Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

USDJPY میں 158 کی سطح برقرار، Fed اور BoJ کے فیصلوں سے پہلے مارکیٹ محتاط

★اہم نکات

  • •USDJPY : امریکی ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کا کرنسی جوڑا 158.00 سے اوپر محدود رینج میں تجارت کر رہا ہے۔
  • •Fed Interest Rate Decision: امریکی مرکزی بینک 28 اکتوبر کو اپنے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر شرح سود کا فیصلہ کرے گا۔
  • •BoJ Monetary Policy: بینک آف جاپان کا اجلاس 29 اور 30 اکتوبر کو ہوگا، جبکہ دسمبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات بھی زیر بحث ہیں۔
  • •US Japan Yield Differential: دونوں ممالک کے بانڈز کی ییلڈز میں نمایاں فرق امریکی ڈالر کو سہارا دے رہا ہے۔
  • •Currency Intervention Risk: جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت کے خدشات ڈالر کے مقابلے میں ین کی گراوٹ کو محدود کر سکتے ہیں۔
  • •USDJPY Technical Analysis: 158.48 اور 159.39 اہم مزاحمتی سطحیں ہیں، جبکہ 157.17، 155.54 اور 152.91 ممکنہ سپورٹ لیولز ہیں۔
Robina Adeel
Robina Adeel ←

بینک آف جاپان کی عمارت، جاپانی پرچم، ین کے سکے، جاپانی کرنسی نوٹ، ماؤنٹ فوجی اور مالیاتی کینڈل اسٹک چارٹ پر مشتمل تصویر۔
جاپانی ین، بینک آف جاپان، شرح سود اور مالیاتی منڈیوں کی صورتحال، ٹوکیو کی معیشت اور کرنسی مارکیٹ کے اہم رجحانات۔

آج ایشیائی سیشنز کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی قدر 158 کی سطح سے اوپر مستحکم ہے، تاہم آئندہ ہفتے Federal Reserve (Fed) اور Bank of Japan (BoJ) کے اہم مانیٹری پالیسی فیصلوں سے پہلے سرمایہ کار محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔

امریکی اور جاپانی شرح سود میں فرق، امریکی بانڈز کی گرتی ہوئی ییلڈز، جاپان کی ممکنہ کرنسی مداخلت اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اس کرنسی جوڑے کی سمت متعین کرنے والے اہم عوامل ہیں۔ تکنیکی اعتبار سے بھی USDJPY کو 158.48 اور 159.39 کی سطحوں پر مزاحمت کا سامنا ہے، جبکہ 157.17 کی سطح فوری سپورٹ کے طور پر اہمیت رکھتی ہے۔

USDJPY مستحکم لیکن محدود رینج میں ٹریڈ

ایشیائی سیشنز کے دوران USDJPY نے 158.00 کی سطح سے اوپر اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ رواں ماہ کے آغاز سے اس کرنسی جوڑے میں محدود دائرے کے اندر اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ مارکیٹ میں امریکی اور جاپانی مانیٹری پالیسی کے ممکنہ راستوں کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال موجود ہے۔

سرمایہ کار فی الحال بڑی سمت میں پوزیشن لینے کے بجائے اگلے ہفتے کے اہم معاشی واقعات کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان فیصلوں سے نہ صرف ڈالر اور ین کی طلب متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی بانڈ مارکیٹ اور دیگر اہم کرنسیوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔

امریکی مرکزی بینک 28 اکتوبر کو شرح سود کا اعلان کرے گا، جس کے بعد Bank of Japan کا اجلاس 29 اور 30 اکتوبر کو منعقد ہوگا۔ ان دونوں فیصلوں کے درمیان شرح سود کے فرق اور مستقبل کی پالیسی سے متعلق اشارے USDJPY کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

امریکی اور جاپانی شرح سود کا فرق

امریکی اور جاپانی بانڈز کی ییلڈز میں نمایاں فرق جاپانی ین پر دباؤ برقرار رکھنے والے عوامل میں شامل ہے۔ اگر امریکی اثاثوں سے حاصل ہونے والا منافع جاپانی اثاثوں کے مقابلے میں زیادہ رہے تو سرمایہ کاروں کے لیے ڈالر میں سرمایہ کاری کی کشش برقرار رہ سکتی ہے، جس سے USDJPY کو سہارا ملتا ہے۔

دوسری جانب، جاپان کا مرکزی بینک شرح سود میں اضافے کے معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، بینک آف جاپان کے بعض حکام اکتوبر میں مسلسل دوسری مرتبہ شرح سود بڑھانے کے حق میں نہیں دکھائی دیتے۔ اس امکان نے فی الحال ین کی مضبوطی کے امکانات کو محدود رکھا ہے۔

تاہم، مارکیٹ کی توجہ صرف موجودہ شرح سود پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ دونوں مرکزی بینک آنے والے مہینوں کے لیے کیا اشارے دیتے ہیں۔ اگر امریکی مرکزی بینک نسبتاً سخت پالیسی کا عندیہ دیتا ہے جبکہ جاپانی مرکزی بینک محتاط رہتا ہے تو ڈالر کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس، امریکی پالیسی میں نرمی اور جاپان میں شرح سود بڑھنے کے امکانات ین کو تقویت دے سکتے ہیں۔

BoJ کی پالیسی اور دسمبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات

بینک آف جاپان کے گورنر Kazuo Ueda نے رواں ہفتے کہا کہ جاپان میں بنیادی افراط زر مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف کے کافی قریب پہنچ چکا ہے۔ اس بیان سے یہ توقع مضبوط ہوئی ہے کہ اگر معاشی حالات سازگار رہے تو جاپانی مرکزی بینک دسمبر میں شرح سود بڑھانے پر غور کر سکتا ہے۔

یہ پیش رفت جاپانی ین کے لیے اہم ہے، کیونکہ شرح سود میں اضافہ عموماً ملکی کرنسی کی کشش بڑھا سکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب سرمایہ کار مستقبل میں مزید پالیسی سختی کی توقع کر رہے ہوں۔

اس کے باوجود، دسمبر میں ممکنہ اضافے کا اشارہ فوری فیصلے کی ضمانت نہیں۔ آئندہ اجلاس میں بینک آف جاپان کی جانب سے افراط زر، معاشی سرگرمیوں اور مستقبل کی پالیسی سے متعلق دیے جانے والے اشارے ہی مارکیٹ کے ردعمل کا تعین کریں گے۔

امریکی ڈالر کی کمزوری اور بانڈ ییلڈز کا کردار

امریکی ڈالر حالیہ سیشنز میں تین ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا، جس کی ایک اہم وجہ امریکی بانڈز کی ییلڈز میں کمی ہے۔ کم ہوتی ہوئی ییلڈز ڈالر کی کشش کو محدود کر سکتی ہیں، خصوصاً ان سرمایہ کاروں کے لیے جو شرح منافع کے فرق کی بنیاد پر کرنسیوں میں پوزیشن لیتے ہیں۔

تاہم، امریکی افراط زر کے بارے میں خدشات ڈالر کی گراوٹ کو محدود کر رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی اتار چڑھاؤ توانائی کی لاگت بڑھا سکتا ہے، جس سے افراط زر پر دباؤ برقرار رہنے اور امریکی شرح سود میں نرمی کی رفتار سست ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

اس طرح مارکیٹ کو دو متضاد عوامل کا سامنا ہے: ایک طرف کمزور بانڈ ییلڈز ڈالر پر دباؤ ڈال رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف افراط زر اور شرح سود سے متعلق خدشات اسے سہارا دے رہے ہیں۔ یہی تضاد USDJPY کو محدود رکھنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور محفوظ سرمایہ کاری کی طلب

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات بھی کرنسی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ جغرافیائی سیاسی خطرات میں اضافہ عام طور پر سرمایہ کاروں کو محفوظ سمجھے جانے والے اثاثوں کی جانب متوجہ کرتا ہے، جن میں امریکی ڈالر بھی شامل ہے۔

تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ توانائی کی لاگت اور افراط زر پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، جس سے امریکی مرکزی بینک کے آئندہ فیصلوں کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ اس ماحول میں ڈالر کو اضافی سہارا مل سکتا ہے اور USDJPY میں نمایاں کمی محدود رہ سکتی ہے۔

دوسری جانب، اگر جاپانی حکام ین کی غیر ضروری کمزوری کو روکنے کے لیے کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہیں تو ڈالر کے مقابلے میں ین تیزی سے مضبوط ہو سکتا ہے۔ اسی خطرے کے باعث سرمایہ کار جارحانہ انداز میں ڈالر کی خریداری سے گریز کر سکتے ہیں۔

USDJPY کا تیکنیکی جائزہ، سپورٹ اور مزاحمتی سطحیں

تکنیکی چارٹ کے مطابق، USDJPY کی قیمت 159.39 پر موجود 100 روزہ سمپل موونگ ایوریج اور 158.48 پر واقع 50 فیصد Fibonacci Retracement سے نیچے ہے۔ یہ دونوں سطحیں قریبی مزاحمت کے طور پر اہم ہیں اور ان سے نیچے قیمت کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ ڈالر کی بحالی کو مزید تصدیق درکار ہے۔

Fibonacci کی یہ سطحیں 152.91 سے 164.06 تک ہونے والی سابقہ قیمت کی حرکت کی بنیاد پر متعین کی گئی ہیں۔ اس دائرے میں قیمت کی موجودہ پوزیشن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مارکیٹ ابھی واضح تیزی یا مندی کی سمت اختیار نہیں کر سکی۔

اگر خریدار 158.48 کی سطح عبور کرنے کے بعد 159.39 سے اوپر بھی قیمت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اگلا ہدف 159.80 پر موجود 61.8 فیصد Fibonacci Retracement ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد 161.67 اور سابقہ بلند ترین سطح 164.06 اگلی ممکنہ مزاحمتی رکاوٹیں ہوں گی۔

اس کے برعکس، اگر قیمت پر دباؤ بڑھتا ہے تو 157.17 پر موجود 38.2 فیصد Fibonacci سطح پہلی اہم سپورٹ ہوگی۔ اس کے نیچے 155.54 کا لیول اہمیت اختیار کرے گا، جبکہ 152.91 کی سطح طویل تر تکنیکی ساخت کے لیے بنیادی سہارا سمجھی جا سکتی ہے۔ اگر قیمت 152.91 سے بھی نیچے چلی جاتی ہے تو مزید گہری اصلاح کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

مستقبل کا منظرنامہ

آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی توجہ تین بنیادی پہلوؤں پر رہے گی۔ پہلا، امریکی مرکزی بینک کا شرح سود سے متعلق فیصلہ اور مستقبل کی پالیسی کے اشارے؛ دوسرا، بینک آف جاپان کا محتاط رویہ اور دسمبر میں ممکنہ شرح سود اضافے کے امکانات؛ اور تیسرا، امریکی بانڈ ییلڈز، تیل کی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی خطرات میں تبدیلی۔

اگر امریکی ڈالر کو بانڈ ییلڈز اور سخت مانیٹری پالیسی کی توقعات سے سہارا ملتا ہے تو USDJPY دوبارہ 158.48 اور 159.39 کی مزاحمتوں کو آزما سکتا ہے۔ لیکن اگر امریکی ییلڈز مزید کم ہوتی ہیں یا جاپانی حکام کی مداخلت کا خطرہ بڑھتا ہے تو 157.17 کی سپورٹ دباؤ میں آ سکتی ہے۔

مجموعی طور پر، USDJPY فی الحال مرکزی بینکوں کے فیصلوں اور اہم تکنیکی سطحوں کے درمیان معلق ہے۔ کسی واضح بریک آؤٹ کے بغیر موجودہ دائرے سے باہر پائیدار حرکت کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا، اس لیے اگلے ہفتے کی پالیسی پیش رفت کرنسی جوڑے کی اگلی بڑی سمت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا فیڈ کا اجلاس USDJPY کو 160.00 سے اوپر لے جائے گا یا BoJ کا سرپرائز جاپانی ین کو مضبوط کرے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

انتباہ

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

سورس (Source)

Reuters News Agency: https://www.reuters.com/markets/asia/

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں