Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
پاکستان معیشت

پاکستان میں مہنگائی دوبارہ 11 فیصد سے اوپر: کیا ڈس انفلیشن کا عمل کمزور پڑ رہا ہے؟

اہم نکات

  • ہیڈ لائن مہنگائی: قومی سالانہ CPI جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ رفتار 1.2 فیصد رہی۔
  • بیس ایفیکٹ اور اصل دباؤ: اگست 2025 کی کم بنیاد نے سالانہ شرح کو اوپر دھکیلنے میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن ماہانہ 1.2 فیصد اور WPI میں 2.0 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تازہ دباؤ موجود ہے۔
  • دیہی آبادی پر زیادہ بوجھ: دیہی مہنگائی 12.2 فیصد رہی جبکہ شہری مہنگائی 10.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ دیہی کنزمپشن باسکٹ میں اشیائے خورونوش کا زیادہ وزن ہے۔
  • اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی: 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.1 فیصد ہیڈ لائن CPI کے درمیان حقیقی شرحِ سود کا فرق سکڑ کر محض 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے، جس نے 14 ستمبر کے MPC اجلاس میں شرحِ سود میں فوری کٹوتی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔
Muhammad Azhar Saleem
Muhammad Azhar Saleem

پاکستان میں اگست 2026 کی مہنگائی، خوراک اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، دیہی دباؤ اور اسٹیٹ بینک کی محدود شرحِ سود گنجائش کی تصویر۔
پاکستان میں سالانہ CPI مہنگائی اگست 2026 میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ خوراک، ٹرانسپورٹ اور تھوک قیمتوں کے دباؤ نے فوری شرحِ سود میں کمی کے امکانات محدود کر دیے۔

پاکستان میں اگست 2026 کے دوران مہنگائی کی رفتار ایک بار پھر نمایاں طور پر تیز ہوئی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق قومی کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) سالانہ بنیاد پر 11.1 فیصد بڑھا، جبکہ جولائی میں یہ شرح 9.2 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیاد پر قیمتوں میں مسلسل دوسرے مہینے 1.2 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خوراک، ایندھن اور تھوک قیمتوں میں دباؤ کے ساتھ دیہی مہنگائی شہری علاقوں کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ رہی، جس سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کیا ملک میں مہنگائی میں کمی کا سابقہ رجحان (Disinflation Process) عارضی طور پر تعطل کا شکار ہو رہا ہے؟

معاشی اشاریہ (Indicator)

اگست 2026

جولائی 2026

بنیادی مارکیٹ اشارہ

قومی CPI (سالانہ / YoY)

11.1%

9.2%

مہنگائی کی شرح دوبارہ دو ہندسوں (Double Digits) میں داخل

قومی CPI (ماہانہ / MoM)

1.2%

1.2%

مسلسل دوسرے ماہ قیمتوں کی بلند رفتار برقرار

شہری CPI (سالانہ / YoY)

10.4%

8.7%

شہری اخراجات میں واضح اضافہ

دیہی CPI (سالانہ / YoY)

12.2%

9.9%

دیہی علاقوں میں اشیائے خورونوش پر شدید دباؤ

دیہی CPI (ماہانہ / MoM)

1.6%

1.2%

دیہی اشاریے میں شہری علاقوں (0.9%) سے زیادہ تیزی

شہری کور مہنگائی (NFNE YoY)

8.8%

8.6%

غیر غذائی و غیر توانائی بنیادی مہنگائی بدستور بلند

دیہی کور مہنگائی (NFNE YoY)

8.5%

8.1%

دیہی کور انفلیشن میں اضافہ

شہری ٹرمڈ مین (Trimmed YoY)

8.9%

7.5%

بنیادی قیمتوں کا دباؤ وسیع بنیادوں پر پھیلنے کا ثبوت

تھوک قیمتوں کا انڈیکس (WPI YoY)

11.8%

9.4%

پروڈکشن چین میں لاگت کا تیز دباؤ (Upstream Pressure)

تھوک قیمتوں کا انڈیکس (WPI MoM)

2.0%

~0.0%

تھوک سطح پر قیمتوں کی غیر معمولی ماہانہ چھلانگ

پاکستان میں جولائی اور اگست 2026 کی CPI مہنگائی کا موازنہ، قومی سالانہ مہنگائی 9.2 فیصد سے 11.1 فیصد، شہری 8.7 سے 10.4 فیصد اور دیہی 9.9 سے 12.2 فیصد ہوگئی

اگست کی 1.2 فیصد ماہانہ مہنگائی کہاں سے آئی؟

اس رپورٹ کا سب سے اہم پہلو سالانہ 11.1 فیصد کا ہیڈ لائن نمبر نہیں بلکہ 1.19 فیصد کا ماہانہ اضافہ ہے، کیونکہ یہی مارکیٹ میں قیمتوں کی اصل رفتار (Price Momentum) کو ظاہر کرتا ہے۔

پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق:

  1. خوراک و غیر الکوحل مشروبات: اس گروپ میں قیمتیں ایک ماہ کے دوران 1.66 فیصد بڑھیں، جس نے مجموعی قومی CPI میں تقریباً 0.60 پرسنٹیج پوائنٹ کا حصہ ڈالا۔ یعنی ماہانہ مہنگائی کا تقریباً نصف بوجھ صرف خوراک سے آیا۔ جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا (Perishable Food Items) میں ماہانہ اضافہ 4.42 فیصد رہا۔

  2. ٹرانسپورٹ انڈیکس: پیٹرولیم مصنوعات اور کرایوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ایک ماہ کے دوران 3.41 فیصد اضافہ ہوا، جس نے مجموعی CPI میں 0.25 پرسنٹیج پوائنٹ کا اضافہ کیا۔

  3. ہاؤسنگ، پانی، بجلی اور گیس: اس گروپ نے تقریباً 0.12 پرسنٹیج پوائنٹ جبکہ متفرق اشیا و خدمات (Miscellaneous) نے مزید 0.11 پرسنٹیج پوائنٹ کا حصہ ڈالا۔

یہ تفریق ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ مہنگائی محض ایک یا دو سبزیوں کی موسمی قلت تک محدود نہیں، بلکہ اس کا دائرہ ٹرانسپورٹ، ہاؤسنگ اور سروسز تک پھیل چکا ہے۔

اگست 2026 میں پاکستان کی ماہانہ CPI مہنگائی کے بڑے محرکات، خوراک نے 0.60، ٹرانسپورٹ نے 0.25 اور ہاؤسنگ و ایندھن نے 0.12 فیصد پوائنٹس کا حصہ ڈالا

دیہی مہنگائی 12.2 فیصد کیوں سنگین تشویش کا باعث ہے؟

اگست میں شہری CPI سالانہ 10.4 فیصد کے مقابلے میں دیہی CPI کا 12.2 فیصد تک پہنچنا ایک تشویشناک پیش رفت ہے۔ ماہانہ بنیاد پر بھی شہری قیمتوں میں 0.9 فیصد اضافے کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں قیمتیں 1.6 فیصد بڑھیں۔

اس فرق کی سب سے بڑی وجہ کنزمپشن باسکٹ کی ساخت ہے۔ دیہی گھرانوں کے بجٹ میں خوراک کا وزن شہری علاقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ پی بی ایس کے مطابق دیہی غذائی اشاریے میں ایک ماہ کے دوران 2.31 فیصد کا اضافہ ہوا، جس میں گندم، آٹا، خوردنی تیل، گوشت اور دودھ جیسی بنیادی ضرورت کی اشیا شامل ہیں۔ چنانچہ دیہی مہنگائی محض ایک معاشی ہندسہ نہیں بلکہ حقیقی قوتِ خرید (Purchasing Power) کا سنگین بوجھ بن چکی ہے۔

کور مہنگائی (Core Inflation) اور ٹرمڈ مین کے اشارے

خوراک اور ایندھن جیسی غیر مستحکم قیمتوں کو نکال کر دیکھا جائے تو شہری علاقوں میں نان-فوڈ نان-انرجی (NFNE) کور انفلیشن اگست میں 8.8 فیصد رہی، جو جولائی میں 8.6 فیصد تھی۔ اسی طرح دیہی کور انفلیشن 8.1 فیصد سے بڑھ کر 8.5 فیصد ہو گئی۔

سب سے زیادہ چونکا دینے والا اشاریہ 20 فیصد ٹرمڈ-مین (Trimmed-Mean) ہے، جہاں سب سے زیادہ اتار چڑھاؤ والی اشیا کو منہا کرنے کے بعد شہری سطح پر مہنگائی 7.5 فیصد سے بڑھ کر 8.9 فیصد اور دیہی سطح پر 8.0 فیصد سے بڑھ کر 9.1 فیصد ہو گئی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معیشت میں اندرونی سطح پر قیمتوں کے جمود (Price Stickiness) کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

پاکستان میں اگست 2026 کی core inflation اور WPI، شہری NFNE 8.8 فیصد، دیہی NFNE 8.5 فیصد، trimmed inflation 8.9 اور 9.1 فیصد جبکہ WPI 11.8 فیصد

WPI کا 11.8 فیصد تک پہنچنا کیوں زیادہ اہم ہے؟

اگست میں Wholesale Price Index سالانہ 11.82 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر تقریباً 2.0 فیصد بڑھا۔ جولائی میں سالانہ WPI 9.4 فیصد پر تھا جبکہ ماہانہ سطح مکمل طور پر ساکت تھی۔

تھوک قیمتیں فیکٹری اور فارم گیٹ سے ریٹیل دکانوں تک پہنچنے والی قیمتوں کا ایڈوانس سگنل فراہم کرتی ہیں۔ سالانہ بنیاد پر گندم کی تھوک قیمت میں تقریباً 92.6 فیصد، آٹے میں 74.1 فیصد، مٹی کے تیل میں 62.8 فیصد، ڈیزل میں 46 فیصد اور موٹر اسپرٹ میں 27 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اگر تقسیم کار اور صنعتی کمپنیاں ان اخراجات کو صارفین پر منتقل کرتی ہیں، تو آنے والے مہینوں میں CPI پر اضافی دباؤ متوقع ہے۔

کیا سارا اضافہ صرف بیس ایفیکٹ (Base Effect) ہے؟

قطعاً نہیں؛ اگرچہ بیس ایفیکٹ نے سالانہ شرح کو بڑھانے میں ریاضیاتی کردار ادا کیا ہے، لیکن اصل تشویش قیمتوں کی موجودہ رفتار ہے۔

اگست 2025 میں قومی CPI میں ماہانہ 0.6 فیصد کی غیر معمولی کمی ریکارڈ ہوئی تھی۔ چنانچہ اگست 2026 کا انڈیکس پچھلے سال کی ایک غیر معمولی کم بنیاد سے ناپا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے سالانہ شرح فوری طور پر 9.2 سے چھلانگ لگا کر 11.1 فیصد نظر آئی۔

لیکن اگر مسئلہ محض بیس ایفیکٹ ہوتا تو ماہانہ مہنگائی سست ہونی چاہیے تھی۔ اگست 2026 میں 1.2 فیصد کا مسلسل دوسرا ماہانہ اضافہ اور تھوک منڈی میں 2 فیصد کا جمپ واضح کرتا ہے کہ مارکیٹ میں نئی قیمتوں کا دباؤ مکمل طور پر فعال ہے۔

تازہ ترین ہفتہ وار SPI کیا اشارہ دے رہا ہے؟

اگست کے CPI ڈیٹا کے بعد حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) نے بھی قیمتوں کے گرم رہنے کی تصدیق کی ہے۔ پی بی ایس کے مطابق 3 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ہفتہ وار SPI میں 0.65 فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔

پیاز کی قیمت میں ایک ہفتے میں 26.3 فیصد، ٹماٹر میں 2.55 فیصد، پیٹرول میں 0.90 فیصد اور آٹے میں 0.88 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سب سے کم آمدنی والے طبقے (Lowest Expenditure Quintile) کے لیے SPI میں 0.91 فیصد کا اضافہ ہوا، جو ظاہر کرتا ہے کہ نچلے طبقات پر مہنگائی کا بوجھ قومی اوسط سے زیادہ ہے۔

3 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں پاکستان SPI 0.65 فیصد بڑھا، کم آمدنی والے گروپ میں اضافہ 0.91 فیصد اور پیاز کی قیمت 26.30 فیصد بڑھی

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کا پالیسی ریٹ اس وقت 11.5 فیصد پر ہے اور مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا اگلا اجلاس 14 ستمبر 2026 کو شیڈول ہے۔

جولائی کے مانیٹری پالیسی بیان میں مرکزی بینک نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ اجناس کی عالمی قیمتوں اور اندرونی ان پٹ لاگت کی وجہ سے مہنگائی قلیل مدت کے لیے درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے اوپر رہ سکتی ہے، جبکہ مالی سال 27 کے لیے اوسط افراطِ زر کا تخمینہ 5.5 سے 7.5 فیصد رکھا گیا ہے۔

  • اسپاٹ رئیل انٹرسٹ ریٹ کا سکڑنا: جولائی میں 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 9.2 فیصد CPI کے درمیان مثبت رئیل ریٹ 2.3 فیصد (230 bps) تھا، جو اب سکڑ کر صرف 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے۔

  • پالیسی ریٹ کا فیصلہ: مرکزی بینک اگرچہ دور رس تخمینوں اور اوسط مہنگائی کو مدنظر رکھتا ہے، لیکن اگر ماہانہ قیمتوں کی رفتار 1 فیصد سے زیادہ برقرار رہی تو ڈس انفلیشن کا ہدف خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس صورتحال نے 14 ستمبر کے اجلاس میں فوری ریٹ کٹ (Rate Cut) کے امکانات کو انتہائی محدود کر دیا ہے اور پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے (Status Quo) کا کیس مضبوط ترین ہو چکا ہے۔

بانڈ ییلڈز اور روپے پر اثرات؟

  1. بانڈ مارکیٹ اور ییلڈز (PIBs & T-Bills): اگر فکسڈ انکم مارکیٹ شرحِ سود میں فوری کمی کو قیمتوں میں شامل (Priced-in) کر رہی تھی، تو اگست کا ڈیٹا اس سوچ کو بریک لگائے گا۔ ٹریژری بلز اور شارٹ ٹرم بانڈز کی ییلڈز میں کمی رک سکتی ہے اور سرمایہ کار مستقبل میں مہنگائی کے پیشِ نظر ییلڈز پر زیادہ پریمیم طلب کر سکتے ہیں۔

  2. پاکستانی روپیہ (USD/PKR): اگرچہ بلند مہنگائی طویل مدت میں روپے کی قوتِ خرید کو نقصان پہنچاتی ہے، لیکن اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرحِ سود میں کمی کو مؤخر کرنے اور پالیسی کو سخت رکھنے سے قلیل مدت میں روپے کو کیری ٹریڈ اور انٹرسٹ ریٹ سپورٹ فراہم ہو گی۔

نتیجہ: کیا ڈس انفلیشن کا سفر ختم ہو گیا ہے؟

ابھی یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ پاکستان کا ڈس انفلیشن سائیکل ختم ہو چکا ہے۔ تاہم اگست کا ڈیٹا ایک واضح الرٹ جاری کرتا ہے کہ قیمتوں کا دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

آنے والے دو مہینوں (ستمبر اور اکتوبر) کا ڈیٹا فیصلہ کن ہوگا۔ اگر ماہانہ رفتار واپس 0.5 فیصد سے نیچے آتی ہے اور زرعی سپلائی بحال ہوتی ہے تو سالانہ شرح کا بڑا حصہ محض عارضی بیس ایفیکٹ ثابت ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، اگر ماہانہ رفتار 1 فیصد سے بلند رہی اور WPI کا دباؤ ریٹیل شیلف تک منتقل ہوتا رہا، تو اسٹیٹ بینک کو مانیٹری نرمی کی پالیسی کو طویل عرصے کے لیے روکنا پڑے گا۔

📰 مزید پڑھیں: پاکستان کا تجارتی خسارہ 18 فیصد بڑھ گیا, Imports کی تیز رفتار واپسی

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
Muhammad Azhar Saleem

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

محمد اظہر سلیم UrduMarkets کے بانی، مالیاتی منڈیوں کے تجربہ کار تجزیہ کار اور مارکیٹ سائیکالوجی ریسرچر ہیں۔ ان کا کیریئر تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہے، جس کا آغاز انہوں نے امریکی ایکسچینجز سے منسلک بروکرز کے ریجنل نمائندے کے طور پر کیا۔ ان کی بنیادی مہارت technical analysis، fundamental analysis، intermarket relati...

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں