Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
Muhammad Azhar Saleem

محمد اظہر سلیم

Founder and Editor in Chief

محمد اظہر سلیم UrduMarkets کے بانی، مالیاتی منڈیوں کے تجربہ کار تجزیہ کار اور مارکیٹ سائیکالوجی ریسرچر ہیں۔ ان کا کیریئر تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہے، جس کا آغاز انہوں نے امریکی ایکسچینجز سے منسلک بروکرز کے ریجنل نمائندے کے طور پر کیا۔ ان کی بنیادی مہارت technical analysis، fundamental analysis، intermarket relationships، forex، commodities، global markets اور investor behavior میں ہے۔

Financial MarketsTechnical AnalysisFundamental AnalysisForex MarketsCommoditiesGold AnalysisPakistan EconomyPakistan Stock ExchangeMarket PsychologyFinancial Education

47

شائع شدہ مضامین

2,755

کل ویوز

30

سال تجربہ

—

مصنف ریٹنگ

محمد اظہر سلیم کے شائع کردہ مضامین (47)

Urdu Markets image showing FAO Food Price Index at a nearly four-year high as wheat, corn, sugar and vegetable oil prices rise amid shipping disruptions.
FAO Food Price Index: عالمی خوراک کی قیمتیں تقریباً 4 سال کی بلند سطح پر

ستمبر میں FAO Food Price Index ماہانہ 1.5% بڑھا؛ اگست کی نظرثانی شدہ ریڈنگ 134.0 تھی۔ اناج اور چینی میں نمایاں تیزی آئی، جبکہ نباتاتی تیل بھی مہنگے ہوئے۔ بحیرہ اسود کی شپنگ، فصلوں کے امکانات اور موسم سے متعلق خدشات اہم عوامل رہے۔ عالمی اناج کی پیداوار تاریخی اعتبار سے بلند رہنے کی توقع ہے، مگر برآمدی دستیابی پر دباؤ موجود ہے۔ عالمی قیمتوں کا مقامی خوراک کی مہنگائی میں منتقل ہونا کرنسی، درآمدی لاگت اور مقامی سپلائی پر منحصر ہوگا۔

Urdu Markets image showing Eurozone inflation at 3.8%, ECB rate pressure, European bond market stress and EUR/USD near 1.126.
یورو زون مہنگائی (Eurozone Inflation) 3.8 فیصد، EUR/USD کی ریکوری محدود

یورو زون کی سالانہ مہنگائی اگست کے 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.8 فیصد ہوگئی؛ مارکیٹ توقع 3.6 فیصد تھی۔ بنیادی مہنگائی (Core Inflation) 2.4 فیصد سے بڑھ کر 2.5 فیصد ہوئی۔ ECB کی ڈپازٹ شرح 2.50 فیصد ہے؛ تازہ اعداد مزید اضافے کی دلیل دیتے ہیں، لیکن اگلے فیصلے کا وقت طے نہیں کرتے۔ فرانس اور جرمنی کے 10 سالہ بانڈ ییلڈز کا فرق تقریباً 150 بیسس پوائنٹس تک پہنچنے سے یورو زون کے مالیاتی خطرات نمایاں ہوئے۔ امریکی روزگار کی رپورٹ، بانڈ ییلڈز اور شرح سود کی توقعات EUR/USD کی اگلی حرکت کے لیے اہم ہیں۔

Emergency fuel reserves جاری کرنے کی تجویز کے بعد Brent oil 100 ڈالر سے نیچے اور European diesel futures میں تیز کمی، مگر فیصلہ ابھی حتمی نہیں۔
برینٹ (Brent Crude) 100 ڈالر سے نیچے، ڈیزل کے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کی تجویز پر تیل میں کمی

برینٹ (Brent Crude Oil) 2.77 فیصد کم ہوکر 99.48 ڈالر، جبکہ WTI 3.61 فیصد گر کر 89.52 ڈالر فی بیرل رہا۔ فرانسیسی تجویز میں یورپی ممالک سے 50 ملین بیرل ڈیزل اور عالمی توانائی ایجنسی کے ارکان سے مزید 50 ملین بیرل خام تیل جاری کرنے کی بات شامل ہے۔ یورپی گیس آئل فیوچرز 5 فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً 1,377 ڈالر فی میٹرک ٹن تک آئے۔ مذاکرات میں امریکا کی جانب سے یکطرفہ ڈیزل برآمدی پابندی نہ لگانے کی یقین دہانی بھی اہم معاملہ ہے۔ مجوزہ حجم کے ساتھ منظوری، ترسیل کا شیڈول اور ریفائنڈ ایندھن کی حقیقی دستیابی اگلا فیصلہ کن مرحلہ ہوں گے۔

Pakistan میں 24K gold price 2,000 روپے بڑھ کر 440,636 روپے فی تولہ ہوگئی، مگر previous session کی مکمل کمی ابھی recover نہیں ہوئی۔
پاکستان میں سونا 2,000 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 440,636 روپے ہوگئی

24 قیراط سونا 2,000 روپے اضافے سے 440,636 روپے فی تولہ ہوگیا۔ 10 گرام سونا 377,774 روپے، جبکہ چاندی 50 روپے بڑھ کر 6,578 روپے فی تولہ رہی۔ مقامی نرخ کے ساتھ رپورٹ کردہ عالمی حوالہ 20 ڈالر بڑھ کر 4,181 ڈالر فی اونس ہوگیا۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ واپس لیا؛ دونوں سیشنز کی مجموعی تبدیلی اب بھی 1,000 روپے منفی ہے۔ پیر سے جمعہ تک جاری کردہ فی تولہ نرخ 437,336 سے 441,636 روپے کی پرائس رینج میں رہے۔

Pakistan میں September 2026 inflation کم ہوکر 10.3 فیصد ہوگئی، لیکن مہنگی electricity اور motor fuel نے household budget پر دباؤ برقرار رکھا۔
پاکستان میں مہنگائی 10.3 فیصد پر آگئی، بجلی اور ایندھن کے اخراجات میں تیز اضافہ

ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔

برطانوی ہاؤسنگ کمپنیوں میں خریداری سے European Stocks کو سہارا
یورپی حصص میں محتاط تیزی، برطانوی ہاؤسنگ کمپنیوں میں بڑی خریداری

STOXX 600 ابتدائی یورپی تجارت میں 0.3 فیصد بڑھ کر 640.43 پوائنٹس پر پہنچا، لیکن شعبوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق رہا۔ برطانیہ نے پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے نئے ایکویٹی قرض پروگرام کا اعلان کیا ہے؛ مزید تفصیلات آئندہ ماہ کے بجٹ میں آنی ہیں۔ برطانوی ہاؤسنگ کمپنیوں کا اشاریہ تقریباً 16 فیصد بڑھا، بڑی کمپنیوں کے حصص میں 6 سے 23 فیصد تیزی آئی اور FTSE 250 تقریباً 1 فیصد اوپر رہا۔ برینٹ خام تیل میں 3 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ توانائی کے حصص بڑھے، جبکہ مضبوط ڈالر اور دھاتوں کی کمزوری سے کان کنی کا شعبہ دباؤ میں رہا۔ تیزی کے تسلسل کے لیے خریداری کا دوسرے شعبوں تک پھیلنا اہم ہوگا؛ تیل، بانڈ منافع اور ECB و BoE حکام کے بیانات اگلے نمایاں عوامل ہیں۔

Bitcoin اور Ethereum کے ساتھ کمزور ایشیائی مارکیٹ چارٹ، پس منظر میں تیل اور امریکی بانڈ منافع کے اشاریے۔
Bitcoin 83,200 ڈالر کے قریب، Ethereum بھی کمزور؛ تیزی کے تسلسل کو عالمی دباؤ کا سامنا

Bitcoin کی قیمت تقریباً 83,200 ڈالر اور Ethereum تقریباً 2,648 ڈالر کے قریب آگئی؛ تازہ دستیاب نرخوں میں دونوں اتوار کے مقابلے میں مزید کمزور رہے۔ BTC گزشتہ ہفتے کی تقریباً 87,300 ڈالر کی بلند سطح سے نیچے ہے۔ اب 82,900 سے 83,000 ڈالر کا علاقہ نگرانی میں ہے، جبکہ 85,000 کی واپسی بحالی کو تقویت دے گی۔ ETH دوبارہ 2,700 ڈالر سے نیچے آگیا ہے۔ 2,600 ڈالر کے قریب خریداروں کا ردعمل اہم ہوگا، جبکہ 2,750 سے 2,800 کا علاقہ بحالی کی اگلی آزمائش رہے گا۔ ایران کے بارے میں غیر یقینی، مہنگا تیل اور بلند امریکی بانڈ منافع کے ساتھ Nasdaq futures اور ایشیائی حصص بھی کمزور رہے؛ تاہم ہر کرپٹو حرکت کو ایک خبر سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ پیر کی کمی نے حالیہ تیزی کا تسلسل کمزور کیا ہے، مگر بڑی بحالی ختم ہونے کا فیصلہ ابھی قبل از وقت ہے۔ امریکی مہنگائی اور روزگار کے اعداد، بانڈ منافع اور اگلے سیشن کی خریداری اہم ہوں گے۔

Gold اور Silver کی گرتی قیمتوں کا مارکیٹ ڈسپلے، سونا 4,200 ڈالر سے نیچے اور امریکی شرح سود کا دباؤ۔
سونا 4,200 ڈالر سے نیچے، چاندی کی گراوٹ بھی تیز ہوگئی شرح سود کی توقعات نے قیمتی دھاتوں پر دباؤ بڑھا دیا

سونا (XAU/USD) ایشیائی تجارت میں 2.1 فیصد گر کر 4,198.10 ڈالر فی اونس آگیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 2.1 فیصد کمی کے ساتھ 4,231 ڈالر پر رہے۔ چاندی (XAG/USD) کی کمی بڑھ کر 3.4 فیصد ہوگئی اور قیمت 62.08 ڈالر فی اونس رہی؛ پلاٹینم اور پیلیڈیم بھی دباؤ میں آئے، اس لیے فروخت صرف سونے تک محدود نہیں۔ اکتوبر میں Fed کی شرح سود بڑھانے کا مارکیٹ امکان تقریباً 68 فیصد تک پہنچ گیا؛ ستمبر کے اضافے کے بعد امریکی پالیسی شرح پہلے ہی 3.75 سے 4.00 فیصد ہے۔ برینٹ خام تیل (Brent Crude) 106 ڈالر سے اوپر اور ڈالر انڈیکس (DXY) دو ماہ کی بلند سطح کے قریب رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے دھاتوں کی کشش محدود رکھی۔ سونے کے لیے اب 4,200 ڈالر کی واپسی اہم ہے۔ 30 ستمبر کے امریکی PCE اور 2 اکتوبر کے روزگار کے اعداد شرح سود کی توقعات بدل سکتے ہیں، جبکہ 4,250 سے 4,300 ڈالر کی بحالی فروخت کا دباؤ کم ہونے کا اشارہ ہوگی۔

Hawkish BoJ signals اور rising Japanese yields کے باوجود strong US dollar، بلند Treasury yields اور مہنگے oil سے Japanese yen دباؤ میں ہے۔
USD/JPY 157.7 کے قریب، BoJ کی سخت گیر روداد کے باوجود ین دباؤ میں

BoJ کی جولائی اجلاس کی روداد میں مہنگائی کے بڑھتے خطرات اور نسبتاً تیز شرح سود اضافے کی گنجائش سامنے آئی، مگر یہ آئندہ فیصلے کا حتمی وعدہ نہیں۔ USD/JPY پیر کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 157.7 رہا اور ین 0.3 فیصد کمزور ہوا؛ سخت گیر جاپانی اشاروں کے باوجود ڈالر کی مجموعی برتری برقرار رہی۔ ڈالر انڈیکس (DXY) تقریباً 101.15 اور Brent Crude دوبارہ 106 ڈالر سے اوپر رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے ڈالر کو سہارا دیا۔ ستمبر میں ڈالر انڈیکس کا اضافہ تقریباً 1.7 فیصد تھا۔ جاپانی دس سالہ بانڈ کی شرح منافع جمعہ کو دورانِ تجارت 3.115 فیصد تک پہنچی؛ تاہم ین کے لیے امریکی اور جاپانی شرح منافع کا باہمی فرق زیادہ اہم ہے۔ اس ہفتے امریکی PCE، روزگار کے اعداد اور BoJ کے ستمبر اجلاس کی آرا کا خلاصہ اہم ہوگا؛ جاپانی و امریکی حکام کے رابطے مشترکہ کرنسی مداخلت کی تصدیق نہیں۔ نئی عملی مداخلت کا دعویٰ الگ تصدیق چاہتا ہے۔

Bitcoin مضبوط ETF inflows کے باوجود $85,000 resistance کے قریب consolidate کر رہا ہے، جبکہ Ethereum بھی breakout کی کوشش میں ہے۔
Bitcoin پھر $85,000 کے قریب، مضبوط ETF Flows کے باوجود خریداروں کا امتحان باقی

BTC کی تازہ دستیاب قیمت تقریباً 85,000 ڈالر ہے؛ سات دن کی بلند سطح 87,330 ڈالر کے قریب رہی، اس لیے حالیہ بحالی کے باوجود پچھلی چوٹی ابھی دوبارہ حاصل نہیں ہوئی۔ 21 سے 25 ستمبر کے دوران امریکی Bitcoin ETF میں تقریباً 2.386 ارب ڈالر کی خالص آمد ہوئی؛ یہ مثبت طلب ہے، مگر تمام سرمایہ صرف ادارہ جاتی خریداروں کا نہیں سمجھا جاسکتا۔ BTC فنڈز کی روزانہ خالص آمد پیر کے 999 ملین سے جمعہ کو 134.5 ملین ڈالر رہ گئی؛ پانچوں سیشن مثبت تھے، لیکن خریداری کی روزانہ رفتار مسلسل کم ہوئی۔ ETH تقریباً 2,714 ڈالر ہے اور ہفتے میں 2,804 ڈالر تک جاچکا ہے؛ 2,750 سے 2,820 کی مزاحمت کے اوپر قیام اہم ہے، جبکہ ہفتہ وار ETF آمد تقریباً 690 ملین ڈالر رہی۔ BTC کے لیے 83,800 سے 84,000 کی حمایت اور 85,000 سے 85,800 کی مزاحمت قابلِ توجہ ہیں؛ ETH/BTC تقریباً 0.032 ہونے سے وسیع آلٹ کوائن گردش خودبخود ثابت نہیں ہوتی۔

SEC staff guidance میں staking receipt tokens، active blockchain networks اور token buybacks کی conditional legal classification دکھائی گئی ہے۔
SEC کی نئی وضاحت: Staking Receipt Tokens، فعال نیٹ ورکس اور ٹوکن کی دوبارہ خریداری کی قانونی حیثیت

SEC کے کارپوریٹ فنانس ڈویژن نے 25 ستمبر کو نئی FAQs جاری کیں؛ یہ عملے کی تشریح ہے، کمیشن کا نیا قانون، ضابطہ یا کسی مخصوص ٹوکن کی منظوری نہیں۔ اس سے موجودہ قانون تبدیل نہیں ہوتا۔ مخصوص شرائط میں Staking Receipt Token ڈیجیٹل ٹول ہوسکتا ہے؛ فعال پروٹوکول سے منسلک Liquid Staking کی رسید بعض حالات میں ڈیجیٹل کموڈیٹی بھی ہوسکتی ہے۔ رسید اصل اثاثے کی ملکیت ظاہر کرتی ہے؛ اس کے جاری کنندہ کو اثاثہ قرض دینے، گروی رکھنے یا اپنے استعمال میں لانے کا اختیار نہیں ملنا چاہیے، نہ رسید الگ مالی فائدہ بنائے۔ فعال نیٹ ورک کی دیکھ بھال، سکیورٹی اور بہتری کو بیان کردہ حالات میں ضروری انتظامی کوشش نہیں سمجھا گیا؛ غیر فعال نظام اور منافع کے وعدوں کا تجزیہ مختلف ہوسکتا ہے۔ غیر سیکیورٹی ٹوکن کی Buyback کا اعلان فعال نظام میں بذات خود متعلقہ انتظامی وعدہ نہیں؛ تاہم ٹوکن کی درجہ بندی اور اس کی فروخت کے معاہدے کو الگ جانچنا ضروری ہے۔

ECB Pontes کے ذریعے tokenized financial assets کو central bank euros میں settle کرنے کا institutional نظام۔
ECB کا Pontes شروع، ٹوکنائزڈ اثاثوں کے تصفیے میں مرکزی بینک کے یورو کی شمولیت

یورو نظام نے 21 ستمبر 2026 کو Pontes شروع کردیا، جس سے اہل اداروں کو ٹوکنائزڈ مالیاتی اثاثوں کے لین دین کا تصفیہ مرکزی بینک کے یورو میں کرنے کی سہولت ملی ہے۔ Pontes مالیاتی DLT پلیٹ فارمز کو TARGET Services سے جوڑتا ہے؛ ابتدائی نظام میں ادائیگی کا حتمی تصفیہ T2 میں متعلقہ منتقلی مکمل ہونے پر حاصل ہوتا ہے۔ ECB اپنے غیر زری پالیسی پورٹ فولیو کا محدود حصہ ٹوکنائزڈ سکیورٹیز میں لگانے کی تیاری کررہا ہے؛ خریداری کا وقت اور عملی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ مرکزی بینک کی رقم تک رسائی بعض ادارہ جاتی معاملات میں نجی تصفیہ ذرائع پر انحصار کم کرسکتی ہے، لیکن اس سے اسٹیبل کوائنز کا استعمال خود بخود ختم نہیں ہوتا۔ یہ پیش رفت Bitcoin یا Ethereum کی منظوری نہیں۔ اصل امتحان اداروں کی شرکت، تصفیے کے حجم، لاگت، قانونی تحفظ اور مختلف پلیٹ فارمز کے باہمی رابطے کا ہوگا۔

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں