سیلاب کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات: GDP اور مہنگائی کا نیا منظر نامہ
How devastating floods are reshaping Pakistan’s GDP Growth targets, driving Inflation, and forcing urgent economic reforms
پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب نے ملک کی معیشت کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ جہاں حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے 4.2 فیصد GDP Growth کا ہدف رکھا تھا، وہیں ماہرین اس ہدف کو غیر حقیقی قرار دے رہے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا جیسے ماہرین کی رائے میں، سیلاب کے باعث یہ نمو ایک فیصد تک گر سکتی ہے۔ یہ صورتحال ملک کی معاشی صحت اور مستقبل کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث ہے۔
اہم نکات
-
ماہرین کے مطابق، سیلاب کی وجہ سے پاکستان کی GDP Growth نمو کا ہدف جو کہ 4.2 فیصد ہے، ممکنہ طور پر 0 سے 1 فیصد تک گر سکتا ہے۔
-
سیلاب کا سب سے زیادہ نقصان زرعی شعبے (Agriculture Sector) کو ہوا ہے، جس سے خوراک کی فراہمی اور برآمدات شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔
-
زرعی پیداوار میں کمی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث مہنگائی (Inflation) میں خطرناک حد تک اضافہ متوقع ہے۔
-
حکومت کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور زراعت پر توجہ دینے کے لیے اپنے مالیاتی بجٹ (Budgetary Framework) اور State Bank of Pakistan کی ترجیحات کو فوری طور پر تبدیل کرنا ہوگا۔
سیلاب GDP Growth کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟
سیلاب کے نتیجے میں پاکستان کا GDP Growth ہدف خطرے میں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے۔ جب سیلاب فصلوں، مویشیوں اور زرعی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیتا ہے. تو اس کا براہ راست اثر ملکی پیداوار پر پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ، سڑکوں اور پلوں کی تباہی سے سپلائی چین میں خلل پڑتا ہے. جس سے صنعتی اور سروسز کے شعبے (Services Sector) بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ تمام عوامل مجموعی قومی پیداوار میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق، 2022 کے سیلاب سے تقریباً 30 ارب امریکی ڈالر (USD) کا نقصان ہوا تھا. اور حالیہ سیلاب بھی معیشت کے لیے اسی طرح کے سنگین نتائج لا سکتا ہے۔
مہنگائی اور خوراک کی قلت کا بڑھتا ہوا خطرہ
سیلاب کا ایک فوری اور سب سے بڑا اثر مہنگائی میں اضافہ ہے۔ جب زرعی پیداوار کم ہوتی ہے. تو مارکیٹ میں اشیاء کی سپلائی کم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، طلب اپنی جگہ برقرار رہتی ہے. جس سے قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں۔
خاص طور پر، گندم، چاول، اور سبزیوں جیسی بنیادی خوراک کی اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ سپلائی چین میں رکاوٹیں بھی قیمتوں کو مزید بڑھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت کو بحالی کے کاموں پر بھاری اخراجات کرنے پڑیں گے. جس سے بجٹ کا خسارہ (Fiscal Deficit) بڑھ سکتا ہے اور مزید مالیاتی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
معاشی چیلنجز اور حکومت کے لیے ترجیحات
سیلاب سے متاثرہ معیشت کو بحال کرنے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟
ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق، حکومت کو اپنی ترجیحات کو فوری طور پر تبدیل کرنا چاہیے۔ سب سے پہلے، سیلاب سے متاثرہ خاندانوں اور زرعی شعبے کی بحالی پر توجہ دینا ضروری ہے۔
اس میں تباہ شدہ فصلوں کے لیے کسانوں کو مالی امداد (Financial Assistance) فراہم کرنا، بیجوں اور کھاد کی فراہمی یقینی بنانا، اور ٹوٹے ہوئے انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کرنا شامل ہے۔
طویل مدتی حل کے طور پر، پاکستان کو مستقبل کے سیلابوں سے بچاؤ کے لیے ایک مضبوط اور جامع "پریوینٹیو انویسٹمنٹ اسٹریٹیجی” (Precautionary Investment Strategy) کی ضرورت ہے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف معاشی نقصانات کو کم کرے گی. بلکہ ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں بھی مدد دے گی۔
مستقبل کی سمت اور GDP Growth میں کمی کا خدشہ.
سیلاب کا معیشت پر اثر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے لیے فوری اور طویل مدتی دونوں طرح کی حکمت عملیوں کی ضرورت ہے۔ جب تک معیشت کے دوسرے شعبے جیسے کہ صنعت اور خدمات مضبوطی سے بحال نہیں ہوتے.
GDP Growth کا صفر یا اس کے قریب رہنا ایک حقیقی خطرہ ہے۔ سرمایہ کاروں اور کاروباروں کو اس نئے منظر نامے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کرنا ہوں گے۔ فنانشل مارکیٹس میں Volatility (غیر یقینی صورتحال) بڑھ سکتی ہے. اور کرنسی کی قدر پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔ اس قسم کے حالات میں، معاشی اعداد و شمار (Economic Data) اور حکومت کی پالیسیوں پر گہری نظر رکھنا اور اپنے مالیاتی پورٹ فولیو (Portfolio) کا جائزہ لینا انتہائی اہم ہے۔
آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا پاکستان میں آنیوالا سیلاب ملک کی GDP Growth پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتا ہے. اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں.
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



