Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

USDJPY کی قدر ستحکم، جاپان کے افراط زر کا انتظاراور امریکی بانڈ ییلڈز کے اثرات

★اہم نکات

  • •USDJPY منگل کے ایشیائی سیشن میں 158.50 کے قریب مستحکم رہا۔
  • •جاپان کے قومی Consumer Price Index (CPI) کے اعدادوشمار جمعے کو متوقع ہیں، جو ین کی اگلی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
  • •بو جے کے گورنر کازوئو یوئیڈا نے کہا کہ بنیادی افراط زر 2 فیصد کے ہدف کے قریب پہنچ رہی ہے، جس سے مستقبل میں شرح سود بڑھانے کی گنجائش برقرار رہتی ہے۔
  • •امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند ییلڈز امریکی ڈالر کو سہارا دے رہی ہیں، جبکہ Federal Reserve (Fed) کی مالیاتی پالیسی سے متعلق توقعات بھی اہم ہیں۔
  • •تکنیکی اعتبار سے 158.92 اور 159.45 اہم مزاحمتی سطحیں ہیں، جبکہ 158.05 اور 157.20 سپورٹ فراہم کر سکتی ہیں۔
  • •قلیل مدتی منظرنامے میں 155.00 سے 160.00 کی وسیع تجارتی حدود زیر غور ہیں، تاہم قیمت کا اگلا رخ افراط زر کے اعدادوشمار اور مرکزی بینکوں کے اشاروں پر منحصر ہوگا۔
Robina Adeel
Robina Adeel ←

82 مشاہدات

جاپانی ین، امریکی ڈالر، جاپان اور امریکہ کے جھنڈے اور مالیاتی مارکیٹ کی عکاسی کرتی تصویر
جاپانی افراطِ زر اور امریکی بانڈ ییلڈز کے درمیان ین اور ڈالر کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ۔

جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 158.50 کے قریب مستحکم ہے، کیونکہ سرمایہ کار جاپان کے تازہ افراط زر کے اعدادوشمار اور مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسی سے متعلق آئندہ اشاروں کے منتظر ہیں۔ دوسری جانب، امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند ییلڈز نے امریکی ڈالر کو سہارا فراہم کیا، جس سے USDJPY بڑی گراوٹ سے محفوظ رہا

جاپان کے مرکزی بینک Bank of Japan (BoJ) کے گورنر کازوئو یوئیڈا کے بیانات نے بھی مارکیٹ کی توجہ حاصل کی، جن کے مطابق بنیادی افراط زر مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف کے قریب پہنچ رہی ہے۔ تاہم، شرح سود میں اضافے کی رفتار اور حکومتی بانڈز کی مارکیٹ میں استحکام سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔

جاپان کے افراط زر کے اعدادوشمار سے پہلے سرمایہ کار محتاط

USDJPY کی تجارت میں محدود حرکت کی ایک بڑی وجہ جاپان کے قومی افراط زر کے اعدادوشمار کا انتظار ہے۔ سرمایہ کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا قیمتوں میں اضافہ اتنا پائیدار ہو چکا ہے کہ Bank of Japan مستقبل میں شرح سود مزید بڑھانے پر غور کرے، یا مرکزی بینک اپنی محتاط پالیسی برقرار رکھے گا۔

براؤن برادرز ہیریمن کے اندازوں کے مطابق، ستمبر میں جاپان کی مجموعی افراط زر کی سالانہ شرح 2.1 فیصد رہنے کی توقع تھی، جو اگست میں 1.9 فیصد تھی۔ تازہ خوراک کو نکال کر بنیادی افراط زر بھی 1.7 فیصد سے بڑھ کر 2.1 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی، جبکہ تازہ خوراک اور توانائی دونوں کو خارج کرنے والی بنیادی شرح 1.9 فیصد سے بڑھ کر 2.3 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

اگر اعدادوشمار ان اندازوں کے مطابق سامنے آتے ہیں تو یہ جاپان میں قیمتوں کے دباؤ کی مضبوطی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ اس سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کو تقویت مل سکتی ہے اور جاپانی ین کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں سہارا ملنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ جس سے USDJPY کی قیمتوں میں گراوٹ واقع ہو سکتی ہے۔

تاہم، صرف افراط زر میں اضافے سے فوری طور پر مانیٹری سختی کی تصدیق نہیں ہوتی۔ مرکزی بینک اجرتوں میں اضافے، ملکی طلب، کاروباری سرمایہ کاری اور قیمتوں کے دباؤ کی پائیداری کو بھی مدنظر رکھے گا۔ اسی لیے سرمایہ کاروں کی توجہ صرف مجموعی افراط زر کے بجائے بنیادی اعدادوشمار پر بھی مرکوز ہے۔

کازو یوئیڈا کے بیانات اور شرح سود کی پالیسی

Bank of Japan کے گورنر کازو یوئیڈا نے اشارہ دیا کہ جاپان میں بنیادی افراط زر مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف کے بہت قریب پہنچ رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی طلب، ملکی سرمایہ کاری اور لیبر مارکیٹ میں سخت حالات قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جبکہ اجرتوں اور قیمتوں میں اضافے کا باہمی تعلق بھی اہمیت اختیار کر رہا ہے۔

یہ مؤقف گزشتہ محتاط بیانات کے مقابلے میں نسبتاً سخت مانیٹری پالیسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر اجرتوں میں اضافہ مسلسل جاری رہتا ہے اور صارفین کی طلب مضبوط رہتی ہے تو مرکزی بینک کے لیے شرح سود میں مزید اضافے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں جاپانی اثاثوں پر منافع نسبتاً پرکشش ہونے سے ین کو تقویت مل سکتی ہے۔

اس کے باوجود، یوئیڈا نے مالیاتی پالیسی میں اچانک تبدیلی کا کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے طویل مدتی جاپانی حکومتی بانڈز کی ییلڈز میں اضافے کے خطرات کی طرف بھی توجہ دلائی اور واضح کیا کہ بانڈ مارکیٹ میں کسی مداخلت کا انحصار شرحوں کی حرکت اور مالیاتی استحکام پر ہوگا۔

براؤن برادرز ہیریمن کے مطابق، شرح سود کے تبادلے کی مارکیٹ میں 30 اکتوبر کو 25 بنیادی پوائنٹس کے اضافے سے شرح سود 1.50 فیصد ہونے کا امکان 5 فیصد سے کم، جبکہ 18 دسمبر کو اضافے کا امکان تقریباً 80 فیصد لگایا گیا تھا۔ یہ توقعات ظاہر کرتی ہیں کہ سرمایہ کار فوری سختی کے بجائے بتدریج پالیسی معمول پر آنے کے امکانات کو زیادہ اہمیت دے رہے تھے۔

جاپانی وزیراعظم کا مؤقف اور حکومتی بانڈز کی صورتحال

جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے کمزور ین اور بلند شرح سود کا ذمہ دار اپنی حکومت کو قرار دینے کے مؤقف کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مضبوط معیشت کی تعمیر کے ذریعے ملکی کرنسی پر اعتماد بڑھانے کی کوشش کرے گی۔

تاکائیچی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جاپانی حکومتی بانڈز کے اجرا کو مناسب انداز میں کنٹرول کرنے کا بھی عندیہ دیا۔ حکومتی بانڈز کی فراہمی، سرمایہ کاروں کی طلب اور مرکزی بینک کی پالیسی طویل مدتی ییلڈز کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ین کی قدر میں اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

اگر جاپانی بانڈز کی ییلڈز میں اضافہ امریکی بانڈز کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان شرح منافع کا فرق کم ہونے سے ین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تاہم، اگر امریکی ییلڈز بلند رہتی ہیں اور جاپان میں شرح سود بتدریج بڑھتی ہے تو امریکی ڈالر کی برتری برقرار رہ سکتی ہے۔

امریکی ٹریژری ییلڈز اور فیڈرل ریزرو کی توقعات

US Treasury Yields میں اضافے نے امریکی ڈالر کو سہارا دیا ہے، کیونکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بلند امریکی ییلڈز ڈالر پر مبنی اثاثوں کو نسبتاً پرکشش بنا سکتی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب جاپان میں شرح سود میں اضافے کی رفتار محدود رہنے کی توقع ہو۔

CME FedWatch Tool کے مطابق، متعلقہ پالیسی اجلاس میں امریکی شرح سود برقرار رہنے کا امکان 82.8 فیصد لگایا گیا تھا، جبکہ دسمبر میں شرح سود بڑھنے کا امکان تقریباً 93.6 فیصد بتایا گیا۔ یہ اعدادوشمار مارکیٹ کی توقعات کی عکاسی کرتے ہیں، فیڈرل ریزرو کے کسی حتمی فیصلے کی نہیں۔

اگر امریکی مالیاتی پالیسی توقعات سے زیادہ سخت رہتی ہے تو ڈالر کو مزید سہارا مل سکتا ہے اور USDJPY میں گراوٹ محدود رہنے کا امکان ہوگا۔ اس کے برعکس، امریکی ییلڈز میں کمی اور جاپان میں شرح سود بڑھنے کے امکانات مضبوط ہونے سے ین کی بحالی کو تقویت مل سکتی ہے۔

AUDUSD کا تیکنیکی جائزہ

روزانہ چارٹ پر USD/JPY تقریباً 158.50 کے قریب مستحکم ہے، لیکن قیمت 100 روزہ Simple Moving Average (SMA) سے نیچے ہونے کے باعث قلیل مدتی تکنیکی دباؤ برقرار ہے۔ دوسری جانب، قیمت 20 روزہ Bollinger Bands کی درمیانی لائن سے اوپر ہے، جو محدود مثبت مومینٹم کی نشاندہی کرتی ہے۔

14 روزہ ریلیٹو اسٹرینتھ انڈیکس تقریباً 56.69 پر موجود ہے، جو خریداروں کی معتدل برتری ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، یہ مثبت مومینٹم اس وقت تک مضبوط تیزی کی تصدیق نہیں کرتا جب تک قیمت اہم مزاحمتی سطحوں کو عبور کرکے ان کے اوپر استحکام حاصل نہ کر لے۔

اہم مزاحمتی سطحیں

قیمت کے اوپر پہلی مزاحمت 158.92 کے قریب ہے، جہاں 20 روزہ بولینجر بینڈ کی بالائی حد موجود ہے۔ اگر خریدار اس سطح کو عبور کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اگلی اہم رکاوٹ 159.45 پر واقع 100 روزہ موونگ ایوریج ہوگی۔159.45 سے اوپر مضبوط بندش تکنیکی دباؤ میں کمی اور مزید بحالی کی کوشش کا اشارہ دے سکتی ہے۔ تاہم، اس سطح کو عبور کرنے میں ناکامی قیمت کو دوبارہ موجودہ تجارتی حدود میں واپس لا سکتی ہے۔

اہم سپورٹ اور ممکنہ گراوٹ

نیچے کی جانب 158.05 کی سطح فوری سپورٹ فراہم کر رہی ہے، جہاں 20 روزہ بولینجر بینڈ کی درمیانی لائن موجود ہے۔ اگر قیمت اس سطح سے نیچے آتی ہے تو اگلی سپورٹ 157.20 کے قریب ہوگی، جہاں بولینجر بینڈ کی نچلی حد واقع ہے۔

157.20 سے نیچے مسلسل کمزوری کی صورت میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، تاہم کسی بڑی گراوٹ کی تصدیق کے لیے اضافی تکنیکی اور بنیادی شواہد ضروری ہوں گے۔ دوسری جانب، 158.05 سے اوپر قیمت کا برقرار رہنا محدود بحالی کے امکانات کو زندہ رکھ سکتا ہے۔

مستقبل قریب کے امکانات

مجموعی طور پر USDJPY میں قلیل مدتی سمت غیر واضح ہے، کیونکہ امریکی بانڈ ییلڈز ڈالر کو سہارا دے رہی ہیں، جبکہ جاپان میں بنیادی افراط زر کا 2 فیصد ہدف کے قریب پہنچنا ین کے لیے ممکنہ مثبت محرک ہے۔ مرکزی بینکوں کی پالیسیوں میں فرق اس کرنسی جوڑے کی اگلی حرکت کا اہم تعین کنندہ رہے گا۔

براؤن برادرز ہیریمن کے تجزیے کے مطابق، قلیل مدت میں 155.00 سے 160.00 کی وسیع حدود میں تجارت کا امکان موجود ہے۔ اس منظرنامے میں 158.92 اور 159.45 کی مزاحمتیں اوپر کی جانب اہم رکاوٹیں ہیں، جبکہ 158.05 اور 157.20 کی سپورٹیں نیچے کی جانب اہمیت رکھتی ہیں۔

اگر جاپان کے افراط زر کے اعدادوشمار توقعات سے زیادہ مضبوط آتے ہیں اور شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھتے ہیں تو ین کو سہارا مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس، امریکی ییلڈز میں مزید اضافہ اور جاپانی مالیاتی پالیسی میں محتاط رویہ ڈالر کو برتری دے سکتا ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اہم تکنیکی سطحوں کے ساتھ جاپان کے افراط زر کے اعدادوشمار، یوئیڈا کے آئندہ بیانات اور امریکی بانڈ ییلڈز میں تبدیلیوں کا جائزہ لیں، کیونکہ ان عوامل میں سے کسی ایک میں نمایاں تبدیلی بھی USDJPY کی موجودہ سمت کو متاثر کر سکتی ہے۔

آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا جاپانی ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر 160.00 کا لیول توڑ پائے گا یا بینک آف جاپان کی مداخلت سے اس میں بہتری آئے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

انتباہ

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

سورس (Source)

Reuters News Agency: https://www.reuters.com/markets/

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں