Novartis کے منفی نتائج کا اثر دیگر بایوٹیک کمپنیوں تک پھیل گیا، Dyne کے حصص تقریباً 18 فیصد گر گئے
★اہم نکات
- •Novartis کے del-desiran مطالعے کے منفی نتائج کے بعد امریکی تجارت میں Dyne تقریباً 18 فیصد، Sarepta 9 فیصد سے زیادہ اور PepGen 5 فیصد سے زیادہ گر گئے۔
- •Dyne کے ACHIEVE پروگرام میں بھی ہاتھ کھولنے کا وقت، یعنی vHOT، بنیادی پیمانہ ہے؛ اسی مماثلت نے اس کے آئندہ نتائج کے بارے میں تشویش بڑھائی ہے۔
- •ACHIEVE کے رجسٹریشن توسیعی گروپ میں 71 شرکا شامل ہیں اور اہم نتائج 2027 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہیں؛ اس ماہ پیش ہونے والے اعداد الگ گروپ سے متعلق ہیں۔
- •Sarepta اور PepGen کے علاج مختلف طریقوں اور مراحل میں زیرِ تحقیق ہیں؛ Novartis کا نتیجہ ان کی افادیت یا حفاظت پر براہِ راست فیصلہ نہیں دیتا۔
- •تازہ فروخت DM1 علاج کے شعبے میں خطرے کے نئے جائزے کی عکاسی کرتی ہے۔
- •vHOT ناقابلِ استعمال ثابت نہیں ہوا، جبکہ مثبت ابتدائی اعداد یا خوراک بڑھانے کی سفارش بھی منظوری کی ضمانت نہیں۔
نووارٹس (Novartis) کی تجرباتی دوا del-desiran کے مایوس کن نتائج کا اثر اب کمپنی کے اپنے حصص تک محدود نہیں رہا۔ منگل، 8 ستمبر کی امریکی تجارت میں ڈائن تھیراپیوٹکس (Dyne Therapeutics) کے حصص تقریباً 18 فیصد، ساریپٹا تھیراپیوٹکس (Sarepta Therapeutics) کے 9 فیصد سے زیادہ اور پیپ جین (PepGen) کے 5 فیصد سے زیادہ گر گئے۔ تینوں کمپنیاں مایوٹونک ڈسٹروفی ٹائپ ون (Myotonic Dystrophy Type 1, DM1) کے لیے علاج تیار کررہی ہیں۔ امریکی بایوٹیک حصص کی رپورٹ
اس فروخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اب صرف ایک دوا کے مستقبل کا جائزہ نہیں لے رہے، بلکہ اس بیماری کے علاج میں کامیابی کے امکانات، طبی نتائج ناپنے کے پیمانوں اور منظوری کے راستے سے وابستہ خطرات کو بھی دوبارہ جانچ رہے ہیں۔
سب سے زیادہ دباؤ Dyne پر آیا، جس کے z-basivarsen پروگرام میں بھی ہاتھ کھولنے کے وقت کا پیمانہ (Video Hand Opening Time, vHOT) اہم حیثیت رکھتا ہے۔ Novartis کا HARBOR مطالعہ اسی نوعیت کے بنیادی پیمانے پر مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں کرسکا۔ تاہم اس مماثلت سے دوسری کمپنیوں کی دواؤں کی طبی ناکامی ثابت نہیں ہوتی؛ ان کی ساخت، دوا پہنچانے کے طریقے اور مطالعوں کے ڈیزائن مختلف ہیں۔
حصص اور طبی پیش رفت کا تقابلی جائزہ
کمپنی یا پروگرام | تازہ صورتِ حال | تقابلی بنیاد | اہمیت |
|---|---|---|---|
Dyne Therapeutics، DYN | تقریباً 18 فیصد کمی | گزشتہ بندش کے مقابلے میں، امریکی دورانِ تجارت | vHOT سے متعلق تشویش نمایاں |
Sarepta Therapeutics، SRPT | 9 فیصد سے زیادہ کمی | گزشتہ بندش کے مقابلے میں، امریکی دورانِ تجارت | DM1 پروگرام کے مستقبل پر احتیاط |
PepGen، PEPG | 5 فیصد سے زیادہ کمی | گزشتہ بندش کے مقابلے میں، امریکی دورانِ تجارت | مختلف طریقۂ علاج کے باوجود فروخت |
Novartis، NOVN | 10.9 فیصد کمی | سوئس مارکیٹ کی اختتامی تبدیلی | HARBOR کے منفی نتائج کا براہِ راست اثر |
Dyne، ACHIEVE | رجسٹریشن توسیعی گروپ میں 71 شرکا | اہم نتائج 2027 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع | آئندہ منظوری کی درخواست کے لیے اہم مرحلہ |
PepGen، FREEDOM2-DM1 | زیادہ خوراک والے گروپ کی طرف پیش رفت کی سفارش | اگست میں حفاظتی اعداد کا جائزہ | مطالعہ آگے بڑھانے کی سفارش، منظوری نہیں |
امریکی حصص کی تبدیلیاں 8 ستمبر کی دورانِ تجارت رپورٹ سے متعلق ہیں؛ انہیں حتمی اختتامی تبدیلیاں نہ سمجھا جائے۔ Novartis کی ریڈنگ سوئس بازار کی بندش کی ہے۔
Dyne کے حصص سب سے زیادہ کیوں گرے؟
Dyne کے لیے تشویش کا مرکزی سبب اس کے z-basivarsen، جسے DYNE-101 بھی کہا جاتا ہے، کے مطالعے میں vHOT کا کردار ہے۔ یہ پیمانہ مٹھی بند کرنے کے بعد ہاتھ کھولنے میں لگنے والا وقت ناپتا ہے اور پٹھوں کے سکڑنے کے بعد دیر سے ڈھیلا ہونے، یعنی مایوٹونیا (Myotonia)، کا جائزہ لیتا ہے۔
Novartis کے HARBOR مطالعے میں del-desiran اسی نوعیت کے بنیادی ہدف (Primary Endpoint) پر غیر فعال تقابلی علاج (Placebo) کے مقابلے میں شماریاتی طور پر نمایاں بہتری ثابت نہیں کرسکا۔
Dyne کے ACHIEVE مطالعے کے رجسٹریشن توسیعی گروپ (Registrational Expansion Cohort, REC) میں بھی vHOT بنیادی پیمانہ ہے۔ اس مماثلت سے سرمایہ کاروں کے سامنے سوال پیدا ہوا کہ HARBOR کا مسئلہ دوا کی اپنی کارکردگی تک محدود تھا یا مریضوں، دورانیے اور پیمائش سے متعلق ایسے عوامل بھی اہم تھے جو دوسرے پروگراموں کو متاثر کرسکتے ہیں۔
یہ تشویش Dyne کے حصص کی شدید گراوٹ سے مطابقت رکھتی ہے، لیکن اس سے z-basivarsen کے نتائج معلوم نہیں ہوجاتے۔ اس دوا کی کارکردگی کا فیصلہ اس کے اپنے مطالعے کے اعداد سے ہوگا۔
ACHIEVE کے نتائج کب آئیں گے؟
Dyne کے تازہ اعلان کے مطابق ACHIEVE کے رجسٹریشن توسیعی گروپ میں 71 شرکا شامل ہیں اور اس کے ابتدائی اہم نتائج (Topline Results) 2027 کی پہلی سہ ماہی میں پیش کرنے کا منصوبہ برقرار ہے۔
اس گروپ کا بنیادی ہدف چھ ماہ بعد درمیانی انگلی کی مایوٹونیا میں ابتدائی حالت کے مقابلے میں تبدیلی کو vHOT کے ذریعے ناپنا اور placebo گروپ سے موازنہ کرنا ہے۔ کمپنی ان اعداد کو ممکنہ ضابطہ جاتی درخواستوں، بشمول امریکہ میں تیز رفتار منظوری (Accelerated Approval)، کی حمایت کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ Dyne کا 8 ستمبر کا اعلان
اہم فرق یہ ہے کہ کمپنی کا منظوری کا منصوبہ، منظوری کی ضمانت نہیں۔ قابلِ قبول نتائج کے ساتھ امریکی ادارہ خوراک و ادویات (Food and Drug Administration, FDA) کا جائزہ بھی فیصلہ کن ہوگا۔
Dyne اس ماہ طبی اجلاسوں میں ACHIEVE کے ایک الگ حصے سے ایک سالہ اعداد بھی پیش کرے گی۔ انہیں 71 شرکا والے رجسٹریشن گروپ کے نتائج سے الگ دیکھنا ضروری ہے۔ کمپنی کے مطابق رجسٹریشن گروپ میں علاج کی تخصیص ابھی پوشیدہ ہے، جبکہ اس ماہ کی پیش کش میں پہلے شامل شرکا کے اعداد اور بیماری کے قدرتی ارتقا کے ایک تقابلی گروپ کا جائزہ شامل ہوگا۔
یوں قریب آنے والی پیش کش پروگرام کے بارے میں مزید معلومات دے سکتی ہے، مگر 2027 کی پہلی سہ ماہی کے اہم نتائج کا متبادل نہیں ہوگی۔
HARMONIA سے کیا اضافی معلومات مل سکتی ہیں؟
Dyne کا ترقیاتی پروگرام صرف ACHIEVE تک محدود نہیں۔ کمپنی z-basivarsen کا تیسرے مرحلے کا تصدیقی مطالعہ (Confirmatory Phase III Trial)، HARMONIA، بھی کررہی ہے۔ HARMONIA کا بنیادی ہدف week 49 پر five-times-sit-to-stand test میں تبدیلی ہے، جبکہ vHOT اس کے ثانوی پیمانوں میں شامل ہے۔ Dyne کے طبی مطالعات
اس مطالعے کا مقصد دوا کی افادیت اور حفاظت کا زیادہ وسیع جائزہ لینا ہے۔ ہاتھ کی مایوٹونیا میں تبدیلی اور روزمرہ جسمانی کام انجام دینے کی صلاحیت الگ پہلو ہیں؛ ایک میں بہتری لازماً دوسرے میں یکساں فائدہ ثابت نہیں کرتی۔ اسی وجہ سے HARMONIA کے فعلی نتائج (Functional Outcomes) اہم ہوں گے۔ وہ یہ جانچنے میں مدد دیں گے کہ دوا کا ممکنہ اثر ہاتھ کھولنے کے پیمانے سے آگے مریض کی عملی کارکردگی میں بھی ظاہر ہوتا ہے یا نہیں۔
Novartis کا نتیجہ Dyne کے پورے پروگرام کو ایک ہی تجربے کا اعادہ نہیں بناتا، لیکن اس نے ہر مطالعے کے ڈیزائن اور اپنے بنیادی ہدف پر کامیابی کی اہمیت ضرور بڑھا دی ہے۔
Sarepta کے حصص بھی دباؤ میں کیوں آئے؟
Sarepta کا SRP-1003 بھی DM1 کے لیے زیرِ تحقیق علاج ہے، لیکن ابھی ابتدائی طبی ترقی کے مرحلے میں ہے۔ کمپنی نے 25 مارچ کو پہلے اور دوسرے مرحلے کے مطالعے (Phase I/II) سے ابتدائی نتائج پیش کیے تھے۔
کمپنی کے مطابق ان اعداد میں پٹھوں تک دوا کی رسائی، ابتدائی حیاتیاتی اثرات (Biomarker Effects) اور برداشت (Tolerability) کے حوصلہ افزا اشارے ملے۔ SRP-1003 کو DMPK کے پیغام رساں آر این اے (Messenger RNA, mRNA) کی مقدار کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ Sarepta کا اصل طبی اعلان
یہ کمپنی کے ابتدائی نتائج ہیں۔ پٹھوں تک دوا پہنچنا اور مطلوبہ حیاتیاتی ہدف پر اثر دکھانا اہم مراحل ضرور ہیں، لیکن مریض کی عملی حالت میں پائیدار بہتری اور طویل مدتی حفاظت الگ جانچ چاہتے ہیں۔
منگل کی مارکیٹ رپورٹ میں Sarepta کی گراوٹ کو Novartis کے نتائج کے بعد متعلقہ کمپنیوں میں فروخت سے جوڑا گیا۔ اسے SRP-1003 کے کسی نئے منفی طبی نتیجے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔
اسی طرح حصص کی پوری حرکت کو صرف ایک خبر سے منسوب کرنے میں بھی احتیاط ضروری ہے، کیونکہ کمپنی کے دیگر پروگرام اور عمومی مارکیٹ حالات قیمت پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
PepGen کی نسبتاً کم گراوٹ کیا بتاتی ہے؟
PepGen کے حصص میں 5 فیصد سے زیادہ کمی Dyne اور Sarepta کے مقابلے میں محدود تھی، لیکن اس سے کمپنی کے طبی خطرے کی حتمی درجہ بندی نہیں کی جاسکتی۔ حصص کی مختلف گراوٹ میں سرمایہ کاروں کی پہلے سے قائم توقعات، کمپنی کی قدر اور خرید و فروخت کی صورتِ حال بھی کردار ادا کرسکتی ہے۔
کمپنی کا PGN-EDODM1 پروگرام DM1 کو ایک مختلف حیاتیاتی طریقے سے ہدف بناتا ہے۔ اگست میں آزاد ڈیٹا اور حفاظتی نگرانی بورڈ (Data and Safety Monitoring Board, DSMB) نے دستیاب حفاظتی اعداد دیکھ کر دوسرے مرحلے کے FREEDOM2-DM1 مطالعے کو زیادہ خوراک والے گروپ تک بڑھانے کی سفارش کی تھی۔ PepGen کی اگست کی پیش رفت
یہ سفارش مطالعہ آگے بڑھانے سے متعلق تھی۔ اسے دوا کی افادیت کی تصدیق یا بازار میں فروخت کی اجازت نہیں سمجھنا چاہیے۔
کمپنی نے 10 ملی گرام فی کلوگرام والے گروپ کے اعداد نومبر میں اور زیادہ خوراک والے گروپ کے نتائج 2027 کی پہلی ششماہی میں متوقع بتائے تھے۔ یہ اوقات کمپنی کے منصوبے ہیں اور تبدیل ہوسکتے ہیں۔
Novartis کے منفی نتائج کے باوجود PepGen کی زیرِ بحث پیش رفت ایک الگ پروگرام کی ہے۔ اس کے حصص کی گراوٹ اسی لیے طبی ناکامی کے اعلان سے زیادہ مستقبل کے امکانات کے محتاط جائزے کی عکاسی کرتی ہے۔
کیا HARBOR کا نتیجہ vHOT کو غیر مؤثر ثابت کرتا ہے؟
کسی ایک مطالعے کا بنیادی ہدف حاصل نہ ہونا، استعمال ہونے والے پیمانے کو خودکار طور پر ناقابلِ اعتماد نہیں بناتا۔
نتیجے میں دوا کے حقیقی اثر، منتخب خوراک، علاج کے دورانیے، مریضوں کی ابتدائی حالت، placebo گروپ کی تبدیلی اور پیمائش میں اتار چڑھاؤ جیسے عوامل شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ ممکنہ توضیحات ہیں؛ HARBOR کی ناکامی کے ثابت شدہ اسباب نہیں۔
Novartis نے بعض ثانوی پیمانوں (Secondary Endpoints) اور اضافی تجزیوں میں طبی سرگرمی کے اشارے بیان کیے ہیں اور مکمل اعداد کا جائزہ جاری رکھنے کی بات کی ہے۔ Novartis کا HARBOR اعلان
تاہم ثانوی اشارے بنیادی ہدف کی عدم تکمیل کو ختم نہیں کرتے۔ ان کی اہمیت سمجھنے کے لیے اثر کی مقدار، نتائج کی مستقل مزاجی اور مکمل شماریاتی تجزیہ درکار ہوگا۔
Dyne کے لیے vHOT سے متعلق سوال زیادہ نمایاں اس لیے ہے کہ ACHIEVE کے رجسٹریشن گروپ میں یہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس پیمانے کے ذریعے فائدہ دکھانا یا منظوری حاصل کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔
کیا تمام کمپنیوں کا طریقۂ علاج ایک جیسا ہے؟
یہ تمام پروگرام ایک ہی بیماری کو ہدف بناتے ہیں، مگر ان کی ادویات اور ترسیل کے طریقے یکساں نہیں۔
Dyne کا z-basivarsen اینٹی سینس اولیگونوکلیوٹائڈ (Antisense Oligonucleotide, ASO) پر مبنی علاج ہے، جسے مخصوص اینٹی باڈی حصے کے ساتھ جوڑ کر متعلقہ بافتوں تک پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ Sarepta کا SRP-1003 چھوٹے مداخلتی آر این اے (Small Interfering RNA, siRNA) کا طریقہ استعمال کرتا ہے۔
PepGen کا PGN-EDODM1 بیماری سے متعلق آر این اے میں مخصوص تکراری حصوں سے جڑ کر ایک اہم پروٹین کی معمول کی کارکردگی بحال کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کا طریقہ DMPK آر این اے کی مقدار گھٹانے والے پروگراموں سے مختلف ہے۔ PepGen کی پروگرام تفصیل
ان فرقوں کی وجہ سے ایک دوا کا نتیجہ باقی پروگراموں پر براہِ راست منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ بیماری کی پیچیدگی، طبی فائدہ ناپنے کی دشواری اور منظوری کے لیے درکار شواہد کچھ مشترک سوال ضرور پیدا کرتے ہیں۔
یہی مشترک سوالات مختلف دواؤں کے باوجود حصص میں بیک وقت فروخت کی ایک معقول توضیح ہیں۔
ایک دوا کی ناکامی دوسری کمپنیوں کی قدر کیوں گھٹاتی ہے؟
بایوٹیک کمپنیوں کی قدر بندی (Valuation) میں اکثر ایسی دواؤں کی ممکنہ مستقبل کی آمدنی شامل ہوتی ہے جو ابھی منظور نہیں ہوئیں۔ سرمایہ کار اس آمدنی کا اندازہ لگاتے وقت کامیابی کے امکان، منظوری کے وقت، مزید تحقیق کی لاگت اور ممکنہ مسابقت کو وزن دیتے ہیں۔
اگر کسی اہم پروگرام کا منفی نتیجہ متعلقہ شعبے میں کامیابی کے بارے میں اعتماد کم کردے تو دوسری کمپنیوں کی متوقع آمدنی کی موجودہ قدر بھی گھٹ سکتی ہے، چاہے ان کا اپنا کوئی نیا نتیجہ سامنے نہ آیا ہو۔
اسی عمل کو خطرے کی نئی قیمت بندی (Risk Repricing) کہا جاسکتا ہے۔ منگل کی فروخت اس تشریح سے مطابقت رکھتی ہے، لیکن حصص میں 18 فیصد کمی کو دوا کی کامیابی کے امکان میں عین 18 فیصد کمی نہیں سمجھنا چاہیے۔
مارکیٹ قیمت اور طبی نتیجہ الگ معلومات فراہم کرتے ہیں۔ پہلی سرمایہ کاروں کی توقعات بتاتی ہے، جبکہ دوسرے کے لیے باقاعدہ مطالعے کے شواہد درکار ہوتے ہیں۔
یہ Novartis کی پہلی خبر سے مختلف پیش رفت کیوں ہے؟
ابتدائی خبر Novartis کے HARBOR مطالعے، اس کی زیرِ تحقیق ادویات کی فہرست (Drug Pipeline) اور مستقبل کی آمدنی سے متعلق تھی۔ کمپنی نے del-desiran کو Avidity کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے حصول کے ذریعے حاصل کیا تھا؛ یہ پورے حصول کی مالیت تھی، صرف اس ایک دوا کی الگ قیمت نہیں۔
سوئس بازار میں Novartis کے حصص 10.9 فیصد کمی پر بند ہوئے۔ امریکی تجارت میں متعلقہ کمپنیوں کی فروخت نے اس کے بعد مالیاتی اثر کا دوسرا مرحلہ نمایاں کیا۔ Novartis کے نتائج اور حصول کا پس منظر
اب توجہ صرف Novartis کے نقصان پر نہیں، بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ دوسرے DM1 پروگرام اپنی افادیت کس پیمانے پر ثابت کریں گے اور ان کے لیے منظوری تک پہنچنے کا راستہ کتنا واضح رہے گا۔
یہ نئی مارکیٹ پیش رفت ہے، پہلی خبر کی محض تکرار نہیں۔
آئندہ کون سے نتائج فیصلہ کن ہوں گے؟
قریب ترین توجہ Dyne کی اس ماہ کی طبی پیش کشوں پر ہوگی، لیکن سرمایہ کاروں کو انہیں ACHIEVE کے رجسٹریشن گروپ کے نتائج سے الگ رکھنا ہوگا۔ 2027 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع اعداد یہ جانچنے کے لیے زیادہ براہِ راست اہم ہوں گے کہ z-basivarsen اپنے مقررہ بنیادی ہدف پر placebo کے مقابلے میں فائدہ دکھاتا ہے یا نہیں۔
HARMONIA کی پیش رفت دوا کے وسیع فعلی فائدے اور حفاظت کے بارے میں اضافی شواہد فراہم کرسکتی ہے۔ Sarepta کے SRP-1003 سے آنے والے نئے نتائج میں بھی حیاتیاتی اثر کے ساتھ مریض کی عملی بہتری اور مسلسل خوراک کی حفاظت اہم ہوگی۔
PepGen کے لیے آئندہ خوراک والے گروپوں کے اعداد یہ واضح کریں گے کہ مطالعہ آگے بڑھانے کی سفارش کے بعد افادیت اور حفاظت کی تصویر کس طرح بنتی ہے۔
اگر متعلقہ پروگرام مضبوط نتائج پیش کرتے ہیں تو Novartis کے تجربے سے پیدا ہونے والے کچھ خدشات کم ہوسکتے ہیں۔ مزید منفی نتائج کی صورت میں شعبے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن ہر نتیجے کو اس کی دوا اور مطالعے کے اپنے تناظر میں جانچنا ہوگا۔
منگل کی فروخت نے DM1 کے لیے علاج تیار کرنے والی کمپنیوں کے بارے میں سرمایہ کاروں کی احتیاط بڑھا دی ہے۔ اگلا فیصلہ کن مرحلہ حصص کی روزانہ حرکت نہیں، بلکہ وہ طبی شواہد ہوں گے جو ہر پروگرام اپنے دعوے کی حمایت میں پیش کرے گا۔
📰 مزید پڑھیں: Novartis اور Ionis کی pelacarsen قلبی آزمائش ناکام، Ionis کے حصص 12 فیصد گر گئے
⚠ ڈسکلیمر
یہ مضمون صرف تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔ یہ کوئی سرمایہ کاری، مالیاتی، یا تجارتی مشورہ نہیں ہے۔ فاریکس (Forex)، اسٹاک، کموڈٹیز اور کرپٹو کرنسی کی تجارت میں نمایاں مالی خطرہ موجود ہے اور یہ ہر سرمایہ کار کے لیے موزوں نہیں۔ ماضی کی کارکردگی مستقبل کے نتائج کی ضمانت نہیں ہے۔ کوئی بھی سرمایہ کاری یا ٹریڈنگ فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی مالی حیثیت کا جائزہ لیں اور کسی مستند مالیاتی مشیر سے رجوع کریں۔ اردو مارکیٹس اس مضمون میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر ہونے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامین
یورپی مرکزی بینک کی منظوری سے UniCredit کے سرمائے میں اضافہ
Huawei کا نیا سمارٹ فون متعارف، عالمی اسٹاکس اور انڈسٹری پر اس کے اثرات
Novartis اور Ionis کی pelacarsen قلبی آزمائش ناکام، Ionis کے حصص 12 فیصد گر گئے
تبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔