BOJ کے سخت فیصلے اور فیڈ کا دباؤ ،USDJPY میں 156.00 کے قریب مندی
اس وقت مارکیٹ کی تمام تر توجہ جمعہ کے روز متوقع بینک آف جاپان کے مانیٹری پالیسی بارے فیصلے پر مرکوز ہے، جو کہ ایشیائی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
آج کے ایشیائی سیشنز میں USDJPY میں مندی اور مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا رکھی ہے۔ جس نے پچھلے تین دنوں کی مسلسل تیزی کے بعد 156.00 کی اہم سطح کے قریب پوزیشن سنبھال لی ہے۔ اس وقت مارکیٹ کی تمام تر توجہ جمعہ کے روز متوقع بینک آف جاپان (Bank of Japan BoJ) کے مانیٹری پالیسی بارے فیصلے پر مرکوز ہے، جو کہ ایشیائی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اس مضمون میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کس طرح جاپانی ین (Japanese Yen) کی مضبوطی، بینک آف جاپان کا سخت مانیٹری پالیسی کا موقف، اور امریکی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی پالیسیاں مل کر اسUSDJPY کو متاثر کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی ہم اس کے تکنیکی پہلوؤں کا بھی احاطہ کریں گے۔
اہم نکات۔
USDJPY کی قدر میں کمی: ایشیائی سیشن میںUSDJPY کی جوڑی 156.00 کی سطح کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے جو کہ پچھلے تین دن کی تیزی کے بعد قدرے نیچے آئی ہے۔
بینک آف جاپان کا موقف: جاپانی مرکزی بینک سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ شرح سود میں 25 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 1.25 فیصد تک لے جائے گا۔
امریکی ڈالر کی مضبوطی: فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے اور ڈاٹ پلاٹ (Dot plot) کے اشاروں نے امریکی ڈالر کو جولائی کے آخر کے بعد سے نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔
جیو پولیٹیکل دباؤ: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی خطرات (Geopolitical risks) محفوظ پناہ گاہ کے طور پر ڈالر کو سہارا فراہم کر رہے ہیں۔
بینک آف جاپان کی سخت مانیٹری پالیسی کی توقعات۔
بینک آف جاپان (BoJ) کے حوالے سے سرمایہ کاروں میں یہ توقعات شدت اختیار کر چکی ہیں کہ مرکزی بینک اپنے ستمبر کے پالیسی اجلاس کے اختتام پر شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس (bps) کا اضافہ کرے گا۔ اس متوقع اضافے کے بعد بینچ مارک شرح سود 31 سال کی بلند ترین سطح یعنی 1.25 فیصد پر پہنچ جائے گی۔ اس فیصلے کے پیچھے افراط زر کے بڑھتے ہوئے خطرات اور توانائی کی بلند قیمتیں کارفرما ہیں۔
علاوہ ازیں ٹریڈرز اب دسمبر میں بھی مزید شرح سود میں اضافے کی توقعات لگائے بیٹھے ہیں۔ جب بھی مرکزی بینک روایتی نرم پالیسی سے ہٹ کر سختی کی طرف گامزن ہوتا ہے، تو اس کا براہ راست اثر ملکی کرنسی پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپانی ین (Japanese Yen) میں حالیہ دنوں میں تیزی دیکھنے کو ملی ہے، جس نے USDJPY کو محدود رینج میں دھکیل دیا ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو کا فیصلہ اور ڈالر کی تیزی
بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب امریکی فیڈرل ریزرو (US Federal Reserve) کی جانب سے طویل عرصے کے بعد شرح سود میں کیے گئے اضافے اور آئندہ کے لیے سخت اشاروں نے عالمی مالیاتی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔
فیڈ کے ڈاٹ پلاٹ (Dot Plot) نے اشارہ دیا ہے کہ اس سال مزید ایک اور شرح سود میں اضافہ متوقع ہے۔ دراصل عالمی سطح پر تنازعات کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے سے جن جنم لینے والی افراط زر کی توقعات نے فیڈرل ریزرو کو مزید سخت اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے امریکی ڈالر (USD) کو زبردست تقویت ملی ہے۔
جب امریکی ڈالر مضبوط ہوتا ہے، تو دنیا بھر کی دیگر کرنسیوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم، جاپانی ین کی اپنی اندرونی قوت کی وجہ سے امریکی ڈالر گراوٹ کا شکار ہے، جس کی وجہ سے یہ جوڑا فیڈ کے مثبت اشاروں کے باوجود ایک خاص دائرے میں محدود ہے۔
مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور Safe Haven کا رجحان
عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف رخ کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور یمن کے محاذ پر پیش آنے والے حالیہ واقعات نے سرمایہ کاروں میں احتیاط کا عنصر بڑھا دیا ہے۔
اس قسم کے خطرات ڈالر اور دیگر محفوظ کرنسیوں کے لیے کشش کا باعث بنتے ہیں، جس کی وجہ سے USDJPY جوڑے کو مکمل طور پر گرنے سے روکنے میں مدد ملتی ہے۔
تیکنیکی لیولز، سپورٹ اور مزاحمت کی سطحیں۔
اگر ہم USDJPY کا تیکنیکی جائزہ لیں تو اسوقت یہ 156 کی نفسیاتی سپورٹ کے قریب محدود رینج اختیار کئے ہوئے ہی۔ اگر USDJPY کی قیمت اوپر کی جانب حرکت کرتی ہے اور 156.60 سے 156.65 کے زون کو عبور کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو اگلی اہم رکاوٹ 157.55 کے قریب موجود 61.8 فیصد Fibonacci Retracement سطح ہوگی۔
اس کے بعد 158.81 کے قریب 78.6 فیصد ریٹریسمنٹ ایک اور اہم مزاحمتی سطح ہے، جبکہ مزید تیزی کی صورت میں 160.42 کا سابقہ Swing High اہم تکنیکی ہدف اور رکاوٹ بن سکتا ہے۔ دوسری جانب، اگر قیمت موجودہ مزاحمتی زون سے نیچے رہتی ہے اور فروخت کا دباؤ بڑھتا ہے تو ابتدائی سپورٹ 155.78 کے قریب موجود 38.2 فیصد Fibonacci Retracement سطح پر ہے۔

اس سطح کے نیچے بریک ہونے کی صورت میں اگلی سپورٹ 154.68 کے قریب 23.6 فیصد ریٹریسمنٹ پر دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ مزید بڑی گراوٹ کی صورت میں 152.91 کے قریب بنیادی Structural Floor اہم سپورٹ فراہم کر سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، قلیل مدت میں USDJPY کی تکنیکی سمت 156.60 سے 156.65 کے زون کے ردعمل پر خاص طور پر منحصر رہے گی۔ اس زون کے نیچے قیمت برقرار رہنے سے مندی کا رجحان قائم رہ سکتا ہے، جبکہ اس کے اوپر مستحکم بریک آؤٹ کی صورت میں 157.55 اور اس کے بعد 158.81 کی سطحیں توجہ کا مرکز بن سکتی ہیں۔
حاصل کلام
مجموعی طور پر، حالیہ مارکیٹ کا ماحول اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ٹریڈرز انتہائی چوکس رہیں۔ بینک آف جاپان کا متوقع سخت فیصلہ اور امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی کے درمیان کشمکش USDJPY کے لیے ایک دلچسپ موڑ پیدا کر رہی ہے۔ جہاں ایک طرف جاپانی ین اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہیں ڈالر کی مضبوطی اور عالمی خطرات اس جوڑے کو سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔
بطور ایک تجربہ کار مارکیٹ واچر، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مارکیٹ کبھی بھی ایک سیدھی لکیر میں حرکت نہیں کرتی۔ ہمیشہ اپنے ٹریڈنگ پلان پر قائم رہیں، اسٹاپ لاس (Stop Loss) کا مؤثر استعمال کریں، اور خبروں کے تیکنیکی اشاروں پر فوکس کریں۔
آپ کا اس مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ بینک آف جاپان کا فیصلہ ین کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گا؟ نیچے کمنٹس باکس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں!
انتباہ
Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور Market Information صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ مضامین
3 مضامینتبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔