UK Employment Report ریلیز کر دی گئی، GBPUSD کی قدر میں تیزی
★اہم نکات
- •GBPUSD منگل کو تقریباً 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3350 کی سطح سے اوپر پہنچ گیا، جو گزشتہ ہفتے کی کم ترین سطح سے 200 سے زیادہ پپس کی بحالی کو ظاہر کرتا ہے۔
- •برطانیہ کی Unemployment Rate اگست تک کے تین ماہ میں 4.7 فیصد پر آ گئی، جبکہ گزشتہ رپورٹ میں یہ شرح 4.9 فیصد تھی۔
- •ستمبر میں بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد میں 30,300 کا اضافہ ہوا، جو مارکیٹ کی 19,400 کی توقع سے کہیں زیادہ تھا۔
- •نئی ملازمتوں کی آسامیوں میں سال کے آغاز کے بعد سب سے بڑی کمی رپورٹ ہوئی، جس سے بھرتیوں کے حوالے سے کاروباری اداروں کی محتاط حکمت عملی ظاہر ہوتی ہے۔
- •بونس کے بغیر اوسط اجرت میں سالانہ 3.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بونس سمیت اجرتوں کی شرح نمو کم ہو کر 3.7 فیصد رہ گئی۔
- •امریکی ڈالر کی کمزوری اور اکتوبر میں Federal Reserve کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات میں کمی نے پاؤنڈ کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔
UK Employment Report ریلیز کئے جانے اور برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح توقعات سے کم رہنے کے بعد برطانوی پاؤنڈ نے امریکی ڈالر کے مقابلے (GBPUSD) میں اپنی تیزی کا رخ دوبارہ اختیار کر لیا ہے۔
تاہم، ملازمتوں کے لیے درخواست دینے والے افراد کی بڑھتی تعداد، نئی آسامیوں میں نمایاں کمی اور کاروباری اداروں کے لیے بلند اخراجاتی دباؤ نے برطانوی معیشت اور لیبر مارکیٹ کے مستقبل کے حوالے سے سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔ دوسری جانب، امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے اکتوبر میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کم ہونے سے امریکی ڈالر کو بھی دباؤ کا سامنا ہے، جس سے GBPUSD کو مزید سہارا ملا ہے۔
برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح میں غیر متوقع کمی
برطانیہ کے قومی ادارۂ شماریات (ONS) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اگست تک کے تین ماہ میں ILO Unemployment Rate کم ہو کر 4.7 فیصد رہ گیا، جبکہ گزشتہ رپورٹ میں یہ شرح 4.9 فیصد تھی۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے بھی بے روزگاری کی شرح 4.9 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی تھی، اس لیے تازہ اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کو نسبتاً مثبت اشارہ دیا۔
عام طور پر بے روزگاری کی شرح میں کمی کو معیشت اور لیبر مارکیٹ کی مضبوطی سے جوڑا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رپورٹ کے اجرا کے بعد برطانوی پاؤنڈ کو فوری طور پر خریداری میں دلچسپی حاصل ہوئی اور GBPUSD نے اپنی حالیہ بحالی کو آگے بڑھایا۔ تاہم، اس مثبت تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے، کیونکہ بے روزگاری کی مجموعی شرح میں کمی کے باوجود دیگر اعداد و شمار روزگار کی مارکیٹ میں بڑھتے دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بے روزگاری الاؤنس کی درخواستوں میں اضافہ، لیبر مارکیٹ کے لیے باعث تشویش
برطانیہ میں ستمبر کے دوران بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دینے والے افراد کی تعداد میں 30,300 کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مارکیٹ میں 19,400 اضافے کی توقع تھی۔ اگست کے اعداد و شمار میں بھی نظرثانی کی گئی، جس کے بعد درخواستوں میں اضافہ 27,800 کے بجائے 7,000 رپورٹ کیا گیا۔
یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بے روزگاری کی مجموعی شرح میں بہتری کے باوجود ملازمتوں سے محروم ہونے یا روزگار کی تلاش میں سرکاری معاونت حاصل کرنے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ نئی آسامیوں میں سال کے آغاز کے بعد سب سے بڑی کمی نے بھی کاروباری سرگرمیوں کے بارے میں خدشات کو تقویت دی ہے۔
تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو اگر کاروباری ادارے بھرتیوں میں کمی جاری رکھتے ہیں تو آنے والے مہینوں میں روزگار کی رفتار مزید سست ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں برطانوی پاؤنڈ کی موجودہ تیزی کو برقرار رکھنے کے لیے صرف بے روزگاری کی شرح میں کمی کافی نہیں ہوگی، بلکہ سرمایہ کاروں کو ملازمتوں کی تخلیق اور کاروباری اعتماد میں بہتری کے شواہد بھی درکار ہوں گے۔
اجرتوں میں اضافہ اور کاروباری اخراجات کا دباؤ
برطانیہ میں اجرتوں کے تازہ اعداد و شمار بھی GBPUSD کی سمت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ اجرتوں کی رفتار صارفین کے اخراجات اور افراط زر کے رجحانات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگست تک کے تین ماہ میں بونس کے بغیر اوسط اجرت میں سالانہ 3.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ رپورٹ میں یہ شرح نظرثانی کے بعد 3.6 فیصد تھی۔ مارکیٹ کی توقع بھی 3.6 فیصد اضافے کی تھی، اس لیے تازہ اعداد و شمار توقعات سے بہتر رہے۔
اس کے برعکس، بونس سمیت اوسط اجرت میں اضافے کی شرح گزشتہ مدت کے 3.9 فیصد سے کم ہو کر 3.7 فیصد رہ گئی، جبکہ تجزیہ کاروں نے 3.8 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی تھی۔ یوں اجرتوں کی تصویر مکمل طور پر یکساں نہیں رہی، کیونکہ ایک پیمانے پر بہتری اور دوسرے پر سست روی سامنے آئی۔
بلند اجرتی اخراجات کاروباری اداروں کے لیے بھرتیوں کو مہنگا بنا سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب کاروبار طلب میں غیر یقینی صورت حال اور دیگر اخراجات کا سامنا کر رہے ہوں۔ اگر یہ دباؤ برقرار رہا تو نئی ملازمتوں کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں، جس سے برطانیہ کی معاشی سرگرمیوں اور مستقبل کی افراط زر دونوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔
امریکی ڈالر کی کمزوری
GBPUSD کی بحالی میں صرف برطانیہ کے روزگار کے اعداد و شمار کا کردار نہیں، بلکہ امریکی ڈالر کی کمزوری بھی ایک اہم محرک ہے۔ مارکیٹ میں اکتوبر کے دوران Federal Reserve کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہونے سے امریکی ڈالر پر دباؤ دیکھا گیا۔
کرنسی مارکیٹ میں شرح سود سے متعلق توقعات انتہائی اہم ہوتی ہیں، کیونکہ یہ سرمایہ کاروں کے لیے مختلف کرنسیوں میں سرمایہ رکھنے کی کشش کو متاثر کرتی ہیں۔ اگر امریکی مرکزی بینک کی جانب سے مزید سخت مالیاتی پالیسی اختیار کرنے کے امکانات کم ہوتے ہیں تو امریکی ڈالر کی طلب محدود ہو سکتی ہے، جس سے پاؤنڈ جیسی دوسری بڑی کرنسیوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
تاہم، امریکی ڈالر کی آئندہ سمت کا انحصار آنے والے معاشی اعداد و شمار، افراط زر کے رجحانات اور فیڈرل ریزرو کے پالیسی بیانات پر بھی ہوگا۔ اس لیے موجودہ کمزوری کو مستقل رجحان سمجھنے کے بجائے اسے مارکیٹ کی بدلتی ہوئی توقعات کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
GBPUSD کا ردعمل
تازہ رپورٹ کے بعد GBPUSD تقریباً 0.26 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3341 کے قریب ٹریڈ کرتا دکھائی دیا، جبکہ سیشن کے دوران جوڑی 1.3350 سے اوپر بھی پہنچی۔ گزشتہ ہفتے کی کم ترین سطح کے مقابلے میں 200 سے زیادہ پوائنٹس کی بحالی نے ظاہر کیا کہ خریداروں کی دلچسپی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔

اس کے باوجود، قیمت میں تیزی کو برطانیہ کی معیشت کی مکمل مضبوطی کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بے روزگاری کی کم شرح ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن الاؤنس کے دعووں میں اضافہ، آسامیوں میں کمی اور اجرتوں کے ملے جلے رجحانات بتاتے ہیں کہ لیبر مارکیٹ اب بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
اگر امریکی ڈالر پر دباؤ برقرار رہتا ہے اور پاؤنڈ کو مزید خریداری حاصل ہوتی ہے تو GBPUSD اپنی حالیہ بلند سطحوں کو دوبارہ آزما سکتا ہے۔ دوسری جانب، اگر آنے والے اعداد و شمار برطانوی معیشت میں کمزوری کی تصدیق کرتے ہیں یا امریکی ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو جوڑی میں منافع وصولی اور نیچے کی جانب تصحیح کا امکان بھی موجود رہے گا۔
GBPUSD کی سمت کیلئے اہم عوامل
قلیل مدتی بنیادوں پر GBPUSD کے لیے تین عوامل اہم رہیں گے: برطانیہ کی لیبر مارکیٹ کی حقیقی صورت حال، اجرتوں اور افراط زر کا رجحان، اور امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود سے متعلق توقعات۔ بے روزگاری کی شرح میں کمی پاؤنڈ کے حق میں ہے، لیکن نئی آسامیوں میں کمی اور بے روزگاری الاؤنس کے دعووں میں اضافہ اس مثبت اشارے کو محدود کر سکتے ہیں۔
اگر آنے والی رپورٹس میں ملازمتوں کی تخلیق مستحکم رہتی ہے اور امریکی ڈالر مزید کمزور ہوتا ہے تو پاؤنڈ اپنی بحالی جاری رکھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، برطانیہ میں بھرتیوں کی سست روی یا امریکی مالیاتی پالیسی کے بارے میں سخت توقعات میں واپسی جوڑی پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
مجموعی طور پر، برطانوی پاؤنڈ کو اس وقت روزگار کے بہتر نظر آنے والے ایک اشارے اور امریکی ڈالر کی کمزوری سے سہارا ملا ہے، لیکن لیبر مارکیٹ کے دوسرے اعداد و شمار احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔
اس لیے سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ صرف بے روزگاری کی شرح پر انحصار کرنے کے بجائے ملازمتوں، اجرتوں اور مرکزی بینکوں کی پالیسی سے متعلق تمام اہم اشاروں کو یکجا کرکے مارکیٹ کی سمت کا جائزہ لیں۔
آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا GBPUSD رواں ماہ 1.3500 کی سطح چھو سکے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔
انتباہ
Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔
سورس (Source)
Reuters News Agency: https://www.reuters.com/markets/europe/
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامینتبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔