Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

EURUSD میں محدود بحالی لیکن بیئرش ٹرینڈ کا خطرہ برقرار، مرکزی بینکوں کے اہم فیصلوں کا انتظار

یورپی مرکزی بینک اور امریکی فیڈرل ریزرو کے شرح سود سے متعلق فیصلوں سے پہلے EURUSD میں محدود بحالی دیکھی جا رہی ہے، تاہم امریکی بانڈ ییلڈز میں کمی کے باوجود یورو کی تکنیکی صورتحال مکمل طور پر مثبت نہیں ہوئی

Robina Adeel
Robina Adeel ←

57 مشاہدات

یورو، امریکی ڈالر، یورپی مرکزی بینک اور یورپی عوام کی نمائندگی کرتا مالیاتی منظر
یورو، امریکی ڈالر، یورپی مرکزی بینک اور یورپی عوام کی نمائندگی کرتا مالیاتی منظر

یورپی مرکزی بینک اور امریکی فیڈرل ریزرو کے شرح سود سے متعلق فیصلوں سے پہلے EURUSD میں محدود بحالی دیکھی جا رہی ہے، تاہم امریکی بانڈ ییلڈز میں کمی کے باوجود یورو کی تکنیکی صورتحال مکمل طور پر مثبت نہیں ہوئی۔ فرانس کے بجٹ مسائل، سیاسی بے چینی اور مرکزی بینکوں کی آئندہ پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کرنسی مارکیٹ کے رجحان کو متاثر کر سکتی ہے۔

اہم نکات

1. EURUSD آج ابتدائی یورپی ٹریڈنگ کے دوران 1.1220 کے قریب مثبت دائرے میں رہی، لیکن قیمت اب بھی100 روزہ سمپل موونگ ایوریج سے نیچے ہے، جو قلیل مدتی مندی کے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔

2. امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈز گزشتہ سیشن میں 4.97 فیصد جبکہ 30 سالہ بانڈ ییلڈ 5.299 فیصد تک آ گئی، جس سے امریکی ڈالر پر دباؤ بڑھنے اور یورو کو محدود سہارا ملنے کا امکان پیدا ہوا۔

3. مارکیٹ کی توجہ امریکی Federal Reserve (Fed) کے بدھ اور یورپی مرکزی بینک کے جمعرات کو متوقع شرح سود کے فیصلوں پر مرکوز ہے۔

4. فرانس میں سیاسی بے چینی اور بجٹ کے بگڑتے مسائل EURUSD کی بحالی کے لیے رکاوٹ بن سکتے ہیں، جبکہ مرکزی بینکوں کی پالیسی سے متعلق بیانات قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھا سکتے ہیں۔

5. تکنیکی طور پر 1.1270 اور 1.1315 اہم مزاحمتی سطحیں ہیں۔ ان کے اوپر مضبوط پیش رفت کی صورت میں 1.1450 کی سطح زیرِ غور آ سکتی ہے۔

6. نیچے کی جانب 1.1185 پہلی اہم سپورٹ ہے، جس کے بعد 1.1138 اور 1.1100 کی سطحیں اہم ہوں گی۔ ان سطحوں سے نیچے جانے پر فروخت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

امریکی ٹریژری ییلڈز میں کمی اور EURUSD کی محدود بحالی

یورو اور امریکی ڈالر کی جوڑی EURUSD آج کی ابتدائی یورپی ٹریڈنگ میں 1.1220 کے قریب برقرار رہی۔ امریکی بانڈ مارکیٹ میں ییلڈز کی کمی نے ڈالر کی مضبوطی کو محدود کیا، جس سے یورو کو اپنی حالیہ پوزیشن بہتر بنانے کا موقع ملا۔ تاہم، اس بحالی کو ابھی مستقل رجحان کی تبدیلی قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ کرنسی جوڑی اہم تکنیکی مزاحمت کے نیچے موجود ہے۔

امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈز گزشتہ سیشن میں 4.97 فیصد تک گر گئی، جبکہ 30 سالہ بانڈ ییلڈ 5.299 فیصد پر رہی۔ دونوں ییلڈز تقریباً ایک ماہ کی کم ترین سطحوں کے قریب تھیں۔ بانڈ ییلڈز میں یہ کمی سرمایہ کاروں کی ڈالر سے متعلق حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ امریکی اثاثوں پر متوقع منافع میں تبدیلی عالمی کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے بہاؤ کو متاثر کرتی ہے۔

National Australia Bank کے سربراہ برائے فارن ایکسچینج حکمت عملی رے ایٹریل کے مطابق، موجودہ حالات میں امریکی بانڈ مارکیٹ ڈالر کی مجموعی سمت متعین کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس تناظر میں آئندہ چند سیشنز کے دوران امریکی ٹریژ ری ییلڈز کی نقل و حرکت EURUSD کے لیے اہم محرک ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم، ییلڈز میں کمی لازماً یورو کی مسلسل مضبوطی کی ضمانت نہیں دیتی۔ اگر امریکی اقتصادی اعداد و شمار یا فیڈرل ریزرو کے بیانات شرح سود کے بلند رہنے کا اشارہ دیتے ہیں تو ڈالر دوبارہ مضبوط ہو سکتا ہے۔

Fed اور ECB کے فیصلے کرنسی مارکیٹ کی سمت طے کریں گے

سرمایہ کاروں کی توجہ اب امریکی Federal Reserve اور یورپی European Central Bank کے آئندہ پالیسی فیصلوں پر مرکوز ہے۔ فراہم کردہ مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق، CME FedWatch کے اعداد و شمار میں اکتوبر کے اجلاس میں امریکی شرح سود برقرار رہنے کا امکان 90.6 فیصد ظاہر کیا گیا تھا، جبکہ دسمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان 79.4 فیصد بتایا گیا۔

یہ اعداد و شمار متعلقہ وقت کی مارکیٹ توقعات کی عکاسی کرتے ہیں، نہ کہ مرکزی بینک کے حتمی فیصلوں کی۔ اگر فیڈ شرح سود برقرار رکھتے ہوئے مستقبل میں سخت پالیسی کا عندیہ دیتا ہے تو امریکی ڈالر کو سہارا مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر پالیسی بیان توقعات سے نرم رہا تو یورو کو مزید بحالی کا موقع مل سکتا ہے۔

یورپی مرکزی بینک کا فیصلہ جمعرات کو متوقع ہے، جبکہ مارکیٹ میں شرح سود برقرار رہنے کی توقع تھی۔ سرمایہ کار صرف شرح سود کے فیصلے پر نہیں بلکہ آئندہ پالیسی کے اشاروں پر بھی توجہ دیں گے۔ ECB صدر کرسٹین لیگارڈ نے ستمبر کے اواخر میں کہا تھا کہ افراط زر سے نمٹنے کے لیے معتدل پالیسی ردعمل مناسب ہے۔ اس لیے ان کے تازہ بیانات یورپی شرح سود کے مستقبل کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

اگر دونوں مرکزی بینک شرح سود برقرار رکھتے ہیں تو مارکیٹ کا ردعمل اس بات پر منحصر ہوگا کہ ان کے بیانات میں مستقبل کی پالیسی کے حوالے سے کیا فرق سامنے آتا ہے۔ یہی فرق یورو اور ڈالر کے درمیان قلیل مدتی طاقت کا تعین کر سکتا ہے۔

فرانس کے سیاسی اور بجٹ مسائل یورو کے لیے خطرہ

امریکی ڈالر پر دباؤ کے باوجود یورو کی اپنی مشکلات بھی موجود ہیں۔ فرانس میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اور بجٹ سے متعلق مسائل یورپی کرنسی کے لیے منفی عوامل بن سکتے ہیں۔ مالیاتی پالیسی کے بارے میں غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی منڈی پہلے ہی مرکزی بینکوں کے فیصلوں کی منتظر ہو۔

اگر فرانس کے مالیاتی مسائل مزید شدت اختیار کرتے ہیں تو یورو کی بحالی محدود رہ سکتی ہے۔ اس کے برعکس، سیاسی حالات میں بہتری اور مالیاتی استحکام کے اشارے مشترکہ یورپی کرنسی کو سہارا دے سکتے ہیں۔

اس طرح EURUSD کی سمت صرف امریکی ڈالر کی کمزوری پر منحصر نہیں ہوگی بلکہ یورپی معیشت اور سیاسی حالات بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ دونوں خطوں سے متعلق معاشی اور سیاسی پیش رفت کا یکجا جائزہ لیں۔

چیئرمین فیڈرل ریزرو کے بیانات میں محتاط پالیسی کا اشارہ

امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین وارش کی تقریر میں سرمایہ کاری میں اضافے اور Artificial Intelligence (AI) کے معاشی کردار پر توجہ دی گئی، تاہم انہوں نے اکتوبر اور دسمبر کے پالیسی اجلاسوں کے فیصلوں کے بارے میں پیشگی یقین دہانی نہیں کرائی۔

تقریر کے جائزے میں عالمی مالیاتی بحران کے بعد خطرات سے نمٹنے کے لیے محتاط رویے کی اہمیت نمایاں رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں بہتری کی امید کے باوجود مالیاتی استحکام پالیسی سازوں کی ترجیحات میں شامل ہے۔

تقریر کے لیے فراہم کردہ FXS Speechtracker اسکور 5.6 از 10 تھا، جبکہ تاریخی اوسط 6.1 رہی۔ دوسری جانب FXS Fed Sentiment Index میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور یہ 127.51 پر برقرار رہا۔ اس اشاریے کا 100 سے اوپر ہونا سخت مالیاتی پالیسی کی جانب جھکاؤ کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن اس کی مستحکم سطح سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریر نے مارکیٹ کی مجموعی پالیسی توقعات میں کوئی نمایاں تبدیلی پیدا نہیں کی۔

EURUSD کے لیے اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ فیڈ کی جانب سے واضح نرم پالیسی کا اشارہ نہ ملنے تک امریکی ڈالر کی سمت غیر یقینی رہ سکتی ہے۔ AI سے متعلق سرمایہ کاری میں اضافے کے امکانات امریکی معیشت کے لیے مثبت ہیں، لیکن کرنسی مارکیٹ میں ان کا اثر افراط زر، شرح سود اور بانڈ ییلڈز کے تناظر میں سامنے آئے گا۔

EURUSD کا تیکنیکی جائزہ

روزانہ چارٹ کے مطابق، EUR/USD کا قلیل مدتی رجحان اب بھی مندی کی جانب جھکا ہوا ہے، کیونکہ قیمت 100 روزہ سمپل موونگ ایوریج اور Bollinger Bands کی بالائی حد سے نیچے موجود ہے۔ جوڑی تقریباً 1.1220 کے قریب ٹریڈ کر رہی تھی، جبکہ Bollinger Bands کی درمیانی حد فوری مزاحمت کا کردار ادا کر رہی تھی۔

14 روزہ ریلیٹیو اسٹرینتھ انڈیکس تقریباً 40 پر تھا۔ یہ سطح کمزور مومینٹم کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم اسے شدید فروخت یا مکمل طور پر اوور سولڈ صورتحال قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے قیمت میں مزید بحالی ممکن ہونے کے باوجود تکنیکی اشارے ابھی مضبوط تیزی کی تصدیق نہیں کرتے۔

سپورٹ اور مزاحمت کی سطحیں

اوپر کی جانب 16 اکتوبر کی بلند ترین سطح 1.1270 پہلی اہم مزاحمت ہے۔ اگر قیمت اس سطح سے اوپر مستحکم ہوتی ہے تو اگلا ہدف Bollinger Bands کی بالائی حد 1.1315 ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد 100-Day SMA تقریباً 1.1450 پر اہم رکاوٹ بنے گی۔ اس سطح سے اوپر مضبوط اور پائیدار پیش رفت وسیع تر مندی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

دوسری جانب، 23 اکتوبر کی کم ترین سطح 1.1185 پہلی اہم سپورٹ فراہم کرتی ہے۔ اگر قیمت اس سطح سے نیچے آتی ہے تو اگلی توجہ 1.1138 پر ہوگی، جو Bollinger Bands کی نچلی حد کے قریب واقع ہے۔ اس کے بعد 1.1100 کی نفسیاتی سطح اہم ہو سکتی ہے۔ اس سپورٹ زون کے ٹوٹنے سے فروخت کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان پیدا ہوگا۔

موجودہ تکنیکی صورتحال میں 1.1270 سے اوپر کی پیش رفت بحالی کو تقویت دے سکتی ہے، لیکن 1.1315 اور بالخصوص 1.1450 کے اوپر مضبوط حرکت کے بغیر مجموعی مندی کے رجحان میں واضح تبدیلی کی تصدیق مشکل ہوگی۔

EURUSD کے مستقبل کا منظرنامہ

آنے والے سیشنز میں EURUSD کی سمت کا انحصار تین بنیادی عوامل پر ہوگا: امریکی Treasury Yields کی سمت، فیڈرل ریزرو اور ECB کے پالیسی بیانات، اور فرانس کے سیاسی و مالیاتی حالات۔

اگر امریکی بانڈ ییلڈز میں کمی جاری رہتی ہے اور فیڈ توقعات سے نرم مؤقف اختیار کرتا ہے تو یورو 1.1270 اور پھر 1.1315 کی مزاحمتی سطحوں کو آزما سکتا ہے۔ ان سطحوں کے اوپر استحکام کی صورت میں 1.1450 کی جانب بحالی کا راستہ کھل سکتا ہے، تاہم اس کے لیے مضبوط خریداری اور سازگار بنیادی عوامل ضروری ہوں گے۔

اس کے برعکس، اگر امریکی ڈالر کو سخت مالیاتی پالیسی کی توقعات سے سہارا ملتا ہے یا یورپی سیاسی خطرات بڑھتے ہیں تو EUR/USD دوبارہ 1.1185 کی سپورٹ کی طرف جا سکتا ہے۔ اس سطح کے نیچے واضح بریک کی صورت میں 1.1138 اور 1.1100 اگلے اہم اہداف بن سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر، 1.1200 کے اوپر موجودگی EURUSD کو محدود سہارا دے رہی ہے، لیکن قیمت کا 100-Day SMA سے نیچے رہنا محتاط نقطۂ نظر کی ضرورت ظاہر کرتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ مرکزی بینکوں کے فیصلوں اور اہم تکنیکی سطحوں پر قیمت کے ردعمل کا انتظار کریں، بجائے اس کے کہ محدود بحالی کو فوری طور پر مستقل تیزی تصور کر لیا جائے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا EURUSD اس ہفتے فیڈ اور ای سی بی کے فیصلوں کے بعد 1.1270 کی رکاوٹ کو توڑ پائے گا یا مارکیٹ دوبارہ 1.1100 کے نچلے لیول کی طرف بڑھے گی؟ اپنے خیالات کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔

اظہار لاتعلقی

اردو مارکیٹس کا یہ تجزیہ فراہم کردہ مارکیٹ معلومات پر مبنی ہے۔ بیان کردہ قیمتیں، امکانات اور تکنیکی سطحیں متعلقہ وقت کے اعداد و شمار کی عکاسی کرتی ہیں اور انہیں موجودہ لائیو مارکیٹ کی ٹریڈنگ کا مشورہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ مواد صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہے، مالیاتی یا ٹریڈنگ مشورہ نہیں۔

معلومات کے ذرائع

یہ مضمون اردو مارکیٹس کی تحقیقاتی ٹیم کے فراہم کردہ مواد اور مصنفہ کی ذاتی ریسرچ کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے۔ حالات حاضرہ اور اعداد و شمار کی تصدیق عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز https://www.reuters.com/markets/ سے حاصل کی گئی ہے۔

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں