Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
پاکستان معیشت

Iris Portal پر تیکنیکی مشکلات، FPCCI کا انکم ٹیکس ریٹرن کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کا مطالبہ

★اہم نکات

  • •توسیع کا مطالبہ: ایف پی سی سی آئی (FPCCI) نے ایف بی آر (FBR) سے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست کی ہے۔
  • •ڈیجیٹل مسائل: ایف بی آر کے آئی رس (IRIS) پورٹل پر شدید ٹریفک، سست روی اور بار بار سسٹمز کریش ہونے کی وجہ سے ریٹرن بروقت جمع نہیں ہو پا رہے۔
  • •معاشی دباؤ: مہنگائی اور آپریٹنگ لاگت میں اضافے کے درمیان کاروباری طبقے کے لیے مالیاتی آڈٹ اور دستاویزات کو وقت پر مکمل کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
  • •حکومتی ہدف: تاریخ میں توسیع سے ٹیکس دہندگان کو جریمانوں سے بچایا جا سکے گا اور حکومت کے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
Adeel khalid
Adeel khalid ←

58 مشاہدات

پاکستان کا قومی پرچم، ایف بی آر اور ٹیکس نظام کی نمائندگی کرتی عمارت، کاروباری افراد، ٹیکس دستاویزات، کیلکولیٹر اور مالیاتی ریکارڈ کی عکاسی کرتی ہوئی تصویر۔
پاکستان کا قومی پرچم، ایف بی آر اور ٹیکس نظام کی نمائندگی کرتی عمارت، کاروباری افراد، ٹیکس دستاویزات، کیلکولیٹر اور مالیاتی ریکارڈ کی عکاسی کرتی ہوئی تصویر۔

پاکستان کی کاروباری اور تجارتی کمیونٹی ہر سال ستمبر کے آخری ہفتے میں ایک عجیب ہی ذہنی کشمکش کا شکار ہوتی ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن (Income Tax Return) جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے۔ اس وقت FBR کا مقرر کردہ روایتی وقت ختم ہونے کے قریب ہے، لیکن ڈیجیٹل سسٹم کی خرابیوں اور تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے ہزاروں ٹیکس دہندگان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

یہ محض تاریخ بڑھانے کی کوئی معمولی درخواست نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) اور ٹیکس گزاروں کی ایک بنیادی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس تعمیل (Tax Compliance) کو یقینی بنایا جا سکے اور معیشت کے اس اہم پہیے کو بغیر کسی رکاوٹ کے چلایا جا سکے آخری تاریخ تک۔

ایف بی آر کا IRIS Portal اور تکنیکی مشکلات

ایف بی آر کے آئیرس (IRIS) سسٹم پر بیک وقت لاکھوں صارفین کی موجودگی، ناکافی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اور پیچیدہ قانون سازی کی وجہ سے پورٹل آخری تاریخوں کے قریب اکثر بیٹھ جاتا ہے یا سست ہو جاتا ہے۔ اس سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور ٹیکس وکلاء کے لیے اپنے کلائنٹس کے گوشوارے درست طریقے سے جمع کرانا ناممکن ہو جاتا ہے۔

کسی بھی مالیاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی اس کا تکنیکی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ فنانشل مارکیٹس اور ٹیکنالوجی کے توازن کا طویل مشاہدہ یہ سکھاتا ہے کہ جب بھی کوئی نظام اپنی صلاحیت سے زیادہ بوجھ اٹھاتا ہے، تو سسٹم کے کریش ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ FBR کا IRIS پورٹل ہر سال ستمبر کے آخری ہفتے میں اس بحران کا شکار ہوتا ہے۔

FPCCI نے درست نشاندہی کی ہے کہ کاروباری افراد اور کارپوریٹ ادارے اپنی قومی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن انہیں ڈیجیٹل ناکامیوں اور سسٹمز کے بار بار بیٹھ جانے کی وجہ سے جرمانے کا نشانہ بنانا سراسر ناانصافی ہے۔ جب ایک ٹیکس دہندہ پورٹل پر گھنٹوں لاگ ان کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بار بار "Error 504" یا سرور ڈاؤن کا سامنا کرتا ہے، تو اس کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے۔

تجارت اور مارکیٹ کے تجزیے کے دوران ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ جب ڈیجیٹل انفراسٹرکچر صارف کی طلب کا ساتھ نہیں دیتا، تو مارکیٹ میں غیر یقینی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح، جب ٹیکس پروفیشنلز کو آخری تاریخ کے قریب تکنیکی دیواروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو یہ صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ پورے ملک کی تجارتی سرگرمیوں کو سست کر دیتا ہے۔

ٹیکس قوانین کی پیچیدگیاں

حال ہی میں ٹیکس کوڈ اور گوشواروں کی رپورٹنگ میں کی جانے والی پیچیدہ تبدیلیوں کی وجہ سے عام تاجروں اور چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے ٹیکس قوانین کو سمجھنا مشکل ہو گیا ہے۔ Wealth Reconciliation میں غلطیوں سے بچنے کے لیے اضافی وقت کی اشد ضرورت ہے۔

مالیاتی سال کے دوران حکومت کی جانب سے ٹیکس اصلاحات اور نئے قوانین کا نفاذ بلاشبہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے ہوتا ہے، لیکن زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ SMEs پہلے ہی بلند شرحِ سود، افراط زر اور توانائی کے بھاری بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ان کے لیے اپنے مالیاتی آڈٹ کو چند دنوں میں حتمی شکل دینا ایک کٹھن مرحلہ بن جاتا ہے۔

جب قوانین میں مسلسل پیچیدگیاں لائی جائیں، تو عام کاروباری افراد کے لیے خود سے ریٹرن فائل کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ انہیں ماہر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس یا ٹیکس کنسلٹٹس کی خدمات درکار ہوتی ہیں، اور جب وہ پروفیسرز بھی سسٹم کے بوجھ تلے دبے ہوں، تو تاخیری جرمانے کا خوف تاجروں کو ذہنی تناؤ میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اختتامیہ

حکومت اور ایف بی آر کو چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے کاروباری برادری کی اس منصفانہ پکار کو سنیں اور ایف پی سی سی آئی کی تجویز کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ کو 31 اکتوبر تک بڑھانے کا اعلان کریں۔

فنانشل مارکیٹس اور معیشت کی ترقی کا انحصار پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے باہمی تعاون پر ہے۔ ایک لچکدار اور معاون رویہ نہ صرف ٹیکس وصولی کے اہداف کو بہتر طریقے سے پورا کرے گا بلکہ ملک میں کاروباری اعتماد کو بھی فروغ دے گا۔ آپ کا اس حوالے سے کیا خیال ہے؟ کیا FBR کو سسٹم کی خرابیوں کے مدنظر تاریخ میں توسیع کرنی چاہیے؟ ہمیں نیچے کمنٹس سیکشن میں ضرور بتائیں۔

Source: Pakistan Chamber of Commerce FPCCI Urges FBR to Extend Income Tax Return Filing Deadline Atif Ikram Sheikh, President FPCCI – FPCCI

اہم وضاحت

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور Market Information صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Adeel khalid

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں