Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
عالمی اسٹاک مارکیٹ

کالشی کے اسٹاک پرپیچوئل فیوچرز کا منصوبہ: ٹیسلا اور انویڈیا پرپس پر ریگولیٹری جنگ تیز

Kalshi کا ارادہ ہے کہ وہ کریپٹو کرنسی (Cryptocurrency) کی دنیا کی ایک مقبول ترین پروڈکٹ — یعنی پرپیچوئل فیوچرز (Perpetual Futures) کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں لے کر آئے۔

Robina Adeel
Robina Adeel

65 مشاہدات

کالشی کے  کرپٹو  فیوچر ریگولیٹری اسٹامپس کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔
کالشی کا کلینڈر، ہینڈ شیک، اور این ویڈیا چپ کے آئیکنز کے ساتھ نارنجی پس منظر، اور سفید پس منظر میں بیل، بیئر، اور ہتھوڑے کے ساتھ مالیاتی تصادم کی علامات۔

فنانشل مارکیٹس میں روز بروز نئی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ٹریڈنگ کے نئے طریقے متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں، پریڈکشن مارکیٹ آپریٹر "کالشی" (Kalshi) نے ایک ایسا قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے جو وال اسٹریٹ (Wall Street) میں ہلچل مچا رہا ہے۔

Kalshi کا ارادہ ہے کہ وہ کریپٹو کرنسی (Cryptocurrency) کی دنیا کی ایک مقبول ترین پروڈکٹ — یعنی پرپیچوئل فیوچرز (Perpetual Futures) کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں لے کر آئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹریڈرز ٹیسلا (Tesla)، ایپل (Apple) اور انویڈیا (Nvidia) جیسے بڑے اسٹاکس پر 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن لیوریجڈ ٹریڈنگ (leveraged trading) کر سکیں گے۔

یہ پیشرفت Kalshi stock perpetual futures کے نفاذ کی طرف ایک بڑا قدم ہے، جو روایتی فنانشل مارکیٹس کے کام کرنے کے انداز کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتی ہے۔

اہم ترین نکات۔

  • کالشی (Kalshi) تقریباً 60 امریکی اسٹاکس اور ای ٹی ایف (ETFs) کے لیے پرپیچوئل فیوچرز (perpetual futures) متعارف کرانے کے لیے ریگولیٹری منظوری حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

  • یہ پروڈکٹس ٹریڈرز کو ٹیسلا (Tesla) اور انویڈیا (Nvidia) جیسے شیئرز پر ہفتے کے ساتوں دن اور چوبیس گھنٹے بغیر کسی ایکسپائری کے ٹریڈنگ کرنے کی اجازت دیں گے۔

  • یہ تصور کریپٹو مارکیٹ سے لیا گیا ہے، جہاں پرپس سب سے بڑے ٹریڈنگ سسٹمز میں شامل ہیں۔

  • وال اسٹریٹ میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا ان پروڈکٹس کی نگرانی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) کو کرنی چاہیے یا کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) کو۔

پرپیچوئل فیوچرز کیا ہیں اور یہ کیسے کام کرتے ہیں؟

پرپیچوئل فیوچرز (perpetual futures) ایک ایسے مالیاتی معاہدے ہوتے ہیں جو روایتی فیوچرز کنٹریکٹس کی طرح ایک مخصوص تاریخ پر ختم (expire) نہیں ہوتے۔ یہ ٹریڈرز کو کسی بھی اثاثے کی قیمت کے اوپر یا نیچے جانے پر شرط لگانے کی سہولت دیتے ہیں، وہ بھی ادھار یا ادلے بدلے کے سرمائے یعنی لیوریج (Leverage) کے ساتھ۔

چونکہ ان کا کوئی ایکسپائری وقت نہیں ہوتا، اس لیے ٹریڈرز باقاعدگی سے فنڈنگ ریٹس (Funding Rates) کی ادائیگی کرتے ہیں تاکہ کنٹریکٹ کی قیمت اصل اثاثے کی مارکیٹ ویلیو کے قریب رہے۔

یہ ٹریڈنگ ماڈل سب سے پہلے 2016 میں بٹ میکس (BitMEX) نامی کرپٹو ایکسچینج نے متعارف کروایا تھا، اور آج یہ ہائپر لیکویڈ (Hyperliquid) جیسے پلیٹ فارمز پر اربوں ڈالر کا بزنس بن چکا ہے۔ اب Kalshi اسی تصور کو ٹیسلا اور انویڈیا جیسی بڑی کمپنیوں کے شیئرز پر لاگو کرنا چاہتا ہے۔

ریگولیٹری جنگ: ایس ای سی بمقابلہ سی ایف ٹی سی

جیسے جیسے نئی مالیاتی پروڈکٹس مارکیٹ میں آتی ہیں، ریگولیٹرز کے درمیان اختیارات کی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ کالشی نے مئی میں ہی بٹ کوائن پرپیچوئل کنٹریکٹ کے لیے سی ایف ٹی سی (CFTC) کی منظوری حاصل کر لی تھی، جس میں اسے فیوچرز کنٹریکٹ کے طور پر درجہ دیا گیا تھا۔ تاہم، ریگولیٹر نے یہ تنبیہ بھی کی تھی کہ یہ ڈھانچہ ہر اثاثے کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا۔

دوسری طرف، وال اسٹریٹ کی بڑی ٹریڈنگ فرم سٹاڈیل سیکیورٹیز (Citadel Securities) نے ایس ای سی (SEC) اور سی ایف ٹی سی کو خط لکھ کر مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی پبلک کمپنیوں سے جڑی پروڈکٹس کو ایس ای سی کی سخت نگرانی میں ہی رہنا چاہیے۔ یہ تنازعہ ظاہر کرتا ہے کہ روایتی فنانس اور نئی ڈیجیٹل مارکیٹس کے درمیان دائرہ اختیار کی جنگ کتنی شدید ہو چکی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

جب ہم فنانشل مارکیٹس کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جدت ہمیشہ پرانے نظاموں کے لیے چیلنج بنتی ہے۔ Kalshi stock perpetual futures کا یہ اقدام مالیاتی تاریخ میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ پروڈکٹس منظور ہو جاتی ہیں، تو یہ خوردہ (retail) اور اداریاتی (institutional) سرمایہ کاروں کے لیے ٹریڈنگ کے مواقع کو بالکل بدل دیں گے۔

تاہم، اس میں خطرات بھی اتنے ہی بڑے ہیں۔ غیر محدود لیوریج اور چوبیس گھنٹے مارکیٹ کی دستیابی بعض اوقات غیر مستحکم (Volatile) رویوں کو ہوا دیتی ہے، جس سے چھوٹے سرمایہ کاروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سیزنڈ ٹریڈرز اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ نئی مارکیٹس ہمیشہ شروع میں زیادہ اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتی ہیں۔

اختتامیہ۔

Kalshi کی جانب سے 24/7 اسٹاک پرپیچوئل فیوچرز متعارف کرانے کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ فنانشل مارکیٹس تیزی سے ڈیجیٹل اور لچکدار ہو رہی ہیں۔ چاہے ریگولیٹری جنگ کا نتیجہ کچھ بھی نکلے، یہ بات طے ہے کہ وال اسٹریٹ کو اب ٹیکنالوجی کی اس نئی لہر کے ساتھ موافقت پیدا کرنا ہوگی۔

آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ 24 گھنٹے اسٹاک ٹریڈنگ عام سرمایہ کار کے لیے فائدہ مند ہوگی یا یہ مارکیٹ میں رسک کو مزید بڑھا دے گی؟ اپنے خیالات کا اظہار نیچے کمنٹس سیکشن میں کریں۔

اہم وضاحت

Urdu Markets پر شائع ہونے والی تمام معلومات، تجزیے اور Market Data صرف معلوماتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں۔ انہیں Financial، Investment یا Trading Advice نہ سمجھا جائے۔ کسی بھی مالیاتی فیصلے سے قبل اپنی تحقیق کریں اور ضرورت ہو تو مستند مالیاتی مشیر سے مشورہ کریں۔

⚠ ڈسکلیمر

یہ مضمون صرف تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔ یہ کوئی سرمایہ کاری، مالیاتی، یا تجارتی مشورہ نہیں ہے۔ فاریکس (Forex)، اسٹاک، کموڈٹیز اور کرپٹو کرنسی کی تجارت میں نمایاں مالی خطرہ موجود ہے اور یہ ہر سرمایہ کار کے لیے موزوں نہیں۔ ماضی کی کارکردگی مستقبل کے نتائج کی ضمانت نہیں ہے۔ کوئی بھی سرمایہ کاری یا ٹریڈنگ فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی مالی حیثیت کا جائزہ لیں اور کسی مستند مالیاتی مشیر سے رجوع کریں۔ اردو مارکیٹس اس مضمون میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر ہونے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏

متعلقہ موضوعات

Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں