈ کر رہا ہے۔
یومیہ چارٹ پر ابتدائی سپورٹ 62,300 ڈالر پر موجود ہے۔ جبکہ اوپر کی طرف 50 روزہ اور 100 روزہ EMA بالترتیب 64,458 ڈالر اور 66,589 ڈالر پر اہم رکاوٹیں بنے ہوئے ہیں۔
اگر بٹ کوائن ان مزاحمتی سطحوں کو عبور کرتے ہوئے 67,000 ڈالر کے اہم لیول کو دوبارہ حاصل کر لیتا ہے تو 68,000 سے 72,000 ڈالر کی جانب حرکت کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، 61,000 سے 62,000 ڈالر کا سپورٹ زون ٹوٹنے سے مندی کا دباؤ دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔
Bitcoin Weekly Forecast میں آگے کیا دیکھنا چاہیے؟
Bitcoin اس وقت جغرافیائی سیاسی خطرات، انسٹی ٹیوشنل محتاط رویے اور میکرو اکنامک اشاریوں کے ایک پیچیدہ سنگم پر کھڑا ہے۔
اگرچہ آبنائے ہرمز کے تنازعات اور بلند تیل کی قیمتوں نے مارکیٹ پر وقتی دباؤ ڈالا ہے، لیکن کمزور امریکی مہنگائی، ممکنہ Federal Reserve پالیسی نرمی اور کچھ مثبت تکنیکی اشارے مارکیٹ میں استحکام کے امکانات کو روشن رکھتے ہیں۔
تاہم، بٹ کوائن کے لیے اگلا اہم مرحلہ 61,000 سے 62,000 ڈالر کے سپورٹ زون اور 67,000 ڈالر کی ریکوری لیول کے درمیان فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ 67,000 ڈالر سے اوپر مضبوط بریک آؤٹ ممکنہ طور پر 68,000 سے 72,000 ڈالر کے ہدف کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جبکہ سپورٹ کے نیچے مسلسل کمزوری مارکیٹ میں مزید دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔
اسی لیے سرمایہ کاروں کے لیے قیمت کے ساتھ ساتھ ETF Flows, US Dollar, تیل کی قیمتیں، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور Federal Reserve کے اشاروں پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔
آپ کا اس صورتحال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ موجودہ قیمتوں پر بٹ کوائن میں طویل مدتی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں. یا مزید واضح اشاروں کے منتظر ہیں؟ اپنے خیالات کا اظہار نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ مضامین
3 مضامینتبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔