سیکورتی مسائل سے ریکوڈک منصوبے کی پیداوار 2030 تک مؤخر ہونے کا خدشہ
★اہم نکات
- •پیداوار کا نیا ہدف: ریکو ڈک منصوبے سے پیداوار کا آغاز 2028 کے بجائے 2030 تک مؤخر ہونے کا خدشہ ہے، جس کی بنیادی وجوہات بلوچستان میں سیکیورٹی چیلنجز اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال ہیں۔
- •Barrick Mining کی حکمت عملی: کینیڈین کمپنی نے منصوبے کی داخلی جانچ شروع کر رکھی ہے اور مکمل تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے وسط 2027 کو ممکنہ ہدف قرار دیا جا رہا ہے۔
- •موجودہ سرمایہ کاری: منصوبے میں اب تک تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے، جبکہ پہلے مرحلے کی لاگت بڑھ کر 5.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
- •مجموعی لاگت: پہلے اور دوسرے مرحلے کو ملا کر منصوبے پر تقریباً 9.1 ارب ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
- •اضافی اخراجات کا خدشہ: صنعت سے وابستہ بعض حلقوں کے مطابق تاخیر سے لاگت میں 8 سے 10 ارب ڈالر تک اضافے کا خطرہ ہے، جبکہ دوسرے ماہرین اس اضافے کو 450 سے 900 ملین ڈالر تک محدود رہنے کی توقع رکھتے ہیں۔
- •روزگار کا تحفظ: منصوبے کے تقریباً 700 مستقل اور 2,000 کنٹریکٹ ملازمین بدستور کام کر رہے ہیں، جبکہ مکمل تعمیراتی مرحلے میں 7,500 ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
- •پاکستان کے لیے طویل مدتی فائدہ: منصوبے کی 37 سالہ مدت میں ممکنہ Free Cash Flow تقریباً 74 ارب ڈالر تخمینہ کیا گیا ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے تانبے اور سونے کے منصوبے Reko Diq سے پیداوار کا آغاز مزید دو سال تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں منصوبے کی ابتدائی 2028 کی ڈیڈ لائن تبدیل ہو کر 2030 تک پہنچنے کا امکان ہے۔ بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کے غیر یقینی حالات نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو منصوبے کی تعمیر اور سرمایہ کاری کے شیڈول پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
تاہم، تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، اربوں ڈالر کی متوقع آمدنی اور پاکستان کے معدنی وسائل سے وابستہ طویل مدتی امکانات اس منصوبے کو بدستور اہم بنائے ہوئے ہیں۔
بلوچستان میں سیکیورٹی مسائل اور Reko Diq منصوبے کے پیداواری اہداف
Reko Diq Project کی ابتدائی منصوبہ بندی کے مطابق 2028 میں پیداوار شروع ہونا تھی، لیکن بلوچستان میں مسلسل سیکیورٹی خدشات اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے اس ٹائم لائن کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ طویل مدتی سرمایہ کاری ہے، جس میں اربوں ڈالر کے سرمائے، جدید مشینری، تکنیکی مہارت اور بین الاقوامی سپلائی چین کی ضرورت ہے۔
ایسے حالات میں کسی بھی بڑے معدنی منصوبے کی تعمیر جاری رکھنے کے لیے سیکیورٹی اور آپریشنل تسلسل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے سرمایہ کار اب مکمل تعمیراتی سرگرمیوں کی رفتار بڑھانے سے پہلے حالات میں بہتری کے منتظر ہیں۔
رپورٹس کے مطابق Barrick Mining نے فروری 2026 میں منصوبے کا باقاعدہ جائزہ شروع کیا تھا اور ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار کم کرتے ہوئے اپنی داخلی جانچ کا دورانیہ 2027 کے آغاز تک بڑھا دیا تھا۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے بھی واضح کیا تھا کہ مکمل تعمیراتی شیڈول پر عمل درآمد کے لیے سیکیورٹی صورتحال میں بہتری ضروری ہے۔
Barrick Mining کی سرمایہ کاری اور تعمیراتی سرگرمیوں کا مستقبل
کینیڈا کی Barrick Gold Mining اس منصوبے میں 50 فیصد شیئرز کی مالک ہے، جبکہ باقی 50 فیصد حصص بلوچستان حکومت اور پاکستان کے تین سرکاری اداروں کے درمیان برابر تقسیم ہیں۔ ان اداروں میں پاکستان پیٹرولیئم لمیٹڈ (PPL)، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (OGDC) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔
کمپنی سے وابستہ ذرائع کے مطابق منصوبے پر مکمل تعمیراتی سرگرمیاں وسط 2027 تک دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کمپنی کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
اہم بات یہ ہے کہ ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار کم ہونے کے باوجود منصوبے کے تمام ملازمین کو برقرار رکھا گیا ہے۔ تقریباً 700 مستقل اور 2,000 کنٹریکٹ ملازمین اب بھی منصوبے سے وابستہ ہیں، اگرچہ بعض تھرڈ پارٹی سروسز کے معاہدوں کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں دوبارہ جاری نہیں کیا گیا۔
کمپنی کے اندرونی ذرائع کے مطابق تحقیق، انتظامی امور اور مقامی آبادی کی ترقی سے متعلق منصوبے معمول کے مطابق جاری ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں نے منصوبے سے دستبرداری اختیار کرنے کے بجائے موجودہ حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔
منصوبے کی لاگت میں اضافے کا خدشہ
Reko Diq کے مستقبل کے حوالے سے سب سے اہم سوال اس کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔ پہلے مرحلے کی سرمایہ کاری کا تخمینہ ابتدائی 4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 5.6 ارب ڈالر ہو چکا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے مزید 3.5 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس طرح دونوں مراحل پر مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 9.1 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
تاہم، اگر تعمیراتی سرگرمیوں میں مزید تاخیر ہوتی ہے تو منصوبے کی مالی لاگت میں اضافے کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔ بلوچستان میں ایک دوسرے معدنی منصوبے سے وابستہ نجی شعبے کے ایک ذریعے کے مطابق اگر تعمیراتی سرگرمیاں ایک سال کے اندر بحال بھی ہو جائیں تو مجموعی اخراجات میں 8 سے 10 ارب ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق سیکیورٹی صورتحال مزید خراب ہونے یا دو سال سے زیادہ تاخیر کی صورت میں منصوبہ مالی اعتبار سے انتہائی مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم، Reko Diq منصوبے سے کاروباری روابط رکھنے والے ایک دوسرے صنعتی ذریعے نے اس اندازے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تاخیر سے لاگت میں زیادہ سے زیادہ 10 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے، جس کی مالیت تقریباً 450 سے 900 ملین ڈالر بنتی ہے۔
اس اختلاف سے واضح ہوتا ہے کہ منصوبے کے مستقبل کا انحصار صرف تعمیراتی رفتار پر نہیں بلکہ سیکیورٹی، عالمی سرمایہ کاری کے ماحول، مشینری کی لاگت اور مستقبل میں معدنیات کی قیمتوں پر بھی ہوگا۔
پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026، سرمایہ کاروں کی نظریں اسلام آباد پر
پاکستان میں معدنی وسائل کی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات کے حوالے سے آنے والا Pakistan Minerals Investment Forum 2026 بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
Barrick Mining کے چیئرمین جان ایل تھورنٹن رواں ماہ اسلام آباد میں ہونے والے اس فورم میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ ان کی آمد کو ریکو ڈک منصوبے کے مستقبل، سرمایہ کاری کی حکمت عملی اور پاکستان کے معدنی شعبے میں بین الاقوامی اعتماد کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ فورم حکومت پاکستان کے لیے بھی ایک موقع ہوگا کہ وہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں معدنی منصوبوں کی ترقی، سیکیورٹی انتظامات اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے حوالے سے اپنی حکمت عملی سے آگاہ کرے۔
Reko Diq منصوبے کی پاکستانی معیشت کیلئے اہمیت
Reko Diq صرف ایک کان کنی کا منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے برآمدی ڈھانچے، زرمبادلہ کی آمدنی اور صنعتی ترقی کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔ اس منصوبے کو روایتی Open Pit Mining طریقہ کار کے تحت تیار کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے تانبے اور سونے پر مشتمل اعلیٰ معیار کا کنسنٹریٹ حاصل کیا جائے گا۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں سالانہ 45 ملین ٹن خام معدنیات کی پروسیسنگ کی صلاحیت متوقع ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کی تکمیل کے بعد یہ صلاحیت بڑھ کر 90 ملین ٹن سالانہ ہو جائے گی۔
ابتدائی طور پر کان کی آپریشنل مدت 40 سال مقرر کی گئی تھی، لیکن نئے فزیبلٹی جائزے میں اسے 37 سال کر دیا گیا ہے۔ تاہم، مزید معدنی ذخائر کی تلاش اور ترقی کے ذریعے اس مدت کو 80 سال تک بڑھانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
یہ طویل مدتی صلاحیت پاکستان کے لیے اس لیے اہم ہے کہ تانبے کی عالمی طلب میں اضافے کے ساتھ ساتھ توانائی کی منتقلی، الیکٹرک گاڑیوں، بجلی کی ترسیل کے نظام اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی میں Copper کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
فری کیش فلو اور روزگار کے امکانات
منصوبے کے مالی امکانات بھی اس کی اہمیت کو مزید بڑھاتے ہیں۔ طویل مدتی عالمی معدنی قیمتوں کے مفروضوں کی بنیاد پر 37 سال کے دوران تقریباً 74 ارب ڈالر کا Free Cash Flow پیدا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ تعمیراتی سرگرمیوں کے عروج پر تقریباً 7,500 افراد کو روزگار ملنے کی توقع ہے، جبکہ منصوبے کے مکمل آپریشنل ہونے کے بعد تقریباً 4,000 مستقل ملازمتیں برقرار رہ سکتی ہیں۔
تاہم، پاکستان کے لیے اصل معاشی فائدہ صرف روزگار یا معدنی پیداوار تک محدود نہیں ہوگا۔ اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ ملک میں معدنیات کی پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، صنعتی سپلائی چین اور متعلقہ کاروباری سرگرمیوں کو کس حد تک ترقی دی جاتی ہے۔
تانبے کی مقامی پروسیسنگ پاکستان کیلئے ایک چیلنج
ریکو ڈک منصوبے کے حوالے سے ایک اہم بحث معدنی پیداوار کی مقامی پروسیسنگ سے متعلق بھی سامنے آئی ہے۔ صنعتی ذرائع کے مطابق آپریٹر مبینہ طور پر تانبے اور سونے کی مجموعی پیداوار کا صرف 30 سے 35 فیصد پاکستان میں پروسیس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ باقی پیداوار کو آسٹریلیا میں موجود اپنی پروسیسنگ سہولت تک منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے مقامی صنعتی ترقی اور اضافی ویلیو ایڈیشن کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ملک کے اندر جدید پروسیسنگ کی سہولیات قائم کی جائیں تو نہ صرف برآمدی آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ مقامی صنعت، تکنیکی مہارت اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
اسی تناظر میں بعض حلقے مقامی کمپنیوں کے ایک کنسورشیم کو منصوبے میں اقلیتی دینے کی تجویز بھی پیش کر رہے ہیں، تاکہ پاکستانی کاروباری اداروں کی شمولیت اور مقامی معاشی فوائد کو بڑھایا جا سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ
مجموعی طور پر Reko Diq Project کے لیے اگلے دو سال انتہائی اہم دکھائی دیتے ہیں۔ بلوچستان میں سیکیورٹی کی بہتری، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور Barrick Mining کے داخلی جائزے کی تکمیل اس منصوبے کی تعمیراتی رفتار کا تعین کریں گے۔
اگر کمپنی 2027 کے وسط تک مکمل تعمیراتی سرگرمیاں بحال کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو 2030 تک پیداوار شروع کرنے کا ہدف قابل عمل رہ سکتا ہے۔ تاہم، مزید تاخیر کی صورت میں سرمایہ کاری کے اخراجات بڑھنے، متوقع آمدنی مؤخر ہونے اور پاکستان کے معدنی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر دباؤ آنے کا خدشہ موجود ہے۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف ریکو ڈک سے تانبے اور سونے کی پیداوار شروع کرنا نہیں بلکہ اس منصوبے کو ایک ایسی صنعتی بنیاد میں تبدیل کرنا ہے جو طویل مدت میں برآمدات، زرمبادلہ، مقامی روزگار اور معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ریکو ڈک منصوبے میں دو سال کی تاخیر پاکستان کی ابھرتی ہوئی مائننگ انڈسٹری پر طویل المدتی اثرات مرتب کرے گی؟ یا بیرک مائننگ اسلام آباد میں ہونے والے فورم کے بعد کام کی رفتار تیز کر دے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!
اہم وضاحت
Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔
سورس (Source)
Dawn Newspaper: Reko Diq project may face further delay - Newspaper - DAWN.COM
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامین
SECP کی منظوری، BOP کے لیے پنجاب حکومت کی 20 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار
SECP اور اقراء یونیورسٹی کا خواتین کے لیے Shariah Compliant سرمایہ کاری چیلنج کا آغاز
شرح سود 12 فیصد پر آ گئی ۔ SBP Monetary Policy کا اعلان کر دیا گیا
تبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔