امریکی مانیٹری پالیسی: شرح سود میں 25 بنیادی پوائنٹس اضافہ۔ ڈالر انڈیکس میں کمی

امریکی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ FOMC نے شرح سود میں 25 بنیادی پوائنٹس اضافہ کر دیا۔ ہے جس کے بعد مجموعی پالیسی ریٹس 5 فیصد سالانہ پر پہنچ گئے دو روز سے جاری اجلاس کے بعد ملک میں افراط زر کی صورتحال اور عالمی بینکاری بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا۔

فیڈ کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکی کریڈٹ سسٹم اپنی مضبوط بنیادوں ہر قائم ہے۔ تاہم حالیہ کرائسز اور لیکوئیڈیٹی مسائل کیش ریٹ میں بڑے اضافے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ خود معاشی اداروں کو ہنگامی طور پر کریڈٹ لائن کی ضرورت ہے۔ تاہم مستقبل میں مارکیٹ اور افراط زر کی رپورٹس کے مطابق فیصلے کئے جائیں گے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پالیسی ساز اراکین نے افراط زر 2 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

جیروم پاول کی پریس کانفرنس

فیصلے کے آدھے گھنٹے بعد چیئرمین فیڈرل ریزرو جیروم پاول نے اپنے بیان میں فیصلے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اسے حالات کے مطابق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت اگرچہ افراط زر اہداف سے بہت زیادہ ہے۔ لیکن مختلف عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود میں یہ اضافہ کیا گیا۔

امریکی بینکس اسوقت لیکوئیڈیٹی کے مسائل سے دوچار ہیں۔ جنہیں سپورٹ کی ضرورت ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مستقبل میں اپنے معاشی اہداف، افراط زر کی صورتحال اور لیبر مارکیٹ کنڈیشنز کے مطابق فیصلے کئے جائیں گے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگر بینکنگ بحران نہ وقوع پذیر ہوتا تو شرح سود میں زیادہ اضافہ کیا جاتا لیکن دو ہفتوں کے دوران پیدا ہونیوالی صورتحال سے انہیں اور دیگر اراکین کو اپنا ذہن تبدیل کرنا پڑا۔

مارکیٹ کا ردعمل

اگرچہ شرح سود میں اضافہ توقعات کے مطابق ہے لیکن امریکی ڈالر کے سرمایہ کار 50 بنیادی پوائنٹس کے سابقہ اعلان کے مطابق اضافے کا انتظار کر رہے تھے۔ اس لئے پالیسی ریٹ فیصلے کے بعد امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) میں شدید گراوٹ ریکارڈ کی گئی جبکہ ڈالر کی مدمقابل کرنسیز جارحانہ انداز اختیار کر گئیں۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں یورو (EURUSD) 1.0850 سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ اس سطح پر از میں زبردست خریداری ہو رہی ہے۔ GBPUSD بھی 7 ہفتوں کی بلند ترین سطح 1.2304 سے اوپر پہنچ گیا ہے۔ تاہم حتمی سمت کا تعین دو سے تین گھنٹوں کے بعد کیا جا سکے گا۔ تاہم ابتدائی ردعمل سے امریکی ڈالر بیک فٹ پر چلا گیا ہے۔

اسٹاکس اور کماڈٹیز پر اثرات

مانیٹری پالیسی فیصلے کے بعد امریکی اسٹاکس میں تیزی کی لہر ریکارڈ کی گئی ہے۔ Dow Jones Industrial Average اسوقت 85 پوائنٹس اضافے سے 32655 پر آ گئی ہے۔ جبکہ اس سے قبل انڈیکس منفی ٹرینڈ اختیار کئے ہوئے تھا۔ Nasdaq100 پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انڈیکس 180 پوائنٹس مستحکم ہو کر 12926 پر جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہے دوسری طرف S&P500 اسوقت 36 پوائنٹس کے اضافے سے 4039 پر مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

فیصلے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد گولڈ کی قدر میں 34 ڈالر اضافہ ہوا۔ سنہری دھات 1975 ڈالرز فی اونس پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔ جبکہ پلاٹینیئم 18 ڈالرز تیزی سے 994 ڈالرز پر آ گیا ہے۔ قیمتی دھات پلاڈیئم کی طلب میں 48 ڈالرز اضافہ ہوا ہے۔ جس سے یہ 1455 ڈالرز فی اونس پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔ کروڈ آئل بھی مستحکم نظر آ رہا ہے۔ برینٹ آئل 2 فیصد اضافے سے 76 ڈالرز جبکہ WTI آئل 1.36 ڈالرز اوپر 71 ڈالرز فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے ہیں

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button