پاکستانی معیشت سخت مانیٹری پالیسی کے باعث دباؤ کی شکار رہی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک

مالیاتی اصلاحات کا عمل جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ ADP کی تجویز

پاکستانی معیشت سخت مانیٹری پالیسی کے باعث دباؤ کی شکار رہی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جاری کردہ رپورٹ میں Growth Rate کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔

پاکستانی معیشت پر ایشیائی بینک نے اپنی رہورٹ میں کیا کہا ؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022-23 میں پاکستانی معاشی شرح نمو (Growth Rate) کے علاوہ Headline Inflation , میکرو اکنامک استحکام اور قدرتی آفات کے سبب شدید دباؤ کی شکار رہی۔ آئندہ مالی سال کے دوران IMF پروگرام کے تحت اصلاحاتی عمل جاری رکھا گیا تو صورتحال میں بتدریج بہتری آئے گی۔

ادارے کے مطابق 2023ء میں مہنگائی توقع سے زیادہ رہی۔ اور آئندہ مالی سال بھی اس حوالے سے مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم 2025ء میں افراط زر میں نمایاں کمی آئیگی۔

ایشیائی معیشت میں چینی کردار

رپورٹ میں ایشیائی مملک کو کساد بازاری سے بچانے کیلئے چین کے کردار کی تعریف کی گئی ہے، جس نے پیسیفک اور جنوبی ایشیائی ممالک میں رسد اور مالیاتی لیکوئیڈٹی کو یقینی بنا کر افراط زر کو ایک خاص لیول پر کنٹرول کئے رکھا۔ تحقیقاتی رہورٹ میں رواں سال چینی شرح نمو 5 فیصد تک بحال ہونیکی پیشگوئی بھی کی گئی ہے۔ جس سے عالمی سطح پر استحکام رسد پیدا ہونے میں مدد ملے گی۔

پاکستانی معیشت سخت مانیٹری پالیسی کے باعث دباؤ کی شکار رہی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک

ڈیٹا مرتب کرنیوالی ٹیم کے سربراہ نے اہنے اضافی نوٹ میں کہا ہے کہ Covid کے بعد ایشیائی معیشتیں تیزی سے بحالی کی طرف گامزن ہیں۔ جبکہ تھائی لینڈ ، ملائیشیا اور مشرق بعید کے دیگر ممالک سیاحت کے شعبے میں سرگرمیاں بحال کرنے میں کامیاب رہے ہیں جو ان ممالک کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ تاہم خطے میں صنعتی سرگرمیان آئندہ سال کے دوران بھی کمزور رہیں گی جس سے برآمدی شعبے کا منظرنامہ منفی رہے گا۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button