Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

جاپانی ین پر دباؤ، امریکی ڈالر کی واپسی سے USDJPY میں تیزی

★اہم نکات

  • •خلاصہ
  • •امریکی ڈالر کی بحالی سے USDJPY میں تیزی
Adeel khalid
Adeel khalid ←

65 مشاہدات

بینک آف جاپان کی عمارت، جاپانی پرچم، ین کے سکے، جاپانی کرنسی نوٹ، ماؤنٹ فوجی اور مالیاتی کینڈل اسٹک چارٹ پر مشتمل تصویر۔
جاپانی ین، بینک آف جاپان، شرح سود اور مالیاتی منڈیوں کی صورتحال، ٹوکیو کی معیشت اور کرنسی مارکیٹ کے اہم رجحانات۔

جاپانی ین کو محفوظ سرمایہ کاری سے سرمائے کے اخراج، امریکی بانڈز کی بڑھتی ہوئی ییلڈز اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مضبوط نتائج کے باعث دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ فیڈرل ریزرو کے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد USDJPY دوبارہ 158.00 کی سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اب سرمایہ کاروں کی توجہ بینک آف جاپان کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہے، جہاں دسمبر میں شرح سود بڑھانے کے ممکنہ اشارے جاپانی کرنسی کی سمت متعین کر سکتے ہیں۔

خلاصہ

  • USDJPY کی قیمت گزشتہ سیشن کی گراوٹ کے بعد بحال ہو کر 157.90 سے 158.00 کے قریب پہنچ گئی، جبکہ امریکی ڈالر کی واپسی نے اس جوڑی کو سہارا دیا۔

  • Federal Reserve نے شرح سود برقرار رکھی، تاہم دو پالیسی سازوں نے 25 بنیادی پوائنٹس اضافے کے حق میں اختلاف کیا، جس سے امریکی مانیٹری پالیسی کے بارے میں غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔

  • کیون وارش نے قیمتوں کے استحکام اور 2 فیصد افراط زر کے ہدف پر توجہ برقرار رکھنے کا عندیہ دیا، جس سے ڈالر کو تقویت مل سکتی ہے۔

  • مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مضبوط کاروباری نتائج اور مارکیٹ میں بہتر سرمایہ کار اعتماد نے محفوظ اثاثوں کی طلب کم کی، جس سے جاپانی ین پر دباؤ بڑھا۔

  • بینک آف جاپان کے آئندہ پالیسی اجلاس میں شرح سود برقرار رہنے کی توقع ہے، تاہم دسمبر میں ممکنہ اضافے کے اشارے ین کی سمت بدل سکتے ہیں۔

  • تکنیکی اعتبار سے 157.75 فوری سپورٹ جبکہ 159.00 اہم مزاحمتی سطح ہے۔ مزاحمت سے اوپر مضبوط بریک آؤٹ مزید تیزی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

امریکی ڈالر کی بحالی سے USDJPY میں تیزی

جمعرات کے ایشیائی سیشنز میں USDJPY تقریباً 158.00 کے قریب کاروبار کرتا دکھائی دیا، جبکہ اس سے پہلے کے سیشن میں ہونے والی گراوٹ کے بعد امریکی ڈالر نے دوبارہ اپنی پوزیشن بہتر بنائی۔ اس بحالی کے پیچھے بنیادی عوامل میں امریکی شرح سود کا موجودہ راستہ، افراط زر سے متعلق خدشات اور عالمی فنانشل مارکیٹس میں سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات شامل ہیں۔

امریکی ڈالر اور جاپانی ین کی اس جوڑی میں اضافے کا مطلب ہے کہ ایک امریکی ڈالر خریدنے کے لیے زیادہ جاپانی ین درکار ہیں۔ اس لیے USDJPY کی موجودہ حرکت جاپانی کرنسی کی کمزوری اور ڈالر کی نسبتی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے۔

تاہم، قیمت کا 158.00 کے قریب پہنچنا بذات خود کسی مستقل تیزی کی ضمانت نہیں۔ سرمایہ کاروں کو امریکی مانیٹری پالیسی کے اشاروں اور جاپان کے مرکزی بینک کے فیصلوں کو ساتھ رکھ کر دیکھنا ہوگا، کیونکہ دونوں عوامل آنے والے سیشنز میں مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

Federal Reserve کا فیصلہ اور امریکی ڈالر کا مستقبل

Federal Reserve نے حالیہ اجلاس میں شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، لیکن دو پالیسی سازوں نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے 25 بنیادی پوائنٹس اضافے کی حمایت کی۔ یہ اختلاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افراط زر پر قابو پانے کے لیے مزید سخت مانیٹری پالیسی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا رہا۔

فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے بھی قیمتوں کے استحکام اور افراط زر کو 2 فیصد کے ہدف تک لانے کے عزم کو دہرایا۔ ان کے مطابق امریکی معیشت مضبوط ہے، جس سے یہ توقع برقرار رہ سکتی ہے کہ مرکزی بینک شرح سود میں نرمی کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کرے گا۔

اگر امریکی افراط زر توقعات سے زیادہ برقرار رہتا ہے اور شرح سود میں کمی کے امکانات کم ہوتے ہیں تو امریکی بانڈز کی ییلڈز اور ڈالر کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس، معاشی سرگرمی میں کمزوری یا افراط زر میں واضح کمی ڈالر کی موجودہ تیزی کو محدود کر سکتی ہے۔

AI سیکٹر کی مضبوط کارکردگی اور محفوظ اثاثوں سے سرمایہ نکلنے کا رجحان

عالمی فنانشل مارکیٹس میں مصنوعی ذہانت کے شعبے سے متعلق مثبت توقعات بھی جاپانی Yen کے لیے ایک اہم چیلنج بن رہی ہیں۔ جنوبی کوریا کی چِپ ساز کمپنی SK Hynix نے تیسری سہ ماہی کے مضبوط معاشی نتائج رپورٹ کیے اور مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے منافع کی بنیاد پر شیئر ہولڈرز کو زیادہ ڈیویڈنڈ کا اعلان کیا۔

اس پیش رفت نے AI سے متعلق کاروباروں کی آمدنی اور مستقبل کی ترقی کے بارے میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی۔ جب سرمایہ کار زیادہ منافع کے امکانات رکھنے والے اثاثوں کی جانب متوجہ ہوتے ہیں تو روایتی محفوظ سرمایہ کاری، بشمول جاپانی ین ، کی طلب میں کمی آ سکتی ہے۔

دوسری جانب، سرکاری بانڈز کی قیمتوں میں کمی اور ان کی ییلڈز میں اضافے نے بھی مارکیٹ کے سرمایہ کاری کے رجحانات کو متاثر کیا۔ بانڈز کی قیمتوں اور ییلڈز میں عموماً الٹی سمت میں حرکت ہوتی ہے، اس لیے بڑھتی ہوئی ییلڈز عالمی سرمائے کی تقسیم کو تبدیل کر سکتی ہیں۔

اس صورت حال میں جاپانی ین پر دباؤ صرف ڈالر کی مضبوطی تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کی خطرہ مول لینے کی آمادگی بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے۔

Bank of Japan کی پالیسی میٹنگ

اب مارکیٹ کی توجہ Bank of Japan کے جمعے کو ہونے والے پالیسی اجلاس پر ہے۔ توقع ہے کہ مرکزی بینک فوری طور پر شرح سود میں تبدیلی نہیں کرے گا، لیکن افراط زر کے مسلسل دباؤ کے پیش نظر دسمبر میں ممکنہ اضافے کے بارے میں اشارے اہم ہو سکتے ہیں۔

اگر BoJ مستقبل میں شرح سود بڑھانے کا واضح عندیہ دیتا ہے تو جاپانی اثاثوں کی کشش بہتر ہو سکتی ہے، جس سے ین کو سہارا ملنے اور USDJPY میں گراوٹ کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر مرکزی بینک محتاط مؤقف برقرار رکھتا ہے تو ڈالر اور ین کے درمیان شرح سود کا فرق جاپانی کرنسی کے لیے دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

اس کے باوجود ین کی مجموعی کارکردگی کو صرف مرکزی بینک کے فیصلے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ Rabobank کے حکمت عملی سازوں کے مطابق جاپانی ین حالیہ عرصے میں بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھاتا رہا ہے، جبکہ کرنسی مارکیٹ میں حکومتی مداخلت نے بھی اسے سہارا دینے میں کردار ادا کیا ہے۔

اس لیے آنے والے دنوں میں BoJ کی پالیسی، حکومتی مداخلت کے امکانات اور امریکی بانڈز کی ییلڈز تینوں عوامل ین کی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔

USDJPY کا تکنیکی جائزہ

روزانہ کے چارٹ پر USDJPY تقریباً 157.90 کی سطح پر کاروبار کر رہا ہے۔ گزشتہ سیشن کی گراوٹ کے بعد قیمت میں V شکل کی بحالی دیکھی گئی ہے اور کرنسی جوڑی اپنی 20 روزہ Exponential Moving Average (EMA)، جو تقریباً 157.75 پر موجود ہے، سے اوپر برقرار ہے۔ یہ صورتحال محدود تیزی کے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم مارکیٹ میں مضبوط تیزی کی تصدیق کے لیے مزید پیش رفت درکار ہے۔

سپورٹ اور مزاحمتی سطحیں

تکنیکی اشاروں کے مطابق 157.75 کی سطح فوری سپورٹ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں خریداروں کی دلچسپی برقرار رہنے کی صورت میں قیمت کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔ دوسری جانب، ریلیٹو اسٹرینتھ انڈیکس کی 51.45 کی ریڈنگ ظاہر کرتی ہے کہ مارکیٹ میں خریداری یا فروخت کا کوئی غیر معمولی دباؤ موجود نہیں اور رفتار فی الحال غیر جانب دار ہے۔ اگر قیمت 157.75 سے نیچے آتی ہے اور روزانہ کاروبار کا اختتام بھی اس سطح سے نیچے ہوتا ہے تو اصلاح کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں USDJPY دوبارہ 156.00 کی سطح کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

اوپر کی جانب 159.00 کی سطح اہم مزاحمت ہے، جو 24 ستمبر کی بلند ترین قیمت کے قریب واقع ہے۔ اگر کرنسی جوڑی اس سطح کو فیصلہ کن انداز میں عبور کر لیتی ہے تو تیزی کے نئے مرحلے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم، 159.00 سے اوپر جانے میں ناکامی کی صورت میں قیمت موجودہ حدود میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتی ہے۔ اس لیے سرمایہ کاروں کے لیے 157.75 کی سپورٹ اور 159.00 کی مزاحمت پر نظر رکھنا اہم ہوگا، کیونکہ ان سطحوں سے قیمت کی اگلی سمت کے بارے میں زیادہ واضح اشارے مل سکتے ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟

کیا بینک آف جاپان جمعہ کو مستقبل میں شرح سود بڑھانے کا اشارہ دے گا، یا امریکی ڈالر 159.00 کی مزاحمتی سطح کو توڑ کر 160.00 کو چھو لے گا؟ اپنی قیمتی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!

اہم وضاحت

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

سورس (Source)

Reuters News Agency: Asian Market Headlines | Breaking Stock Market News | Reuters

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Adeel khalid

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں