Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

RBA کی شرح سود میں مزید اضافے کی وارننگ کے باوجود آسٹریلوی ڈالر دباؤ کا شکار

★اہم نکات

  • •AUDUSD آج ایشیائی سیشن میں تقریباً 0.7030 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جہاں حالیہ کمزوری کے باوجود شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات آسٹریلوی ڈالر کو سہارا دے سکتی ہیں۔
  • •Reserve Bank of Australia (RBA) کی اسسٹنٹ گورنر سارہ ہنٹر کے مطابق افراط زر کے مسلسل دباؤ اور بیرونی قیمتوں میں اضافے کے باعث شرح سود مزید بڑھانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
  • •آسٹریلیا کے ستمبر کے Consumer Price Index (CPI) اعدادوشمار اس ہفتے جاری ہونے والے ہیں، جبکہ اگست کی افراط زر کی شرح پہلے ہی مرکزی بینک کے 2 سے 3 فیصد کے ہدف سے بلند تھی۔
  • •Trimmed Mean Inflation کی شرح 3.6 فیصد رہنے اور کاروباری اداروں میں 3 سے 3.5 فیصد افراط زر کو معمول سمجھنے کے رجحان نے RBA کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔
  • •امریکی Federal Reserve (Fed) کے 27 اور 28 اکتوبر کے اجلاس میں شرح سود برقرار رہنے کے امکانات زیادہ ہیں، تاہم دسمبر میں ممکنہ اضافے پر بھی سرمایہ کاروں کی نظر ہے۔
  • •مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے افراط زر کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں آسٹریلیا میں شرح سود مزید بڑھانے کے امکانات مضبوط ہو سکتے ہیں۔
  • •تکنیکی اعتبار سے 0.7000 فوری سپورٹ، جبکہ 0.7033 اور 0.7074 اہم مزاحمتی سطحیں ہیں۔ ان سطحوں سے اوپر مضبوطی آسٹریلوی ڈالر کو 0.7100 اور پھر 0.7150 کی جانب لے جا سکتی ہے۔
Robina Adeel
Robina Adeel ←

آخری اپ ڈیٹ: 86 مشاہدات

آسٹریلوی ڈالر کے نوٹ، سکے، آسٹریلوی پرچم اور ریزرو بینک آف آسٹریلیا کی عمارت پر مشتمل مالیاتی تصویر۔
آسٹریلوی ڈالر، ریزرو بینک آف آسٹریلیا اور مالیاتی منڈیوں کی عکاسی کرتی ایک تصویر۔

آسٹریلوی ڈالر آج ایشیائی سیشنز کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوا اور AUDUSD تقریباً 0.7030 کی سطح پر آ گیا۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں معمولی بہتری کے بعد ہونے والی یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب Reserve Bank of Australia (RBA) کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات زیر بحث ہیں۔

مرکزی بینک کی اسسٹنٹ گورنر سارہ ہنٹر نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بلند افراط زر اور بیرونی قیمتوں کے دباؤ کے باعث شرح سود میں مزید اضافہ ضروری ہو سکتا ہے۔ اس بیان سے آسٹریلوی ڈالر کو سہارا ملنے کی توقع ہے، تاہم سرمایہ کاروں کی توجہ اب ستمبر کے افراط زر کے اعدادوشمار، امریکی مرکزی بینک کے فیصلے اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر مرکوز ہے۔

شرح سود میں اضافے کے سگنلز لیکن AUDUSD کی قدر میں گراوٹ

آسٹریلوی ڈالر AUDUSD کی حالیہ کمزوری ظاہر کرتی ہے کہ صرف شرح سود میں ممکنہ اضافے کی توقع کسی کرنسی کو مسلسل مضبوط رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ سرمایہ کار افراط زر، اقتصادی سرگرمیوں اور دوسرے مرکزی بینکوں کی پالیسیوں سے متعلق اشاروں کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔

سارہ ہنٹر نے اتوار کو اپنے بیان میں خبردار کیا کہ اگر قیمتوں میں اضافے کا دباؤ برقرار رہا اور عالمی مارکیٹس سے آنے والا افراط زر آسٹریلوی معیشت میں مستقل طور پر شامل ہو گیا تو شرح سود مزید بڑھانا پڑ سکتی ہے۔ رواں سال پہلے ہی چار مرتبہ شرح سود بڑھائے جانے کے بعد یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ RBA Monetary Policy میں نرمی کے امکانات ابھی محدود ہو سکتے ہیں۔

تاہم، جب تک مرکزی بینک کی جانب سے کسی نئے اضافے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جاتا، مارکیٹ میں غیر یقینی صورت حال برقرار رہ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے آسٹریلوی ڈالر شرح سود کے بارے میں سخت بیانات کے باوجود امریکی ڈالر کے مقابلے میں دباؤ کا شکار رہا۔

آسٹریلیا میں افراط زر اور RBA کی ساکھ کا امتحان

آسٹریلیا میں افراط زر کا مسلسل بلند رہنا مرکزی بینک کے لیے ایک اہم چیلنج بن گیا ہے۔ Commerzbank کے تجزیہ کار نارمن لیبکے کے مطابق کاروباری اداروں کے ایک بڑھتے ہوئے حصے میں یہ تصور مضبوط ہو رہا ہے کہ 3 سے 3.5 فیصد افراط زر ایک معمول کی صورت حال بن چکی ہے۔

یہ رجحان Inflation Expectations کے لیے اہم ہے، کیونکہ اگر کاروباری ادارے مستقبل میں بھی قیمتوں میں اضافے کی توقع رکھیں تو وہ اپنی مصنوعات اور خدمات کی قیمتیں اسی بنیاد پر مقرر کر سکتے ہیں۔ اس سے افراط زر کو دوبارہ مرکزی بینک کے مقرر کردہ ہدف تک لانا مشکل ہو جاتا ہے۔

مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ آسٹریلیا کی بنیادی افراط زر کی پیمائش، یعنی Trimmed Mean Inflation، حالیہ اعدادوشمار کے مطابق 3.6 فیصد رہی، جو RBA کے 2 سے 3 فیصد کے ہدف سے بلند ہے۔ بنیادی افراط زر کی یہ پیمائش قیمتوں کے عارضی اتار چڑھاؤ کے اثرات کم کرکے اندرونی قیمتوں کے دباؤ کا اندازہ فراہم کرتی ہے۔

اگر ستمبر کے نئے اعدادوشمار بھی افراط زر میں خاطر خواہ کمی ظاہر نہ کر سکے تو شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات مضبوط ہو سکتی ہیں۔ اس صورت میں آسٹریلوی ڈالر کو درمیانی مدت میں سہارا ملنے کا امکان ہوگا، تاہم اس کی سمت امریکی ڈالر کی مضبوطی اور عالمی سرمایہ کاروں کے رجحان پر بھی منحصر رہے گی۔

Australian CPI Report کا انتظار

اس ہفتے جاری ہونے والے آسٹریلیا کے ستمبر کے Consumer Price Index (CPI) اعدادوشمار فاریکس مارکیٹ کی توجہ کا مرکز رہیں گے۔ اگست کے اعدادوشمار مرکزی بینک کے ہدف سے بلند رہنے کے بعد سرمایہ کار یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہو رہی ہے یا نہیں۔

اگر ستمبر کے اعدادوشمار توقعات سے زیادہ افراط زر ظاہر کرتے ہیں تو RBA پر شرح سود مزید بڑھانے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس سے آسٹریلوی ڈالر کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہوگا، خصوصاً اگر اسی دوران امریکی ڈالر کمزور پڑتا ہے۔

اس کے برعکس، افراط زر میں نمایاں کمی شرح سود میں مزید اضافے کی ضرورت کو کم کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں آسٹریلوی ڈالر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ سرمایہ کار مستقبل میں مالیاتی پالیسی نرم ہونے کے امکانات کو اپنی قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر دیں گے۔

لہٰذا، سرمایہ کاروں کے لیے صرف افراط زر کی مجموعی شرح نہیں بلکہ بنیادی افراط زر اور قیمتوں کے دباؤ میں تبدیلی کے رجحان کو دیکھنا بھی ضروری ہوگا۔

Federal Reserve کا فیصلہ اور امریکی ڈالر کی سمت

آسٹریلوی ڈالر کی اگلی سمت کا انحصار صرف آسٹریلیا کی معیشت پر نہیں بلکہ امریکی Federal Reserve (Fed) کی مالیاتی پالیسی پر بھی ہوگا۔ مارکیٹ کی توجہ 27 اور 28 اکتوبر کے اجلاس پر مرکوز ہے، جہاں دستیاب مارکیٹ تخمینوں کے مطابق شرح سود برقرار رکھنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

فراہم کردہ CME FedWatch Tool کے اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر کے اجلاس میں شرح سود برقرار رہنے کا امکان 90.6 فیصد، جبکہ دسمبر میں شرح سود بڑھائے جانے کا امکان 79.7 فیصد ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ امکانات مارکیٹ کی توقعات کی عکاسی کرتے ہیں، مرکزی بینک کے حتمی فیصلے کی ضمانت نہیں۔

اگر Fed شرح سود برقرار رکھتے ہوئے مستقبل میں اضافے کا واضح اشارہ دیتا ہے تو امریکی ڈالر کو سہارا مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر پالیسی بیان توقعات سے نرم ہوا تو آسٹریلوی ڈالر سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں بہتری کا موقع مل سکتا ہے۔

AUDUSD کے لیے بنیادی سوال یہ ہوگا کہ آسٹریلیا میں شرح سود بڑھنے کے امکانات امریکی مالیاتی پالیسی کے مقابلے میں کتنے مضبوط ثابت ہوتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں کا اثر

عالمی فنانشل مارکیٹس میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری طور پر ایران پر فوجی حملے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس روز حملہ نہیں ہوگا۔ تاہم، واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی اور خطے میں امریکی مفادات کو لاحق خطرات کے باعث غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔

دوسری جانب، یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے ریاض میں واقع کنگ خالد ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا، جبکہ سعودی حکام کے مطابق حملوں کے بعد پروازیں بحال ہو چکی تھیں۔ اس نوعیت کی پیش رفت علاقائی سلامتی اور توانائی کی ترسیل کے خدشات کو بڑھا سکتی ہے۔

اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے اور Crude Oil Prices بڑھتی ہیں تو آسٹریلیا میں درآمدی قیمتوں اور کاروباری لاگت پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں RBA کو افراط زر قابو میں رکھنے کے لیے مزید سخت مالیاتی پالیسی اختیار کرنا پڑ سکتی ہے۔

تاہم، شرح سود میں اضافے کے امکانات آسٹریلوی ڈالر کو سہارا دے سکتے ہیں، جبکہ عالمی کشیدگی کے دوران سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف منتقل ہوں تو امریکی ڈالر بھی مضبوط ہو سکتا ہے۔ اس لیے جغرافیائی سیاسی خطرات کا اثر ہمیشہ آسٹریلوی ڈالر کے حق میں نہیں ہوتا۔

AUDUSD کا تیکنیکی جائزہ، سپورٹ اور مزاحمت کی سطحیں

تکنیکی چارٹ کے مطابق AUDUSD اکتوبر کے وسط میں تقریباً 0.6900 سے بحالی کے بعد 0.7030 کے قریب پہنچا ہے۔ اس پیش رفت نے قلیل مدتی رجحان کو نسبتاً مثبت بنایا ہے، تاہم قیمت کو اہم موونگ ایوریجز کے قریب مزاحمت کا سامنا ہے۔ فوری طور پر 0.7033 کی سطح اہم ہے، جو 100 روزہ سمپل موونگ ایوریج کے قریب واقع ہے۔

اگر کرنسی جوڑی اس مزاحمت کو عبور کرکے اس کے اوپر برقرار رہتی ہے تو اگلا اہم امتحان 0.7074 کی سطح پر ہوگا، جو 200 روزہ سمپل موونگ ایوریج کے قریب ہے۔ ان دونوں سطحوں سے اوپر مضبوطی کی صورت میں قیمت 0.7100 اور پھر 0.7150 کی جانب بڑھ سکتی ہے۔ اس کے بعد 0.7237، جو 9 ستمبر کی بلند ترین سطح ہے، اہم مزاحمت ہوگی، جبکہ اس سے آگے سال کی بلند ترین سطح 0.7277 زیر غور آ سکتی ہے۔

دوسری جانب، 0.7000 کی نفسیاتی سطح فوری سپورٹ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اگر قیمت اس سطح سے نیچے آتی ہے تو فروخت کا دباؤ بڑھنے کا امکان ہوگا اور اگلی اہم سپورٹ 0.6894 پر ہو سکتی ہے، جو 15 اکتوبر کی سائیکل لو ہے۔ اس سطح پر خریدار دوبارہ مارکیٹ میں داخل ہو سکتے ہیں، تاہم کسی بھی بحالی کی تصدیق کے لیے قیمت کی حرکت اور مارکیٹ کے بنیادی عوامل کو ساتھ دیکھنا ضروری ہوگا۔

تکنیکی اعدادوشمار میں 50 روزہ سمپل موونگ ایوریج کی سطح 0.751 درج ہے، جو موجودہ قیمت کے مقابلے میں غیر معمولی معلوم ہوتی ہے؛ اس لیے اس سطح کی تصدیق ضروری ہے اور درست ڈیٹا کے بغیر اسے قابل اعتماد مزاحمت نہیں سمجھنا چاہیے۔

مستقبل کی سمت

آسٹریلوی ڈالر کی سمت طے کرنے میں تین عوامل فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ پہلا، ستمبر کے افراط زر کے اعدادوشمار، جو RBA کی آئندہ پالیسی کے بارے میں اہم اشارے فراہم کریں گے۔ دوسرا، Federal Reserve کا فیصلہ اور دسمبر میں شرح سود سے متعلق توقعات، جو امریکی ڈالر کی قوت پر اثر انداز ہوں گی۔ تیسرا، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتیں، جو عالمی خطرات اور آسٹریلیا کے افراط زر کے منظرنامے کو متاثر کر سکتی ہیں۔

اگر آسٹریلیا میں افراط زر بلند رہتا ہے اور امریکی ڈالر کو Fed کی جانب سے اضافی مدد نہیں ملتی تو AUD/USD میں مزید بحالی ممکن ہے۔ لیکن اگر امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات مضبوط ہو جائیں یا عالمی کشیدگی کے باعث سرمایہ کار امریکی ڈالر کو ترجیح دیں تو آسٹریلوی ڈالر پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

مجموعی طور پر، AUDUSD کا انحصار شرح سود میں ممکنہ اضافے سے زیادہ اس بات پر ہوگا کہ آسٹریلیا اور امریکہ کی مالیاتی پالیسیوں کے راستوں میں کتنا فرق پیدا ہوتا ہے۔ اس ہفتے کے افراط زر کے اعدادوشمار اور مرکزی بینکوں کے اشارے اس فرق کو سمجھنے میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔

آپ کا اس مارکیٹ سچویشن کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا RBA ستمبر کے CPI ڈیٹا کے بعد شرح سود میں اضافہ کرے گا؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!

اظہار لاتعلقی

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

اطلاعات کے ذرائع

یہ مضمون اردو مارکیٹس کی تحقیقاتی ٹیم کے فراہم کردہ مواد اور مصنفہ کی ذاتی ریسرچ کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے۔ مشرق وسطی کے حالات کی تصدیق سعودی اخبار عرب نیوز https://www.arabnews.com/ اور عالمی نیوز ایجنسی رائٹرز https://www.reuters.com/ سے حاصل کی گئی ہے۔

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں