Sam Bankman Fried کا نیا دعویٰ، کیا FTX کبھی دیوالیہ نہیں ہوا؟
Disgraced founder blames bankruptcy lawyers, claims assets could be worth over $100 billion today
FTX کے سزا یافتہ بانی Sam Bankman Fried نے حال ہی میں ایک تفصیلی دستاویز سوشل میڈیا پر جاری کی ہے. جس میں انہوں نے دلیل دی ہے. کہ کرپٹو ایکسچینج FTX نومبر 2022 میں دیوالیہ نہیں تھا۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ ایک فنڈز کی کمی (liquidity crisis) تھی. جسے آسانی سے حل کیا جا سکتا تھا. اور صارفین کے تمام فنڈز وقت پر واپس کیے جا سکتے تھے۔
دستاویز کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ FTX کے خاتمے کی وجہ خراب بیلنس شیٹس (Bad Balance Sheets) نہیں. بلکہ وہ دیوالیہ پن کے وکلاء (Bankruptcy Lawyers) تھے جنہوں نے کمپنی کا کنٹرول سنبھالا. اور اسے غیر ضروری دیوالیہ پن کے عمل کی طرف لے گئے. جس سے اثاثوں کی قدر ضائع ہوئی۔
خلاصہ (Key Points)
-
نیا دعویٰ: Sam Bankman Fried نے ایک طویل دستاویز جاری کی ہے. جس میں کہا گیا ہے کہ FTX اپنے 2022 کے بحران کے دوران کبھی دیوالیہ (Insolvent) نہیں ہوا تھا. بلکہ یہ ایک نقد کی کمی (Liquidity Crisis) کا معاملہ تھا۔
-
وکلاء پر الزام: Sam Bankman Fried نے کمپنی کے خاتمے اور صارفین کو ادائیگی میں تاخیر کا ذمہ دار دیوالیہ پن (Bankruptcy) کے وکلاء کو ٹھہرایا ہے. ان پر اثاثوں کو کم قیمت پر بیچنے کا الزام لگایا۔
-
100 ارب ڈالر کا دعویٰ: دستاویز میں قیاس کیا گیا ہے. کہ اگر وکلاء مداخلت نہ کرتے. تو FTX کے اثاثے (جیسے سولانا اور اینتھروپک کے حصص) کی موجودہ قدر 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہو سکتی تھی۔
-
تضاد: یہ دعوے موجودہ مالیاتی فائلوں (Financial Filings) اور امریکی ریگولیٹرز (Regulators) کے الزامات سے واضح طور پر متصادم ہیں. جن کے مطابق Alameda Research نے صارفین کے اربوں ڈالر کا غلط استعمال کیا تھا۔
-
منظر بدلنے کی مہم: اس پوسٹ کو Sam Bankman Fried کی جانب سے اپنی سزا کو نئے سرے سے بیان کرنے اور ممکنہ صدارتی معافی (Presidential Pardon) حاصل کرنے کی ایک وسیع مہم کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Sam Bankman Fried کا نیا "FTX کبھی دیوالیہ نہیں ہوا” کا دعویٰ کیا ہے؟
FTX کے سزا یافتہ بانی Sam Bankman Fried نے حال ہی میں ایک تفصیلی دستاویز سوشل میڈیا پر جاری کی ہے. جس میں انہوں نے دلیل دی ہے. کہ کرپٹو ایکسچینج FTX نومبر 2022 میں دیوالیہ نہیں ہوئی تھی۔
ان کا مؤقف ہے کہ یہ ایک نقد کی کمی (Liquidity Crisis) تھی جسے آسانی سے حل کیا جا سکتا تھا. اور صارفین کے تمام فنڈز وقت پر واپس کیے جا سکتے تھے۔
دستاویز کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ FTX کے خاتمے کی وجہ خراب بیلنس شیٹس نہیں. بلکہ وہ دیوالیہ پن کے وکلاء (Bankruptcy Lawyers) تھے. جنہوں نے کمپنی کا کنٹرول سنبھالا. اور اسے غیر ضروری دیوالیہ پن کے عمل کی طرف لے گئے، جس سے اثاثوں کی قدر ضائع ہوئی۔
Sam Bankman Fried کا دعویٰ ہے کہ FTX دیوالیہ نہیں تھا. بلکہ صرف نقد کی کمی کا شکار تھا. جسے حل کیا جا سکتا تھا۔
ان کے مطابق، FTX کے خاتمے کا سبب دیوالیہ پن کے وکلاء کی جانب سے کمپنی کا کنٹرول سنبھالنا، غلط فیصلہ سازی اور اثاثوں کو کم قیمت پر فروخت کرنا تھا. جس کی وجہ سے صارفین کو ادائیگی میں تاخیر ہوئی. اور کمپنی کی ممکنہ 100 ارب ڈالر سے زائد کی موجودہ قدر ضائع ہوئی۔
اثاثوں کی قدر کا دعویٰ اور فائلوں سے تضاد
SBF کے حسابات کیا ظاہر کرتے ہیں؟
Sam Bankman Fried کی دستاویز مفروضوں پر مبنی مارک-ٹو-مارکیٹ (Mark-to-Market) منافع دکھاتی ہے. جو FTX کے پاس موجود کرپٹو اثاثوں اور منصوبوں میں سرمایہ کاری (Venture Investments) سے حاصل ہوتا۔ خاص طور پر، Solana (سولانا) ٹوکنز اور Anthropic (اینتھروپک) کے حصص میں ممکنہ اضافے کی بنیاد پر، وہ اشارہ دیتے ہیں. کہ اگر وکلاء نے مداخلت نہ کی ہوتی. تو FTX کے اثاثوں کی موجودہ قدر 100 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی تھی۔
یہ دعویٰ مالیاتی حقائق سے کیوں نہیں ملتا؟
-
قانونی موقف: FTX کو دیوالیہ پن میں لے جانے والے جان جے رے III (John J. Ray III) نے کہا ہے کہ کمپنی کے مالیاتی کنٹرول کی ناکامی "ناقابلِ مثال” تھی. اور کمپنی اربوں ڈالر کے خسارے (Shortfall) میں تھی۔
-
کسٹمر فنڈز کا غلط استعمال: استغاثہ (prosecution) اور دیوالیہ پن کی ٹیم دونوں نے ثابت کیا. کہ Alameda Research (الامیڈا ریسرچ) نے صارفین کے فنڈز کو خفیہ طور پر استعمال کیا، جو کہ FTX کی سروس کی شرائط (terms of service) کی خلاف ورزی تھی۔ یہ دراصل دیوالیہ ہونے (Insolvency) کی تعریف میں آتا ہے. نہ کہ محض فنڈز کی کمی۔
-
مارک-ٹو-مارکیٹ کا مسئلہ: Sam Bankman Fried کے حسابات قیاس پر مبنی ہیں۔ وہ مارکیٹ کی اونچی قدر (Hypothetical High Value) دکھاتے ہیں. جو "اگر” مارکیٹ بہتر ہوتی. اور اثاثے فروخت نہ کیے جاتے تو ہوتی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ بحران کے وقت صارفین کو ادائیگی کے لیے نقد (cash) موجود نہیں تھا. اور یہی اصل مالیاتی مسئلہ تھا۔
ایک عشرے سے مالیاتی مارکیٹ میں کام کرنے کے بعد، میں نے دیکھا ہے کہ بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی (Fraud) میں ملوث لوگ اکثر ذمہ داری سے بچنے کے لیے "لیکویڈیٹی کرائسس” کی دلیل استعمال کرتے ہیں۔
دیوالیہ ہونے کی تعریف (Definition of Insolvency) سادہ ہے. جب آپ اپنے واجبات (Liabilities) کو پورا کرنے کے لیے اثاثوں (assets) کو نقد میں تبدیل کرنے سے قاصر ہوں۔ SBF کے کیس میں، مسئلہ یہ تھا. کہ Alameda کو صارفین کے فنڈز میں "خفیہ بیک ڈور” دیا گیا تھا۔ یہ
محض ایک خراب کاروباری فیصلہ یا لیکویڈیٹی کرائسس نہیں تھا. یہ کسٹمر فنڈز کی گمشدگی تھی۔ حقیقی کرپٹو ونٹر (crypto winter) میں، اثاثوں کی قیمتیں گر جاتی ہیں. اور جن اثاثوں پر آپ مارک-ٹو-مارکیٹ منافع کا دعویٰ کر رہے ہیں. ان کی فروخت مشکل اور نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
Sam Bankman Fried کے حسابات ایک کاغذی امیری (Paper wealth) کی کہانی سناتے ہیں. جو حقیقی ادائیگیوں کے دباؤ کے سامنے کبھی کھڑی نہیں ہو سکی۔
صدارتی معافی اور امیج کی تبدیلی کی مہم.
Sam Bankman Fried کا مقصد کیا ہے؟
اس طرح کی طویل اور متنازعہ دستاویز پوسٹ کرنے کا بڑا مقصد صرف اپنی بے گناہی ثابت کرنا نہیں ہے۔ یہ Sam Bankman Fried کی جانب سے اپنی عوامی تصور کو بدلنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ چونکہ وہ اپنی سزا کی اپیل کر رہے ہیں. اور ان کے والدین اور قانونی اتحادی مبینہ طور پر صدارتی معافی (Presidential Pardon) کے لیے لابنگ کر رہے ہیں. اس لیے اس طرح کی پوسٹس ایک سیاسی بیانیہ قائم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔
-
ہمدردی حاصل کرنا: وہ اپنے آپ کو ایک "غلط سمجھے گئے” یا "بے قصور شکار" کے طور پر پیش کر رہے ہیں. جس کے خلاف بدعنوان وکلاء اور نظام نے سازش کی۔
-
مارکیٹ کی توقعات: پیش گوئی مارکیٹ ٹریڈرز (Prediction Market Traders) فی الحال انہیں صدارتی معافی ملنے کا بہت کم موقع دے رہے ہیں۔ یہ دستاویز ان مشکلات کو تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتی ہے۔
مالیاتی مارکیٹ کے ٹریڈرز اس طرح کے دعوؤں کو کیسے دیکھتے ہیں؟
تجربہ کار مالیاتی مارکیٹ کے ٹریڈرز اس طرح کے دعوؤں کو احتیاط اور گہری جانچ کے ساتھ دیکھتے ہیں۔
-
دھوکہ دہی پر توجہ: مارکیٹ ہمیشہ اس بات پر توجہ دیتی ہے کہ کمپنی کے مالیاتی نظام (Financial Controls) اور گورننس (Governance) میں کیا خرابی تھی۔ FTX کا بنیادی مسئلہ ٹیکنیکل کرائسس نہیں تھا. بلکہ اعتماد کی خلاف ورزی (Breach of Trust) اور سسٹمیٹک دھوکہ دہی (systematic fraud) تھا۔
-
مارکیٹ کا ردعمل: اس طرح کے متنازعہ بیانات قلیل مدتی (Short-Term) خبروں کا شور پیدا کر سکتے ہیں. لیکن وہ کسی کرپٹو ٹوکن (جیسے FTT) کی قدر کو اس وقت تک مستقل طور پر متاثر نہیں کرتے. جب تک کہ دیوالیہ پن کی کارروائی میں کوئی ٹھوس، قانونی تبدیلی نہ آئے۔
-
تاریخی تناظر: جب بھی کوئی بڑا مالیاتی بحران (Financial Crisis) یا دھوکہ دہی کا معاملہ سامنے آتا ہے. تو ذمہ دار فرد کی جانب سے ہمیشہ الزام دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس کیس کے مارکیٹ پر کیا وسیع تر اثرات ہیں؟
FTX کا کیس اب صرف ایک کمپنی کی ناکامی نہیں رہا۔ یہ ایک ضابطہ کار بیداری بن گیا ہے۔
-
ضابطہ کاری کی سختی: اس کیس نے کرپٹو اثاثوں اور ایکسچینجز پر زیادہ سخت ضوابط کی ضرورت کو بڑھا دیا ہے. خاص طور پر کسٹمر فنڈز کی علیحدگی کے حوالے سے۔
-
رسک مینجمنٹ پر زور: یہ واقعہ مالیاتی اداروں کو یہ یاد دلاتا ہے کہ اندرونی کنٹرولز اور رسک مینجمنٹ صرف ایک خانہ پُر کرنے کی چیز نہیں، بلکہ آپریٹنگ لائسنس کی بنیاد ہیں۔
پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے عملی حکمت عملی.
چاہے آپ کرپٹو میں ہوں یا روایتی اسٹاک مارکیٹ میں، دھوکہ دہی اور لیکویڈیٹی کے مسائل کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ایک تجربہ کار سرمایہ کار کے طور پر، ان نکات پر عمل کریں:
| نکتہ (Point) | وضاحت (Explanation) |
| اثاثوں کی علیحدگی (Asset Segregation) | اپنے تمام کرپٹو اثاثوں کو ایک مرکزی ایکسچینج (centralized exchange) میں نہ رکھیں۔ زیادہ تر رقم کو اپنے نجی کرپٹو بٹوے (private crypto wallet – hardware or cold wallet) میں محفوظ رکھیں۔ ایکسچینج میں صرف وہی رقم رکھیں. جو آپ ٹریڈنگ (trading) کے لیے استعمال کر رہے ہوں۔ |
| دستیابی کی جانچ (Due Diligence) | کسی بھی پلیٹ فارم پر سرمایہ کاری کرنے سے پہلے اس کی ریگولیٹری حیثیت (regulatory status) ، سیکیورٹی کے اقدامات، اور ان کے کاروباری ماڈل (business model) کو سمجھیں۔ اگر کوئی چیز بہت اچھی لگ رہی ہے. تو وہ اکثر حقیقت نہیں ہوتی۔ |
| پورٹ فولیو کی تنوع (Portfolio Diversification) | تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہ رکھیں۔ کرپٹو کے علاوہ اسٹاکس، بانڈز، اور دیگر اثاثہ جات کی کلاسز (asset classes) میں بھی سرمایہ کاری کریں۔ ایک ناکامی آپ کے پورے سرمائے کو ختم نہیں کر سکے گی۔ |
| لیکویڈیٹی کا انتظام (Managing Liquidity) | ہمیشہ اپنی مارکیٹ پوزیشنز کو اس طرح سے منظم کریں کہ اگر آپ کو اچانک فنڈز نکالنے پڑیں. (لیکویڈیٹی کرائسس)، تو آپ نقصان اٹھائے بغیر ایسا کر سکیں۔ زیادہ لیوریج (high leverage) سے گریز کریں۔ |
نتیجہ اور ایکسپرٹ کا حتمی تبصرہ
سیم بینکمن-فریڈ کا نیا دستاویز قانونی اور عوامی دونوں محاذوں پر ایک جذباتی اپیل ہے۔ مالیاتی مارکیٹوں کے ایک پرانے کھلاڑی کے طور پر، میرا مشورہ یہ ہے کہ اس دعوے کو صرف ایک قانونی دفاعی حکمت عملی کے طور پر دیکھیں. نہ کہ FTX کی اصل مالیاتی حالت پر حتمی سچائی کے طور پر۔
حقیقی بصیرت (The Real Insight): دیوالیہ پن (Bankruptcy) کی کارروائیاں اثاثوں کی قدر کو کم کر سکتی ہیں. اس میں کوئی شک نہیں، لیکن یہ وکلاء نہیں تھے جنہوں نے سب سے پہلے صارفین کے فنڈز کو Alameda میں منتقل کیا. اور اس طرح مالیاتی سوراخ (Financial Hole) پیدا کیا۔
یہی FTX کے خاتمے کی بنیادی وجہ تھی۔ ایک کامیاب اور ذمہ دار مالیاتی کمپنی کا بنیادی اصول یہ ہے. کہ وہ ہر حالت میں اپنے صارفین کے فنڈز کی حفاظت کرے۔ SBF کے دعوے اس بنیادی اخلاقی اور قانونی فرض کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔
اس کیس سے مالیاتی دنیا کو یہ سبق ملتا ہے. کہ جدید ٹیکنالوجی بھی پرانے زمانے کے دھوکہ دہی (Old-Fashioned Fraud) کو چھپا نہیں سکتی۔ ہمیں کرپٹو کی طاقت پر یقین رکھنا چاہیے. لیکن اپنے پیسے کو صرف قابلِ اعتماد اصولوں (Trustworthy Principles) پر چلنے والے پلیٹ فارمز پر ہی لگانا چاہیے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ FTX کے اثاثوں کی اصل قدر کو وکلاء نے ضائع کیا. یا یہ صرف ایک جرم چھپانے کی کوشش ہے؟
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



