Gold Price نئی بلندیوں کے قریب، Donald Trump کے اضافی Tariffs پر خدشات برقرار
Global Trade War Concerns and Investor Strategies

Gold Price نے ایک بار پھر مثبت رجحان اختیار کر لیا ہے، خاص طور پر امریکی صدر Donald Trump کی تجارتی پالیسیوں کے باعث پیدا ہونے والے خدشات کے نتیجے میں۔ دوسری طرف، Federal Reserve کی جانب سے متوقع شرح سود میں کمی کے امکانات USD کو کمزور بنا رہے ہیں. جس کا فائدہ Bright Metal کو ہو رہا ہے۔ تاہم، مجموعی طور پر مستحکم خطرہ برداشت کرنے کی صلاحیت Gold Price کی مزید تیز رفتاری کو محدود کر سکتی ہے، خاص طور پر Donald Trump کی طرف سے Tariffs Announcement کے پیش نظر۔
Donald Trump کے Reciprocal Tariffs اور Financial Markets کی صورتحال.
Trump کی جانب سے Tariffs کے اعلان سے پہلے، مارکیٹ کا محور US Automatic Data Processing (ADP) Employment Change رپورٹ پر ہے۔ مارچ کے مہینے کے لیے امریکی نجی شعبے کی ملازمتوں میں 105,000 کے اضافے کی توقع کی جا رہی ہے. جو فروری میں 77,000 کی معمولی پیش رفت کے بعد ایک بہتری سمجھی جا رہی ہے۔
اگر امریکی لیبر مارکیٹ میں کمزوری کے مزید اشارے ملتے ہیں تو اس سے FOMC کی جانب سے شرح سود میں کمی کے امکانات مزید مضبوط ہوں گے. جس کے نتیجے میں بغیر پیداوار والے Gold Price کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔ تاہم، US Data پر ابتدائی ردعمل وقتی ہو سکتا ہے. کیونکہ اصل خطرہ Trump’s Tariffs Announcement ہے. جو عالمی تجارتی ماحول کو نئی جہت دے سکتا ہے۔
تجارتی جنگ اور محفوظ سرمایہ کاری کی طلب
اتوار کو Wall Street Journal (WSJ) نے رپورٹ کیا کہ White House تقریباً تمام امریکی تجارتی شراکت داروں پر 20% تک کے عالمی Tariffs عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے آخر میں، Donald Trump نے محدود Tariffs کے منصوبے کو مسترد کر دیا. جس سے عالمی مارکیٹ میں بے چینی بڑھ گئی۔
دوسری جانب، امریکی Treasury Secretary Scott Bessent نے ان 15 ممالک کی فہرست جاری کی، جنہیں "Dirty 15” قرار دیا گیا اور جن کے ساتھ امریکہ کا تجارتی حجم زیادہ ہے. لیکن وہ زیادہ Tariffs عائد کرتے ہیں۔ تاہم، منگل کو Bessent نے وضاحت کی کہ بدھ کو اعلان کردہ Tariffs زیادہ سے زیادہ حد ہوں گے. اور ممالک ان Tariffs کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔ اس دوران، سرمایہ کاروں کی نظریں Automobile Tariffs پر بھی ہیں. جو 3 اپریل سے نافذ العمل ہوں گی۔
ان غیر یقینی صورتحال کے باعث، Gold Investors اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے لیے Gold Price کی طرف مائل ہو رہے ہیں. جس نے منگل کو $3,149 کی نئی بلند ترین سطح کو چھوا۔ اگر Trump’s Reciprocal Tariffs توقعات سے کم ہوئے، یا ان میں مذاکرات کی گنجائش رکھی گئی. تو اس سے عالمی مارکیٹ میں خطرہ برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے. جس کے نتیجے میں Gold Price نیچے ممکنہ طور پر $3,050 کی سطح تک گر سکتی ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی
اگر Trump’s Tariffs عالمی تجارتی جنگ کو مزید سنگین کرتے ہیں. اور امریکی معیشت کے لیے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، تو Gold Price ایک نئی تیزی کی لہر کے تحت $3,200 کی سطح کو چھو سکتی ہے۔ مجموعی طور پر، US Tariff Announcement آنے والے دنوں میں Gold Price کے اتار چڑھاؤ کا تعین کرے گا. اور سرمایہ کاروں کو محتاط انداز میں اپنی حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہوگی۔
تکنیکی جائزہ.
تکنیکی اعتباز سے Gold ابھی بھی اپنی تمام موونگ ایوریجز سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے .اسوقت یہ 3120 ڈالرز کی سطح کے قریب آ گیا ہے. اور یہ Fibonacci کی 61.8 فیصد ریٹرسمنٹ ہولڈ کئے ہوئے ہے.
European Sessions کے دوران اس کا مجموعی منظرنامہ نیوٹرل ہے. 14 روزہ RSI اسوقت 70 کے قریب ہے .جو کہ Bullish Momentum جاری رہنے کے امکانات کی نمائندگی کر رہی ہے . اس سطح پر مضبوط ترین سپورٹ 3114 ہے .

دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔