پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 300 سے اوپر آ گیا۔

پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ تین روز کے وقفے سے دوبارہ شروع ہو گیا آج اوپن مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیاں شروع ہونے پر امریکی ڈالر دوبارہ 300 کا نفسیاتی مارک عبور کر گیا۔ واضح رہے کہ 9 مئی کے بعد پیدا ہونیوالی غیر یقینی صورتحال نے ملک کے معاشی اعشاریوں (Financial Indicators) پر انتہائی منفی اثرات مرتب کئے۔ تاہم 12 مئی کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے بعد USDPKR دوبارہ 284 روپے پر آ گیا تھا۔ گذشتہ دو روز میں پاکستانی روپیہ دوبارہ شدید دباؤ میں نظر آ رہا ہے اور اس میں 16 روپے کی کمی آئی یے۔

پاکستانی روپے میں گراوٹ کا سلسلہ کہاں رکے گا ؟

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان اسوقت سنگین معاشی بحران کا شکار ہے ، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی کم ترین سطح پر ہیں۔ ARY News کے تجزیہ کار اور پاکستانی معیشت پر گہری نظر رکھنے والے ممتاز صحافی آصف قریشی کا کہنا ہے کہ IMF پروگرام کی بحالی میں تاخیر سے ملک کے معاشی اعشاریے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ حالیہ عرصے کے دوران کیپیٹل مارکیٹ سے بڑے پیمانے پر سرمائے کا انخلاء ہوا۔ انکے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی کمی ہے اور طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

 

سیاسی عدم استحکام بھی اسکی بڑی وجہ ہے۔ کیونکہ Foreign Direct Investment کا دارومدار اسی پر ہے۔ آصف قریشی نے کہا کہ انٹر بینک اور ہنڈی کی شرح تبادلہ میں نمایاں فرق کے باعث بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیل زر میں بھی کمی ہوئی ہے اور بلیک مارکیٹ دوبارہ اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بجٹ پیش ہونے اور عالمی مالیاتی فنڈ کے کسی واضح اعلان تک روپے کی قدر میں گراوٹ جاری رہے گی۔

اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ گذشتہ سال اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے سے لے کر اب تک ڈالر کی قدر میں 116 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔۔ حکومت  کی طرف سے عالمی ادارے کے تمام مطالبات کی منظوری اور پیشگی قانون سازی کے باوجود نویں جائزے کی تکمیل ڈیڈلاک کی شکار ہے۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے پروگرام میں تاخیر 

IMF کی آخری شرط دوست ممالک سے معاشی امداد اور فائنانسنگ کی تحریری ضمانت حاصل کرنا تھا۔ اس سلسلے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین نہ صرف پاکستان بلکہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کو بھی گارنٹیز دے چکے ہیں۔ نیز چین نے 1 ارب 30 کروڑ ڈالرز اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل بھی کر دیئے ہیں۔ اسکے باوجود ابھی تک معاہدے کا کوئی  شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔ جس سے آنیوالے دنوں میں ملکی معیشت پر ڈیفالٹ کے بادل مزید گہرے ہوں گے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button