آن لائن انٹرمیدیئریز اور مارکیٹ پلیسز پر شکنجہ: Revised Finance Bill 2025-26 میں سخت سزائیں
Revised Finance Bill 2025-26 introduces severe penalties for non-compliance by e-commerce platforms and couriers
پاکستان میں ای کامرس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ ساتھ Online Payment Intermediaries اور Courier Companies کے ذریعے ہونے والے Tax Fraud اور Return Filing کی خلاف ورزیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان نے Revised Finance Bill 2025-26 میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان ترامیم کا بنیادی مقصد Online Marketplaces، Payment Gateways، اور Courier Services کے ذریعے ٹیکس چوری کی روک تھام اور ماہانہ گوشوارے داخل کرنے کی ذمہ داری کو یقینی بنانا ہے۔
خلاصہ: ترمیم شدہ بل میں اہم نکات
-
مسلسل 2 ماہ تک گوشوارہ جمع نہ کرانے پر 3 لاکھ روپے جرمانہ.
-
ایک ہی مالی سال میں ہر اگلی خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ.
-
غیر رجسٹرڈ افراد کو سروس فراہم کرنے پر پہلی بار 3 لاکھ روپے، بعد میں 10 لاکھ روپے فی خلاف ورزی.
-
Tax Fraud کرنے پر زیادہ سے زیادہ 10 سال قید یا 1 کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں.
-
نقصان کی تصدیق شدہ رقم کے برابر 100% Penalty اور Default Surcharge بھی لاگو ہوگا.
-
دیگر اقسام کے ٹیکس فراڈ پر 5 سال قید یا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں.
نئی سزائیں: Courier Companies اور Online Platforms کے لیے بڑا پیغام
Revised Finance Bill 2025-26 کے مطابق، اگر کوئی Courier Company یا Online Marketplace مسلسل دو ماہ تک اپنا ماہانہ Tax Return جمع نہیں کراتی. تو اُسے تین لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ یہ شرط ان اداروں کے لیے بھی لاگو ہوتی ہے. جو E-commerce ٹرانزیکشنز میں Unregistered Individuals کو اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں۔
Tax Fraud کی تعریف اور سزا: قانون کی سختی
ایسا کوئی بھی شخص جو Sales Tax Act کی شق 37(2) کے تحت ٹیکس چوری میں ملوث پایا جاتا ہے. اُسے Special Judge کی منظوری کے بعد زیادہ سے زیادہ 10 سال کی سزا یا 1 Crore Rupees Fine یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ شخص ٹیکس نقصان کے برابر 100% Penalty اور Section 34 کے مطابق Default Surcharge بھی ادا کرنے کا پابند ہوگا۔
غیر رجسٹرڈ افراد کو سروس دینا: خطرناک فیصلہ
اگر کوئی Payment Intermediary یا Courier Company غیر رجسٹرڈ صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہے. تو اسے پہلی بار تین لاکھ روپے اور ہر اگلی خلاف ورزی پر دس لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس قانون کا مقصد E-commerce Regulation کو مزید مضبوط بنانا ہے. تاکہ Tax Net کو وسیع کیا جا سکے۔
سینیٹ و قومی اسمبلی کی سفارشات: سختی کے ساتھ نرمی کا توازن
ترمیم شدہ بل میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی Standing Committee on Finance کی سفارشات پر بعض سزاؤں میں نرمی بھی کی گئی ہے. تاکہ قانونی تقاضوں کی تکمیل کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالا جائے۔
Source: Business Recorder: https://www.brecorder.com/news/40369699/online-payment-intermediaries-penalties-revised-for-tax-fraud-non-filing
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



