Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
Muhammad Azhar Saleem

محمد اظہر سلیم

Founder and Editor in Chief

محمد اظہر سلیم UrduMarkets کے بانی، مالیاتی منڈیوں کے تجربہ کار تجزیہ کار اور مارکیٹ سائیکالوجی ریسرچر ہیں۔ ان کا کیریئر تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہے، جس کا آغاز انہوں نے امریکی ایکسچینجز سے منسلک بروکرز کے ریجنل نمائندے کے طور پر کیا۔ ان کی بنیادی مہارت technical analysis، fundamental analysis، intermarket relationships، forex، commodities، global markets اور investor behavior میں ہے۔

Financial MarketsTechnical AnalysisFundamental AnalysisForex MarketsCommoditiesGold AnalysisPakistan EconomyPakistan Stock ExchangeMarket PsychologyFinancial Education

47

شائع شدہ مضامین

2,755

کل ویوز

30

سال تجربہ

—

مصنف ریٹنگ

محمد اظہر سلیم کے شائع کردہ مضامین (47)

ایشیا کی معیشت کو energy disruption، طاقتور El Niño، بلند bond yields اور debt pressure کے مشترکہ خطرات کا سامنا۔
ایشیا کی معاشی نمو برقرار، مگر توانائی، El Niño اور قرض کا دباؤ بڑھنے کا خطرہ

ADB نے ترقی پذیر ایشیا و بحرالکاہل کی نمو 2026 میں 5.0 فیصد اور 2027 میں 5.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے؛ یہ پورے ایشیا کی یکساں شرح نہیں۔ 2026 کی Inflation پیش گوئی 4.3 سے کم کرکے 4.2 فیصد، جبکہ 2027 کی 3.4 سے بڑھا کر 3.5 فیصد کی گئی ہے؛ اگلے سال کی شرح پھر بھی رواں سال سے کم متوقع ہے۔ توانائی کی طویل رکاوٹ اور شدید El Niño خوراک، پانی، پن بجلی اور بعض خام مال کی رسد متاثر کرسکتے ہیں؛ کم پن بجلی متبادل ایندھن کی طلب بھی بڑھا سکتی ہے۔ بلند قرض شرح سود بڑھانے کی معاشی لاگت میں اضافہ کرسکتا ہے، مگر اثر ہر ملک میں یکساں نہیں؛ قرض کی مدت، کرنسی، شرح اور مرکزی بینک کی خودمختاری اہم ہیں۔ نجی سرمایہ کاری، سرکاری معاونت اور AI سے متعلق برآمدات نمو کو سہارا دیتی ہیں؛ تاہم ٹیکنالوجی حصص میں بڑی گراوٹ، بلند Bond Yields اور مضبوط ڈالر خطرات بڑھا سکتے ہیں۔ اس لیے نمو کی پیش گوئی کو حصص کی یقینی تیزی نہ سمجھا جائے۔

خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے European stocks میں بحالی آئی، travel shares مضبوط ہوئے جبکہ energy sector دباؤ میں رہا۔
یورپی حصص میں بحالی، Brent کی کمی سے ایئرلائنز مضبوط؛ بانڈ منافع کا خطرہ برقرار

جمعہ، 25 ستمبر کو 07:04 UTC پر STOXX 600 تقریباً 0.7 فیصد بڑھ کر 640.66 پوائنٹس پر تھا؛ یہ ابتدائی سیشن کی ریڈنگ ہے، دن کی اختتامی قیمت نہیں۔ Brent جمعرات کے 106.60 ڈالر کے تصفیے کے مقابلے میں جمعہ کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 105.50 ڈالر رہا؛ کمی کے باوجود توانائی کی لاگت اب بھی بلند ہے۔ سفری اور تفریحی شعبہ تقریباً 1.2 فیصد بڑھا، Ryanair اور Lufthansa میں 2 فیصد سے زیادہ تیزی آئی، جبکہ توانائی کے حصص تقریباً 0.7 فیصد نیچے رہے۔ جرمنی کا DAX تقریباً 0.6 فیصد اوپر تھا، مگر اکتوبر کے لیے صارف اعتماد کا اشاریہ منفی 30.6 پر آگیا؛ ستمبر کی نظرثانی شدہ ریڈنگ منفی 26.8 تھی۔ امریکی Bond Yields جمعہ کو بلند سطحوں سے کچھ نیچے آئے، لیکن مشرق وسطیٰ اور مہنگائی کے خطرات برقرار ہیں؛ بحالی کا تسلسل تیل، بانڈز اور خریداری کی وسعت سے جانچا جائے گا۔ ابتدائی تیزی کو پائیدار رجحان سمجھنے کے لیے مزید تجارتی تصدیق درکار ہے۔

Bitget کے online اور semi-online wallets سے unauthorized transfers کے بعد withdrawals عارضی طور پر معطل ہیں، جبکہ BTC اور ETH کا فوری market reaction محدود رہا۔
Bitget پر 351.6 ملین ڈالر کا سکیورٹی حملہ، رقوم نکلوانا معطل؛ BTC اور ETH پر محدود دباؤ

Bitget کے مطابق 24 ستمبر کو بعض Hot اور Warm Wallets سے تقریباً 351.6 ملین ڈالر کے اثاثوں کی غیر مجاز منتقلی ہوئی؛ حتمی نقصان کا تعین تحقیقات اور بازیابی کے بعد ہوگا۔ ایکسچینج نے رقوم نکلوانا (Withdrawals) معطل رکھا ہے، جبکہ جمع کرانا اور تجارت جاری ہیں۔ بحالی کا حتمی وقت سامنے نہیں آیا اور صارفین کی رسائی اہم سوال ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ Cold Wallets محفوظ ہیں اور 464 ملین ڈالر سے زیادہ کا تحفظ فنڈ نقصان پورا کرسکتا ہے؛ یہ ادارے کا دعویٰ ہے، آزادانہ آڈٹ کا نتیجہ نہیں۔ 25 ستمبر کی دستیاب ریڈنگز میں BTC تقریباً 84,000 ڈالر اور ETH تقریباً 2,676 ڈالر پر تھا؛ محدود قیمت ردعمل کو پورے خطرے کے خاتمے کی تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے۔ اب توجہ مکمل تحقیق، رقوم کی واپسی، متاثرہ پتوں اور اثاثوں کی بازیابی پر ہے۔ محض والیٹ منتقلی فروخت ثابت نہیں کرتی، نہ قیمت میں ہر کمی کو اس حملے سے جوڑا جاسکتا ہے۔

Bitcoin کی 87,000 ڈالر کے قریب پیش قدمی ناکام ہونے کے بعد قیمت 84,000 ڈالر سے نیچے گئی، جس سے leveraged long positions کی بڑی liquidation ہوئی۔
Bitcoin کی تیزی کو جھٹکا، BTC کی 84,000 ڈالر سے نیچے واپسی پر لانگ لیکویڈیشن بڑھ گئی

BTC بدھ کو 87,000 ڈالر کے قریب دوبارہ ناکامی کے بعد 84,000 ڈالر سے نیچے آگیا؛ بعد کی رپورٹ میں کم ترین قیمت تقریباً 83,508 ڈالر بتائی گئی، جو تازہ نرخ نہیں۔ چار گھنٹوں میں تقریباً 280 ملین ڈالر کی لانگ لیکویڈیشن رپورٹ ہوئی؛ ایک گھنٹے کی الگ ریڈنگ میں مجموعی جبری بندش تقریباً 230 ملین ڈالر تھی، دونوں کو جمع نہ کیا جائے۔ ایک گھنٹے کے مذکورہ وقفے میں تقریباً 223 ملین ڈالر لانگ پوزیشنز سے متعلق تھے؛ BTC اور ETH کی مجموعی لیکویڈیشن بالترتیب 60.88 اور 59.91 ملین ڈالر رہی۔ ETH بھی 2,660 سے 2,680 ڈالر کے علاقے میں آیا؛ XRP، SOL اور DOGE سمیت بڑی کرپٹو کرنسیوں کی کمزوری نے فروخت کے وسیع ہونے کی نشاندہی کی۔ مضبوط امریکی PMI اور بلند بانڈ منافع اہم پس منظر ہیں؛ اب BTC کے لیے 84,000 سے 85,000 ڈالر میں استحکام، اسپاٹ خریداری اور لیوریج کے دباؤ میں کمی دیکھنا ہوگی۔

Neutron governance attack کے بعد تقریباً 25 گھنٹے بند رہنے والا Cosmos Hub دوبارہ فعال ہوگیا، جبکہ متاثرہ ATOM کی movement محدود کی گئی۔
Cosmos Hub تقریباً 25 گھنٹے بعد بحال، Neutron حملے نے گورننس اور اثاثوں کے تحفظ پر سوال اٹھا دیے

Cosmos Hub نے 23 ستمبر کو تقریباً 25 گھنٹے کے تعطل کے بعد بلاک سازی بحال کردی؛ نیٹ ورک Neutron حملے سے منسلک ATOM کی مزید منتقلی روکنے کے لیے روکا گیا تھا۔ ہب کے مطابق اس کا اپنا نظام حملے کا شکار نہیں ہوا؛ اصل واقعہ Neutron کی گورننس اور Astroport و Drop سے متعلق معاہدوں کے انتظامی اختیار سے جڑا تھا۔ تحقیق میں تقریباً 94 لاکھ ڈالر کے اثاثے متاثر ہونے کا تخمینہ ہے، مگر منتقل شدہ رقم، روکے گئے اثاثے اور حتمی ناقابلِ واپسی نقصان الگ اعداد ہیں۔ بحالی کے پہلے بلاک میں 1,227,121 ATOM نئے پتے پر منتقل ہوئے؛ بعد میں THORChain سے لوٹنے والے 168,991 ATOM کو صارفین کی بازیابی قرار دینا درست نہیں۔ اب مکمل تکنیکی رپورٹ، نئے پتے کے اختیار اور متاثرین کو واپسی کی تفصیل اہم ہے؛ بلاک سازی کی بحالی سے تمام اثاثوں کی بازیابی یا گورننس کی خامی دور ہونے کی تصدیق نہیں ہوتی۔

امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے سود کی شرح میں اضافے کے مضبوط اشاروں نے عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی بطور محفوظ پناہ گاہ مانگ میں اضافہ کیا، جو بالواسطہ طور پر EURUSD price fell کی اہم وجہ بنی
یورو زون میں کاروباری سرگرمی (EUR/USD Eurozone PMI) کی رفتار، EUR/USD پھر بھی 1.1400 کے قریب دباؤ میں

یورو زون کا ابتدائی جامع PMI ستمبر میں 53.1 رہا، جبکہ توقع 51.7 اور اگست کی ریڈنگ 52.0 تھی؛ کاروباری سرگرمی کی رفتار اپریل 2023 کے بعد بلند ترین رہی۔ خدمات کا PMI بڑھ کر 53.0 ہوگیا، مینوفیکچرنگ PMI 52.7 پر برقرار رہا اور صنعتی پیداوار کا سروے اشاریہ 53.4 ہوگیا؛ خدمات میں بہتری زیادہ نمایاں رہی۔ نئے آرڈرز میں مئی 2022 کے بعد تیز ترین اضافہ ہوا، لیکن کاروباری لاگت اور فروخت کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھیں؛ بہتر طلب کے ساتھ مہنگائی کا خطرہ برقرار ہے۔ ECB پہلے ہی ستمبر میں شرح سود بڑھا چکا ہے؛ نئی رپورٹ مزید سختی کی بحث کو تقویت دے سکتی ہے، مگر کسی اگلے اضافے کی ضمانت نہیں اور فیصلہ دیگر اعداد پر ہوگا۔ مضبوط PMI کے باوجود EUR/USD، 1.1400 کے قریب دباؤ میں رہا؛ 1.1450 کی بازیابی اور امریکی ابتدائی PMI اگلی سمت کے اہم حوالے ہیں، جبکہ کسی سطح کا مختصر عبور کافی نہیں ہوگا۔

BitMEX نے تمام trading services بند کر دی ہیں، جبکہ صارفین کے لیے crypto withdrawals کی سہولت بدستور دستیاب ہے۔
BitMEX پر تجارت باضابطہ ختم، صارفین کے لیے رقوم کی واپسی کا مرحلہ برقرار

BitMEX نے 23 ستمبر 2026 کو 04:00 UTC پر تمام تجارتی خدمات ختم کردیں؛ نئی پوزیشنز اور رقوم جمع کرانے کی سہولت بھی بند ہے، جبکہ اکاؤنٹ تک رسائی برقرار ہے۔ صارفین دستیاب رقوم نکال سکتے ہیں، لیکن واپسی کے لیے شناختی تصدیق، متعلقہ نیٹ ورک اور کم از کم قابلِ واپسی رقم کی شرائط دیکھنا ضروری ہے۔ کمپنی بندش کو بورڈ کے کاروباری جائزے کا نتیجہ قرار دیتی ہے؛ مالی مشکلات، ہیک یا فوری ضابطہ جاتی دباؤ سے متعلق تردید کمپنی کا اپنا مؤقف ہے۔ باقی رقوم پر اکاؤنٹ فیس لاگو ہے، جبکہ تازہ ہدایات کے مطابق واپسی کی درخواست ویب پورٹل سے دینا ہوگی؛ پرانے جمع کرانے والے پتوں پر اثاثے نہ بھیجے جائیں۔ BTC اور ETH کی قیمتیں اکیلے پورے مالیاتی نظام میں دباؤ ثابت یا مسترد نہیں کرتیں؛ اب اصل نگرانی رقوم کی واپسی، تصفیے اور اثاثوں تک رسائی کی ہوگی۔ کسی انفرادی تاخیر اور وسیع تعطل میں فرق رکھنا بھی ضروری ہے۔

Bitcoin تقریباً $86,500 اور Ethereum $2,760 کے قریب مستحکم ہیں، جبکہ US Spot ETF inflows کرپٹو مارکیٹ کی حالیہ تیزی کو support کررہے ہیں۔
Bitcoin اور Ethereum کی تیزی برقرار، امریکی ETF سرمایہ کی آمد نے نئی طلب کا اشارہ دے دیا

BTC ایشیائی سیشن میں تقریباً 86,500 ڈالر اور ETH تقریباً 2,760 ڈالر کے قریب رہے؛ حالیہ تیزی برقرار ہے، مگر بلند سطحوں پر خریداری کا تسلسل اب اہم ہوگا۔ امریکی Bitcoin ETF میں 22 ستمبر کو 714.7 ملین ڈالر کی مزید خالص آمد ہوئی؛ چار مسلسل مثبت کاروباری سیشنز میں مجموعہ تقریباً 2.31 ارب ڈالر ہوگیا۔ Ethereum ETF میں 21 ستمبر کی خالص آمد 270 ملین ڈالر تھی؛ 22 ستمبر کے دستیاب اعداد نامکمل ہیں، اس لیے تیسرے مثبت سیشن کا حتمی دعویٰ قبل از وقت ہے۔ BTC کے لیے 87,000 سے 87,400 ڈالر اور ETH کے لیے 2,800 ڈالر کے آس پاس قیمت کا ردعمل اہم ہے؛ محض سطح عبور کرنا پائیدار بریک آؤٹ کی ضمانت نہیں۔ ETF سرمایہ آمد شارٹ لیکویڈیشن سے الگ طلب کا اشارہ دیتی ہے، لیکن اسے صرف ادارہ جاتی خریداری کہنا درست نہیں؛ بڑھتا لیوریج قیمت کی واپسی کو تیز کرسکتا ہے۔ قیمتوں اور فنڈ فلو کی مختلف تاریخوں کو ملانے سے بھی گریز ضروری ہے، کیونکہ کرپٹو تجارت مسلسل جاری رہتی ہے۔

USD/JPY ایشیائی سیشن میں 157.5 کے اوپر برقرار ہے، جہاں US yields ڈالر کو سہارا دے رہی ہیں جبکہ Japanese intervention risk بڑھ رہا ہے۔
USD/JPY تقریباً 157.60 پر، BoJ کے فیصلے کے باوجود ین پر دباؤ

USD/JPY بدھ، 23 ستمبر کی ابتدائی ایشیائی تجارت میں تقریباً 157.60 پر رہا؛ یہ متعلقہ سیشن کی رپورٹ شدہ قیمت ہے، پورے دن کا اختتامی یا مستقل نرخ نہیں۔ BoJ نے 18 ستمبر کو شرح سود 25 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 1.25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا، مگر نئی شرح 24 ستمبر سے نافذ ہوگی؛ اعلان اور نفاذ کی تاریخ الگ ہیں۔ Federal Reserve کی شرح 3.75 سے 4.00 فیصد ہے۔ دونوں بینکوں کے یکساں اضافے کے بعد بھی شرح سود کا فرق ڈالر کے حق میں رہے گا، اگرچہ کرنسی کی سمت صرف یہی عامل طے نہیں کرتا۔ جاپان میں Autumnal Equinox Day کی تعطیل سے مقامی شرکت محدود ہے۔ عالمی فاریکس تجارت جاری ہے، مگر کم لیکویڈیٹی میں خبر یا بڑے آرڈر کا اثر زیادہ ہوسکتا ہے۔ 160 اہم نفسیاتی سطح ہے، سرکاری مداخلت کی اعلان شدہ حد نہیں۔ آئندہ سمت کے لیے امریکی ییلڈز، مرکزی بینکوں کی رہنمائی اور جاپانی حکام کے اقدامات اہم رہیں گے۔

Saudi East-West Pipeline میں محدود oil flow بحال ہونے سے Yanbu exports کی امید بڑھی اور Brent Crude دورانِ تجارت 97 ڈالر کے قریب آگیا
سعودی East-West Pipeline کی جزوی بحالی، Brent Crude دورانِ تجارت 97 ڈالر کے قریب

سعودی East-West Pipeline میں منگل، 22 ستمبر کو محدود بہاؤ بحال ہونے کی اطلاعات آئیں؛ 11 ستمبر کے ڈرون حملے کے بعد یہ اہم متبادل راستہ بند تھا۔ خبر کے بعد Brent Crude دورانِ تجارت دو ڈالر سے زیادہ گر کر 97 ڈالر کے قریب آیا؛ یہ اس وقت کی قیمت تھی، بدھ کا تازہ نرخ یا منگل کی اختتامی قیمت نہیں۔ ذرائع نے مکمل بحالی کے لیے چھ سے آٹھ ہفتے بتائے ہیں۔ ابتدائی پمپنگ کم رفتار سے جاری ہے اور Saudi Aramco کا باضابطہ نظام الاوقات سامنے نہیں آیا۔ سابقہ بہاؤ تقریباً 40 لاکھ بیرل یومیہ تھا، جبکہ مجموعی گنجائش 70 لاکھ بیرل ہے؛ دونوں اعداد کو موجودہ برآمدات یا فوری اضافی عالمی رسد نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگلی تصدیق ینبع سے کارگو کی حقیقی لوڈنگ، مسلسل روانگی اور بڑھتے بہاؤ سے ہوگی؛ Strait of Hormuz کی بحالی ابھی شرائط سے جڑی ہے اور علاقائی خطرات باقی ہیں۔

Bitcoin $85,000 سے اوپر پہنچ گیا، جبکہ بڑی Short Liquidations کے دوران ETH، XRP اور Solana میں بھی تیزی دیکھی گئی۔
بٹ کوائن 85,000 ڈالر سے اوپر، شارٹ لیکویڈیشن کے ساتھ آٹھ ماہ کی بلند سطح

بٹ کوائن پیر، 21 ستمبر کو 85,000 ڈالر عبور کرکے جنوری کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچا؛ ابتدائی رپورٹوں کے بعد دستیاب نرخ تقریباً 85,900 ڈالر تک آگئے۔ پیر کی ایک رپورٹ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کی مجموعی کرپٹو لیکویڈیشن 746.6 ملین ڈالر اور شارٹ پوزیشنز کی بندش 647.9 ملین ڈالر بتائی گئی، یعنی تقریباً 87 فیصد۔ ETH تقریباً 2,737 ڈالر، XRP تقریباً 1.50 ڈالر اور SOL تقریباً 118.16 ڈالر رہا؛ اسی اسنیپ شاٹ میں XRP اور SOL کی فیصدی تیزی BTC سے زیادہ تھی۔ شارٹ لیکویڈیشن قیمت میں تیزی کو مزید بڑھا سکتی ہے، مگر بند ہونے والے معاہدوں کی مالیت کو اسپاٹ مارکیٹ میں اتنی ہی نئی سرمایہ کاری سمجھنا درست نہیں۔ اگلا امتحان 85,000 ڈالر کے اوپر قیمت کا برقرار رہنا، اسپاٹ خریداری کا تسلسل اور نئی لیوریج کی نوعیت ہے؛ محض ایک سطح عبور کرنا مستقل تیزی کی ضمانت نہیں۔

پاکستان میں gold price بڑھ کر 460,336 روپے فی تولہ، جبکہ USD/PKR تقریباً مستحکم رہا
پاکستان میں سونا (Gold/Tola Rate) 6,900 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 460,336 روپے ہوگئی

پاکستان میں جمعہ، 18 ستمبر کو 24 قیراط سونا 6,900 روپے بڑھ کر 460,336 روپے فی تولہ ہوگیا؛ گزشتہ روز قیمت 453,436 روپے تھی اور اس میں 3,800 روپے کمی ہوئی تھی۔ دس گرام سونا 5,914 روپے اضافے سے 394,663 روپے ہوگیا، جبکہ 22 قیراط کے دس گرام نرخ 361,787 روپے رہے؛ زیورات کی اجرت ان نرخوں سے الگ ہوسکتی ہے۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی پوری کمی واپس لے لی؛ بدھ کی 457,236 روپے قیمت کے مقابلے میں دو سیشنز کا خالص اضافہ 3,100 روپے فی تولہ بنتا ہے۔ عالمی اسپاٹ سونا جمعہ کو مضبوط ہوا اور ایک ہفتے کی بلند سطح تک پہنچا؛ مختلف اوقات کی عالمی قیمتوں کو مقامی صرافہ نرخ کا یکساں حوالہ سمجھنا درست نہیں۔ انٹربینک ڈالر 277.26 سے معمولی کم ہو کر 277.25 روپے رہا، اس لیے مقامی تیزی روپے کی بڑی کمزوری کا نتیجہ نہیں؛ چاندی بھی 300 روپے بڑھ کر 7,169 روپے فی تولہ ہوگئی۔

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں